کشمیرریسرچ گروپ، قونیہ کے زیراہتمام کشمیر سیمینار، ڈاکٹر غلام محمد فائی کی شرکت

0 1,422

عمیر پرویز خان، پی ایچ ڈی اسکالر، سلجوق یونیورسٹی، قونیہ

”پاکستان کے کئی ممالک دُشمن ہوں گے، کم تعداد میں ہمدرد ملک ہوں گے، بہت کم ممالک دوست ہوں گے لیکن صرف ایک بھائی مملکت ہے اور وہ تُرکی ہے “ یہ الفاظ انقرہ یونیورسٹی کی ایک طالبعلم کے ٹویٹ کے ہیں۔ ان الفاظ کو میں نے تاریخ کے ترازو میں تولنے کی کوشش کی تو اس میں کوئی مبالغہ آرائی نظر نہ آئی کہ دونوں ممالک کی عوام اور حکومتوں نے ایک دوسرے کے مشکل اوقات میں ہر ممکن مدد کی۔ ترک عوام اور بالعموم بزرگ برصغیر کے مسلمانوں کی طرف سے خلافت عثمانیہ اور اُن کی جنگ آزادی کے دوران تعاون اور مدد کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تُرکی نے پاکستان کو دنیا کے نقشہ پر آزاد ملک ماننے کے لئے کسی لیت ولعل سے کام نہ لیا تھا۔ اس کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات مظبوط ہوتے گے اور پاکستان کا اقوام متحدہ میں داخلہ کے لئے بھی تُرکی نے اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔

پاکستانی ریاست اور عوام نے بھی ہمیشہ ترکی کی مدد کے لئے کوئی کسر آٹھا نہ رکھی۔ پاکستان دُنیا میں واحد ملک ہے جس نے تُرکی اور آذر بائجان کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے آرمانیہ کو ابھی تک خودمختار ریاست تسلیم نہیں کیا ہے اور نہ اس سے کسی قسم کے سفارتی تعلقات رکھے ہیں۔ اس کے علاوہ مختلف بین الاقوامی فورمز پر تُرکی کے موقف کی حمایت کی ہے جس میں سہشت گردی کے خلاف جنگ سمیت کئی حساس معاملات شامل ہیں۔
اسی کے تسلسل میں تُرکی اور پاکستان نے قدرتی آفات کے دوران بھی ایک دوسرے کی کھل کر مدد کی ہے۔ 2005ء کے ہولناک زلزلہ کے بعد تُرک ڈاکٹروں، رضاکاروں ا ور عوام کی مدد کا راقم عینی شاہد ہے۔ آزاد کشمیر میں بے شمار عمارتیں تُرکی حکومت کی طرف سے تعمیر کی گئی ہیں۔ بلاشبہ 2005ء کے زلزلہ میں تُرکی کی عوام اور حکومت نے پاکستان اور کشمیری عوام کی دل کھول کر مدد کی۔

پاکستان دُنیا میں واحد ملک ہے جس نے تُرکی اور آذر بائجان کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے آرمانیہ کو ابھی تک خودمختار ریاست تسلیم نہیں کیا ہے اور نہ اس سے کسی قسم کے سفارتی تعلقات رکھے ہیں

تُرکی کے موجودہ صدر رجب طیب اردگان نے پاکستان کے ساتھ تعلق کو مزید مظبوط کرنے کے لئے خصوصی توجہ دی ہے اور ان کے پاکستان کے کئی دورے اس کا ثبوت ہیں۔ اُن کے ان اقدامات کے نتیجہ میں پاکستانی حکمرانوں جن میں میاں نواز شریف اور اب موجودہ وزیراعظم عمران خان شامل ہیں نے بھی تُرکی کے ساتھ تعلقات پر خصوصی توجہ دی ہے۔ اس ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل کونسل کے اجلاس کے دوران عمران خان،رجب طیب اُردگان اور مہاتیر محمد نے اسلام کے خلاف مغرب میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت کے خاتمہ کے لئے اسلام کی تعلیمات کی صحیح انداز میں ترویج کے لئے ایک ٹی وی چینل کا قیام عمل میں لانے پر اتفاق کیا ہے جو تینوں ممالک کی مشترکہ کوشش ہوگی۔

اس کے علاوہ تُرکی نے کشمیر کے حوالے سے ہمیشہ پاکستان کے موقف کو سرہایا ہے اور ہندوستان کے مظالم کی مذمت کی ہے۔ حالیہ اقوام متحدہ کے اجلاس کے دوران بھی تُرکی اور ملائشیاء نے ہی کشمیر کے حل کے حوالے سے جاندار موقف اپنایا ہے۔ ۵ اگست کے مودی حکومت کے اقدام کے بعد تُرکی کی حکومت اور عوام نے مسلسل سفارتی سطح پر کشمیریوں اور پاکستان کے موقف کی تائید کی ہے۔ گزشتہ دو ماہ میں کئی بین الاقوامی کانفرنسز کا انعقاد استنبول، ازمیر، عنقرہ اور کونیا میں کروایا جا چکا ہے۔ اسی کے پیش نظر کشمیر ریسرچ گروپ کے زیر اہتمام کونیا میں ایک سیمینار بعنوان "Kashmir : Right to Self Determinition is the way Forward” کرایا گیا جس میں بین الاقوامی شہرت یافتہ اور ورلڈ کشمیر اوئیرنیس فورم کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹرغلام محمد فائی، استنبول یونیورسٹی کے جمال دیمیر، ڈاکٹر حیات انلو، ڈاکٹر وحید رسول، نذیر احمد قریشی، عمیرپرویز خان ، شہریارعزیز، شباب عثمانی سمیت بڑی تعداد میں یونیورسٹی طلبا و طالبات نے شرکت کی۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض کشمیر ریسرچ گروپ کی شیمہ پولات نے سرانجام دئیے۔

پروگرام میں خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر غلام محمد فائی نے کہا کہ جب پاکستان اور ہندوستان کے علاوہ کوئی ملک کشمیر کے حوالے سے بات کرتا ہے تو یہ یقنیناً ہندوستان کی سفارتکاری کی موت ہوتی ہے۔ یہاں قونیہ میں اس طرح کا پروگرام یقنیناً کشمیری نوجوانوں کے لیے حوصلہ افزائی کا باعث ہے۔ انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں جاری ہندوستانی مظالم کی مذمت کی اور ترک نوجوانوں کے جذبہ کو سراہا۔

اس کے علاوہ جمال دیمیر اور ڈاکٹر انلو نے اپنے اپنے خطابات میں کشمیر کے مسئلہ کو گہرائی سے بیان کرتے ہوئے ہندوستان اور پاکستان کا کشمیر کے پانیوں پر انحصار کی بات کی۔اور کہا کہ کشمیر دونوں ممالک کے لیے اہم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیر کا مسئلہ حل ہونا جنوبی ایشیاء کے امن کے لیے ناگزیز ہے۔

سیمینار کے بعد ترک طالب علموں کے ساتھ ڈاکٹر غلام محمد فائی، ڈاکٹر وحید رسول، عمیر پرویز خان اور نذیر قریشی کی نشت ہوئی جس میں ترک طلبا و طالبات کے سوالات کے جوابات دئیے گئے۔

اس طرح کے سیمینارز کا ترکی میں تواتر کے ساتھ ہونا یقینناً ہندوستان کی سفارتکاری کے لیے ایک چیلنج ہے۔ بحیثیت کشمیری راقم "کشمیر ریسرچ گروپ، قونیہ” اور ترک طالب علموں جن میں شیمہ پولات، طوبیٰ فدانجی، حسن سرکاریہ اور عزیزہ زہرہ سمیت دیگر تمام اکیڈمیشن کا شکر گزار ہے کہ وہ کشمیر کے حق خود ارادیت کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں۔

یقیناً اورسیز پاکستانی اور کشمیروں کی بھی کشمیرکاز کے لیے گراں قدر خدمات ہیں اور وقت کی ضرورت بھی ہےکہ مسئلہ کشمیر کو دنیا کے مختلف ممالک میں اجاگر کیا جائے اور سفارتی کوششوں کو صرف   مغرب کے دارالحکومتوں تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ ہر ممکن مدد کے لیے کوششوں کو تیز کیا جائے۔ اس ضمن میں جہاں کہیں بھی پاکستانی اور کشمیری ہیں بالخصوص طلباء کمیونٹی ان کو چاہیے کہ وہ اپنا فرض پورا کریں۔

تبصرے
Loading...