سوشل میڈیا پر ‘ملک دشمن’ پوسٹس کرنے پر کشمیری صحافی کے خلاف مقدمہ درج

0 346

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی پولیس نے ایک خاتون فوٹوجرنلسٹ کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر "ملک دشمن سرگرمیوں” میں ملوث ہیں۔

26 سالہ فوٹو جرنلسٹ مسرت زہرہ سری نگر سے تعلق رکھتی ہیں اور مقدمے میں اُن پر الزام لگایا جا رہا ہے کہ وہ "نوجوانوں کو اُکسانے کے لیے (فیس بک پر) ملک دشمن پوسٹس کر رہی ہیں۔”

سری نگر کے سائبر پولیس اسٹیشن کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ انہیں قابل اعتمادِ ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ ایک فیس بک یوزر ‘مسرت زہرہ’ مجرمانہ ارادوں کے ساتھ ملک دشمن پوسٹس کر رہی ہیں۔ "فیس بک یوزر ایسی تصویریں بھی اپلوڈ کر رہی ہیں جو امن عامہ کو خراب کر سکتی ہیں۔وہ ایسی پوسٹس بھی کر رہی ہیں جو ملک دشمن سرگرمیوں کو سراہتی ہوئی نظر آ رہی ہیں اور ملک کے خلاف عدم اطمینان کا سبب بننے کے ساتھ ساتھ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچا رہی ہیں۔”

پولیس نے ایف آئی آر درج کرتے ہوئے اس معاملے پر تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔ مسرت زہرہ کو منگل کو تھانے میں طلب کیا گیاہے۔

بھارت کا غیر قانونی سرگرمیوں سے تحفظ کا ایکٹ (UAPA) حکومت کو کسی بھی شخص کو دہشت گرد قرار دے کر پکڑنے اور وفاقی ادارے نیشنل انوسٹی گیشن ایجنسی کو ایسے معاملات کی تحقیق کرنے کا اختیار دیتا ہے۔ اس الزام کے تحت کسی بھی فرد کو سات سال قید تک کی سزا ہو سکتی ہے۔

زہرہ نے سوموار کو الجزیرہ کو بتایا کہ پولیس اور سرکاری ادارے "کشمیر کے صحافیوں کی آواز دبانا چاہتے ہیں۔ پولیس نے پوری ایف آئی آر میں کہیں اس بات کا ذکر نہیں کیا کہ میں صحافی ہوں۔ انہوں نے محض یہ کہا ہے کہ میں ایک فیس بک یوزر ہوں۔”

زہرہ کا کہنا ہے کہ سالہاسال سے جاری صحافتی سرگرمیوں کے دوران جو کام پہلے شائع ہو چکا ہے، اس پر انہیں ایسے الزامات کا سامنا ہے، جو اُن کے لیے "حیران کُن” ہے۔ "میں اپنی پرانی تصاویر شیئر کرتی رہتی ہوں جو پہلے ہی مختلف بھارتی اور بین الاقوامی ادارے سوشل میڈیا پر شائع کر چکے ہیں لیکن اب جا کر مجھ پر مقدمہ کیا گیا ہے۔”

زہرہ کا کام واشنگٹن پوسٹ، دی نیو ہیومینی ٹیرین، TRT ورلڈ، الجزیرہ، دی کاروان اور دیگر پر شائع ہو چکا ہے۔

دوسری جانب کشمیر کے صحافیوں نے زہرہ کے خلاف الزامات کی سخت مذمت کی ہے۔ پیر کو کشمیر پریس کلب نے ان کےخلاف الزامات پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے اور بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ سے اس معاملے میں مداخلت کی اپیل کی ہے۔

تبصرے
Loading...