بھارت کے ساتھ تمام معاہدے ختم کر دیے جائیں، حریت رہنما کا پاکستان سے مطالبہ

0 216

مقبوضہ کشمیر کے ایک اہم حریت رہنما سید علی شاہ گیلانی نے وزیر اعظم پاکستان عمران خان سے مطالبہ کیا ہے کہ اسلام آباد بھارت کے ساتھ تمام امن معاہدے ختم کر دے اور لائن آف کنٹرول کو ایک مرتبہ پھر سیزفائر لائن کی حیثیت دینے کا اعلان کرے۔

تقریباً ایک دہائی سے گھر میں نظر بند 92 سالہ حریت رہنما سید علی شاہ گیلانی نے کہا ہے کہ "جب بھارت نے یکطرفہ طور پر تمام دو طرفہ معاہدے ختم کر دیے ہیں تو پاکستان کو بھی معاہدہ تاشقند، شملہ و لاہور کے خاتمے کا اعلان کر دینا چاہیے۔”

"پاکستان کو لائن آف کنٹرول کو سیزفائر لائن مقرر کر دینا چاہیے کیونکہ بھارت حالات کو ایک مرتبہ پھر ‏1947-48ء‎ کی سطح پر لے آیا ہے،” گیلانی نے کل جماعتی حریت کانفرنس کی جانب سے جاری کردہ ایک خط میں کہا۔

"بھارت کی جانب سے 5 اگست 2019ء کو جموں و کشمیر کی حیثیت زبردستی ختم کرنا اور ریاست کو ٹکڑوں میں تقسیم کر دینا اس کی بین الاقوامی طور پر متنازع حیثیت کو تبدیل کرنے کی کوشش ہے۔ یہ یکطرفہ قدم اقوام متحدہ کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی ہے کہ جو عوام کو حقِ خود ارادیت دیتی ہیں۔” انہوں نے کہا۔

لاک ڈاؤن کے 100 دن

یہ بیان ایسے موقع پر آیا ہے جب جموں و کشمیر میں بھارتی لاک ڈاؤن کو 100 دن مکمل ہو چکے ہیں۔ بھارت نے اگست کے اوائل میں اس متنازع علاقے کی تاریخی نیم خود مختارانہ حیثیت کا خاتمہ کیا تھا۔

نئی دہلی نے 5 اگست کو ایک فرمان جاری کیا تھا کہ جس کے تحت 1947ء میں مہاراجہ کشمیر کے دستخط کردہ عارضی معاہدے کے تحت کشمیر کی آئینی حیثیت کا یک طرفہ طور پر خاتمہ کیا گیا۔

اس فیصلے کے ساتھ ایک زبردست کریک ڈاؤن کا آغاز ہو گیا کہ جس میں وادی میں پہلے سے موجود 5،00،000 فوجیوں کے ساتھ ہزاروں اضافی فوجی تعینات کیے گئے، سخت کرفیو لگایا گیا اور ہزاروں افراد کو گرفتار کرکے رابطے کے تمام ذرائع بھی ختم کر دیے گئے۔

اب تک متعدد پابندیاں نرم ہو چکی ہیں، جیسا کہ سڑکوں پر روک ٹوک کی پابندیاں کم ہو گئی ہیں اور لینڈلائنز اور سیل فون سروسز بھی کسی حد تک بحال کی گئی ہیں۔ طلبہ کی اسکولوں کو واپسی اور کاروباروں کو دوبارہ کھولنے کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے لیکن کشمیری خوف اور دھمکی آمیز فضاء میں بڑی حد تک اپنے گھروں تک محدود ہیں۔

دوسری جانب کریک ڈاؤن بھی جاری ہے اور یہی وج ہے کہ کشمیری اپنی عام زندگی دوبارہ شروع کرنے سے انکاری ہیں اور یوں اپنی معاشی قربانی دے کر بھارت کے منصوبوں کو تباہ کر رہے ہیں۔

نئی دہلی کہتا ہے کہ محدود خود مختاری کا خاتمہ اس متنازع علاقے کی ترقی کے لیے کیا گیا ہے، لیکن کشمیریوں کا کہنا ہے کہ بھارت یہاں ہندوؤں کی آباد کاری کے ذریعے علاقے کی مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنا چاہتا ہے۔

اس "غیر قانونی قبضے” کے بعد پاکستان کے ساتھ تعلقات کافی کشیدہ ہو گئے ہیں کہ جس نے باہمی تجارت، نقل و حمل اور بھارت کے سفیر کی ملک بدری جیسے اقدامات اٹھائے ہیں۔

لائن آف کنٹرول کی حیثیت

سید علی گیلانی نے عمران خان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ "جموں و کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرل کی حیثیت کو تبدیل کرنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات اٹھائیں۔ ان کے ساتھ ساتھ حکومت پاکستان کی جانب سے اقوامِ متحدہ میں بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر کوششیں کرنا بھی ضروری ہے تاکہ جموں و کشمیر کے لوگوں کو وہ حقِ خود ارادی مل سکے کہ جس کا اُن سے وعدہ کیا گیا تھا۔ اگر بھارت اس مطالبے کو بدستور رد کرے تو پاکستان کو بھارت کے خلاف اقدامات اٹھانے اور پابندیاں لگانے کا مطالبہ کرنا چاہیے۔”

بااثر کشمیری رہنما سید علی گیلانی نے موجودہ صورت حال کو سنگین قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ "ہو سکتا ہے کہ یہ میرا آپ سے آخری رابطہ ہو، ممکن ہے کہ خراب صحت اور بڑھاپا مجھے آپ سے دوبارہ رابطہ کرنے کا موقع نہ دے۔ قوموں کی زندگیوں میں چند لمحے ایسے آتے ہیں جن میں دلیرانہ اقدامات اٹھانا ضروری ہو جاتا ہے۔ ایسے لمحوں میں کوئی بھی تاخیر قوم کو زوال اور شکست کی جانب لےجا سکتی ہے۔”

انہوں نے کہا کہ بھارت کشمیر کے سیاسی کردار کو مکمل طور پر تبدیل کرنا چاہتا ہے اور "اور ہم سے ہماری زمین بھی چھیننا چاہتا ہے۔ یہ اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کی سرزمین ہتھیانے اور وہاں آباد کاری کرنے جیسا عمل ہے کہ جہاں اب فلسطینی عوام کو دھمکایا جاتا ہے۔”

کشمیری رہنما نے کہا کہ پاکستان کو ایک مشترکہ پارلیمانی اجلاس طلب کرنا چاہیے اور سرکاری سطح پر اقدامات اٹھانے چاہئیں۔ "اس میں واضح کرنا چاہیے کہ بھارت کی جانب سے متنازع خطے کی حیثیت تبدیل کرنے کے لیے اٹھایا جانے والا قدم اور ایک نیا منظرنامہ کشمیریوں کے مزید قتلِ عام اور اُن پر مظالم کا ارادہ اعلانِ جنگ جیسا ہے۔ پاکستان کو اس اعلانِ جنگ کے مطابق قدم اٹھانا چاہیے۔ جموں و کشمیر کے عوام کسی بھی صورتِ حال کے لیے تیار ہیں۔”

نئی دہلی کا براہِ راست اقتدار

بھارت اور پاکستان دونو ں کشمیر کے کچھ حصوں پر حکومت کرتے ہیں اور پورے کشمیر پر دعویٰ رکھتے ہیں۔ چین بھی کچھ حصوں پر حاکم ہے، لیکن بھارت اور پاکستان 1947ء سے اب تک کشمیر پر تین جنگیں لڑ چکے ہیں۔

یہ علاقہ جون 2018ء میں نئی دہلی کے براہِ راست اقتدار میں آیا جب وزیر اعظم نریندر مودی کی قوم پرست بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنی مقامی اتحادی جماعت سے تعلق توڑتے ہوئے منتخب مقامی حکومت تحلیل کر دی۔ اس کے بعد سے مقامی اسمبلی کے لیے انتخابات تاخیر کا شکار ہوتے رہے اور یہ علاقہ بھارتی صدر کے اقتدار میں چلا گیا۔

مزاحمتی گروپوں کا مطالبہ ہے کہ کشمیر یا تو پاکستان کے ساتھ الحاق کرے گا یا آزادانہ حیثیت اختیار کرے گا۔

کشمیر کی مسلم اکثریتی آبادی میں بھارت مخالف احساسات بہت گہرے ہیں اور زیادہ تر لوگ ان گروپوں کی حمایت کرتے ہیں کہ جو وہاں بھارتی حکومت کے خلاف لڑ رہے ہیں۔

1989ء میں بھارتی فوج کے کریک ڈاؤن کے بعد سے اٹھنے والی مزاحمت میں اب تک تقریباً 1،00،000 لوگ جان سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔

تبصرے
Loading...