استنبول میں دنیا کی واحد بین البراعظمی میراتھون، کینیا اور ایتھوپیا کے کھلاڑی چھا گئے

0 125

کینیا کے ایتھلیٹ ڈینیل کپ کور کبٹ نے 42 کلومیٹرز کا فاصلہ ریکارڈ وقت میں عبور کرتے ہوئے 41 ویں استنبول میراتھون جیت لی جبکہ ایتھوپیا کی ہیروت تبیبو نے اس بین البراعظمی میراتھون میں خواتین کا ٹائٹل جیتا۔

کل 63 معروف ایتھلیٹس نے 41 ویں استنبول میراتھون میں حصہ لیا جو صبح 9 بجے استنبول کے ایشیائی حصے سے شروع ہوئی اور یورپی علاقے میں تکمیل کو پہنچی۔

میراتھون کو تین زمروں میں تقسیم کیا گیا تھا: 42.2 کلومیٹرز کی میراتھون، 15 کلومیٹرز رَن، 8 کلومیٹر فن رَن کے ساتھ ساتھ ویل چیئر مقابلہ بھی۔ 106 ممالک کے کھلاڑیوں نے اس دوڑ میں حصہ لیا جبکہ 8 کلومیٹر کی فن رَن میں ہزاروں لوگ شریک ہوئے۔

دوڑ شہر کے یورپی علاقے میں تاریخی سلطان احمد چوک پر مکمل ہوئی۔ 2019ء کی میراتھون کا نعرہ تھا "استنبول ہمارا ہے، رکیں نہیں، دوڑیں!”

مردوں اور عورتوں کی کیٹیگریز میں 2019ء میراتھون کے فاتحین کو 50,000 ڈالرز فی کس دیے گئے۔ ترک کھلاڑیوں کے زمرے میں جیتنے والے مرد اور عورت دونوں کو 50,000 ترک لیرا دیے گئے۔

شہدائے 15 جولائی پُل، جسے پہلے باسفورس پل کہا جاتا تھا، نے پہلی بار 1979ء میں بین البراعظمی میراتھون دیکھی تھی۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ ترکی کا سب سے مقبول اسپورٹس ایونٹ بن گیا۔

پہلی یوریشیا مریاتھون حسن سیلان نے جیتی تھی جو ایک ترک کھلاڑی تھے جنہوں نے یہ فیصلہ 2 گھنٹے 35.39 منٹوں میں طے کیا۔

وقت کے ساتھ ساتھ اس میراتھون کے راستے تبدیل ہوتے رہے اور یہی وجہ ہے کہ جیتنے والے کھلاڑیوں کے اوقات مختلف رہے ہیں۔

معروف کھلاڑی این تھامسن اور ٹیری مچل بھی اس میں حصہ لے چکے ہیں اور یہ ترک کھلاڑیوں کے لیے بھی ایک اہم میدان رہا ہے۔

استنبول میراتھون 2012ء سے ایتھلیٹکس کی بین الاقوامی انجمن IAAF کی گولڈ لیبل روڈ ریس فہرست میں شامل ہے۔

تبصرے
Loading...