15 جولائی فتح جمہوریت: عوامی حاکمیت کے لیے حوصلہ افزا اور فوجی حاکمیت کے لیے مایوسی کا دن

0 2,362

مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ اور بلقان کے علاوہ پاکستان سمیت ہر اس ملک نے 15 جولائی 2016ء کا دن دیکھا جب عوامی قوت نے اپنی رائے سے بنائی گئی حکومت کے مقابلے میں فوجی ٹینکوں کو ہزیمت سے دوچار کیا۔ یہ ان سارے خطوں میں جہاں عوامی آراء کو وقعت نہیں دی جاتی عوام حلقوں کے لیے حوصلہ افزائی کا لمحہ تھا لیکن بعض عناصر کے لیے بہت پریشان کن تھا جن کے عہدے اور نوکریاں فوجی حاکمیت سے نشو و نما پاتی ہیں اور وہ ہمیشہ فوج کو سیاست میں خوش آمدید کہتے ہیں۔ ترک ملت کی اس شاندار اور تاریخ ساز مزاحمت اور کامیابی کا جہاں بڑے پیمانے پر خیرمقدم کیا گیا وہیں کئی حکومتوں اور فوجی طاقتوں کے لیے قابل نفرت عمل ٹھہرا۔

ترک عوام ایسے کئی فوجی بغاوتوں کو کئی بار سہہ چکے ہیں۔ 1960ء، 1971ء اور 1997ء کے وہ ظالمانہ فوجی چہرے جنہوں نے عوامی نمائندوں سے اختیارات چھین کر نہ صرف اپنی طاقت کو باور کروانا چاہا بلکہ سیکولرازم جیسی اقدار کو مضبوط کرنے کی کوشش کی۔ تین سال قبل، آج کے ہی دن ترک عوام کو ایک اور نوعیت کی فوجی بغاوت کا سامنا تھا جس میں عسکری ہتھیاروں اور فوجیوں کو دوبارہ سڑکوں پر دیکھا گیا۔ ترک قومی ٹیلی ویژن "تے رے تے” پر فوجی باغیوں نے قبضہ کر لیا اور اعلان کر دیا گیا کہ اب ملک پر فوجی قبضہ ہو چکا ہے۔

لیکن اس بار گزشتہ بغاوتوں کے مقابلے سے بہت زیادہ مختلف منظرنامہ دیکھا گیا کیوں کہ ترک تاریخ کے مقبول سیاستدان رجب طیب ایردوان کی حکومت تھی۔ ترک صدر ایردوان نے قوم کو پکارا اور کہا کہ پوری ترک فوج اس بغاوت میں شامل نہیں ہے بلکہ ایک مخصوص فوجی گروہ کی طرف سے یہ بغاوت کی جا رہی ہے۔ عوام نے اپنے محبوب لیڈر کی آواز پر لبیک کہا اور سڑکیں چند لمحوں میں بھر گئیں۔ اس میں صرف ایردوان کے حامی ہی نہیں ایردوان کے مخالف جمہوریت پسند طبقات بھی شامل تھے جو عوامی حاکمیت کو مسائل کا حل سمجھتے تھے۔ رات بھر خوب مزاحمت ہوئی اور 251 شہری شہید جبکہ 2200 سے زائد زخمی ہو گئے۔

ایک طرف ترک قوم مخصوص فوجی گروہ کی مزاحمت کر رہے تھی، سینوں پر گولیاں کھا رہی تھی اور ٹینکوں تلے کچلی جا رہی تھی تو دوسری طرف دنیا بھر میں کئی فوجی بغاوتوں کے مدعا سرا خوشی سے پھولے نہیں سما رہے تھے اور خبریں بریک کر رہے تھے کہ ایردوان فرار ہو چکے ہیں۔ مثال کے طور کئی پاکستانی صحافیوں کی خوشی دیدنی تھی، مصری اور عرب میڈیا ایردوان کے جانے پر رپورٹیں پیش کر رہا تھا۔ حتی کہ صبح تک جب بغاوت ناکام ہو چکی تھی بعض میڈیا ایردوان کی رخصتی کی خبریں شائع کر رہے تھے۔ صبح جب صورتحال واضع ہوئی تو اسی میڈیا اور انہی صحافیوں کی جانب سے لوگوں کو ایک نئی سازشی کہانی کے پیچھے لگانے کی کوششیں شروع ہو گئیں کہ یہ پلانٹڈ بغاوت تھی۔ ان فوجی پالشیوں کے یہ حقیقت بالکل غیر یقینی تھی کہ فوجی جنریل بغاوت کریں اور عوام اسے عوامی قوت سے ناکام بنا دیا۔ اسے ان کا دل و دماغ قبول کرنے کو تیار نہیں تھا۔

آج بھی ان خطوں کی عوامی اکثریت ترک قوم کی اس مزاحمت کو حوصلہ افزاء سمجھتی ہے جبکہ کئی عرب و غیر عرب ریاستیں جہاں جبر کی بادشاہتیں قائم ہیں یا فوجی طاقت ہی فیصلہ ساز سمجھی جاتی ہیں، 15 جولائی کا دن جب بھی آتا ہے شکست خوردگی کا سبب بنتا ہے۔

 

 

 

تبصرے
Loading...