خلوت کا سازینہ

0 2,157

علی شاہین، ترکی میں سب سے بڑے پاکستانی ہیں، انہوں نے کراچی یونیورسٹی سے عالمی تعلقات میں بیچلر اور ماسٹر کی ڈگری حاصل کی۔ وہ ترک پارلیمنٹ کے واحد رکن ہیں جنہیں اردو زبان پر بھی عبور حاصل ہے۔ پاک ترک دوستی پارلیمانی گروپ کے چئیرمین کے علاوہ نائب وزیر برائے یورپی یونین معاملات بھی ہیں۔
——————————————————————————————————————————–

موت، دراصل محبوب کے وصال کا ایک ذریعہ ہے۔

اگرچہ پیدا ہونے والوں کے لیے یہ سب سے بڑی حقیقت ہی کیوں نہ ہو، موت ہر پیدائش کی طرح تکلیف دہ ہی ہوتی ہے

ایک ایک کر کے میرے آس پاس کے درخت سوکھ کر جب نیچے گرتے ہیں، میں اپنے آپ کو ویران اور گھنے جنگل کے ایک یتیم انجیر کے درخت کی طرح محسوس کرتا ہوں جو ہر دن پہلے سے زیادہ تنہا ہو رہا ہو۔

اسکا نام صنوبر ہے، انجیر ہے ،شاہ بلوط ہے یا پھر شمشاد ہے لیکن ایسا کوئی دن نہیں جب دھڑام سے کسی درخت کو گرتے نہ دیکھتے ہوں لیکن جنگل کا سر آسمان کی طرف تنا ہوا ہی رہتا ہے، اس زمین پر متکبر رہنے والوں کی طرح، ان میں سے ہی ایک اور۔۔۔۔۔۔

مگر صنوبر بھی ایک دن مرتے ہیں۔۔۔

کبھی بھی دوبارہ نہ لوٹنے کی امید کے بغیر، کوئی اچانک، کوئی وداع کیے بغیر ، کوئی آخری مرتبہ ہی مگر ملے تو سہی، بغیر حق حلالیت کیے، ایک ستارے کی طرح ہمارے پیارے غائب ہو رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔ میری روح، ہلکے درد کے ساتھ کسی تنہائی کا شکار بن رہی ہے۔۔۔

اپنا سر اٹھائے، بے وقت کوئی بھی جانے والا اکیلا نہیں جاتا۔ ہر جانے والا میرے اندر موجود اپنے آپ کو بھی لے کرچلا جاتا ہے۔ درد اور تڑپ کے ساتھ زبردستی اور برخاستہ ہونے کی طرح اپنی جگہ سے جیسے دل نکل سا گیا ہو۔ گویا جانے والا وہ خود ہو اور مرنے والا میں۔۔۔

ہر روانگی ۔۔۔۔۔ ایک تنہائی ،شدید تنہائی کا سازینہ، تنہائی سے جلا ہوا ایک نوحہ ہے۔۔۔

خاموش بے صدا ہر ایک موت: الو کے بسیرا کیے جانے والی جگہ کی طرح ایک ویرانہ، زمین بوس ہونے والا ایک مضبوط قلعہ، ٹڈوں کے حملہ کی نذرہونے والا ایک کھیت، میرے اندر کی ایک گہری شکست ہے۔

صحیح، کیا جانے والے حقیقت میں مرنے والے ہیں؟ یا پھر باقی رہنے والے؟

کیا محبوب سے ملنا موت ہے ہا پھر گناہوں سے بھرے سمندر میں ڈوبنا؟ ابدیت پا کر خود ہی بے یار و مددگار اور پریشان اس سرزمین پر جلا وطنی میں رہنا ۔۔۔۔

مونطیگنے کہتا ہے "معلوم نہیں، موت ہمارا کہاں انتظار کر رہی ہے، کیا ہی اچھا ہو کہ ہم ہر جگہ اس کا انتظار کریں”۔۔۔۔۔ "تاہم، یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ وہ کب انتظار کر رہی ہے۔ ہاں، کیا یہ اچھا ہو کہ ہم اس کا ہر وقت، ہر جگہ انتظار کریں”۔

اور تاعمر، اپنے آخری سانس تک ایسی شرمندگی جس پر بعد میں پشمانی ہو اسے نہ جھیلنے کے لیے۔۔۔۔ تا ابد۔۔۔ ہر ملاقات میں اپنے پیاروں کے ساتھ، ہمیں آخری ملاقات سمجھتے ہوئے بغیر دل توڑے، کاش بغیر پریشان کیے، بغیر غصہ کیے ان سے سکون کے ساتھ الگ ہوں۔

تبصرے
Loading...