جمال خاشقجی کا ظالمانہ قتل منصوبہ بندی کے ساتھ کیا گیا، اقوام متحدہ

0 1,081

اقوام متحدہ کے ايک تفتیشی ماہر نے امریکی نژاد سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کو ظالمانہ اور منصوبے بندی کے ساتھ کی گئی ايک کارروائی قرار ديا ہے۔

ماورائے عدالت قتل کے واقعات کی تفتيش کرنے والی ماہر ايگنس کالامارڈ نے اپنی تفتيش کے ابتدائی نتائج کا اعلان گزشتہ روز کيا جبکہ حتمی اور تفصيلی رپورٹ اس سال جون ميں جاری کی جائے گی۔ کالامارڈ نے يہ بھی کہا کہ سعودی عرب نے استنبول ميں سعودی قونصل خانے ميں گزشتہ برس اکتوبر ميں قتل ہونے والے خاشقجی کے قتل کی تحقيقات کے عمل ميں بھی رکاوٹيں ڈالنے کی کوشش کی تھی۔

ان کے مطابق ترک تفتيش کاروں کو بہت کم وقت ديا گيا اور چيزون تک رسائی بھی انتہائی محدود تھی۔ اس کےسبب یہ تفتیشی کارروائی بین الاقوامی معیار تفتیش پر پورا نہیں اُترتی۔

اس سے قبل ترک صدر رجب طیب ایردوان اپنی پارلیمانی پارٹی سے خطاب کرتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ ترکی کے پاس ٹھوس ثبوت موجود ہیں کہ دو اکتوبر کو سعودی قونصل خانے میں جمال خاشقجی کے ظالمانہ اور وحشیانہ قتل کی منصوبہ بندی پہلے سے کی گئی تھی۔

Photo: iblagh

24 فروری 2019ء کو جمال خاشقجی کے قتل کی اقوام متحدہ کے تحت تفتیش کے لیے ٹیم تشکیل دی گئی تھی۔ جبکہ ترک ذرائع کے مطابق سعودی حکام نے قتل میں ملوث عملے کو بھی قتل کیا جا چکا ہے۔

یاد رہے کہ واشنگٹن پوسٹ کے لیے لکھنے والے سعودی صحافی جمال خاشقجی 2 اکتوبر کو ترکی میں سعودی قونصل خانے میں داخل ہونے کے بعد لاپتہ ہوگئے تھے جس کے بعد ان کے قتل کی خبر آئی تھی جبکہ ترک حکام نے تفتیش کے بعد ایک مفصل رپورٹ جاری کی تھی۔

اقوام متحدہ کی ٹیم 28 جنوری سے 3 فروری تک استنبول میں تحقیقات کر رہی ہے جبکہ تحقیقاتی رپورٹ اور سفارشات جون 2019ء میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے میں پیش کی جائیں گی۔

خشوگی ’واشنگٹن پوسٹ‘ کے ایک کالم نگار اور ولی عہد محمد بن سلمان کے ناقد تھے، جنہیں مبینہ طور پر دو اکتوبر2018ء کو استنبول کے سعودی قونصل خانے میں سعودی ایجنٹوں نے قتل کیا اور اُن کے جسم کے ٹکڑے کیے، جس معاملے پر بین الاقوامی سطح پر چیخ و پکار ہوئی۔

 

تبصرے
Loading...