قونیہ، جہاں روحانیت کا ملاپ ہوتا ہے عظیم تعمیرات اور عمدہ کھانوں کے ساتھ

اِرم یاشار

0 1,306

"آئیے آئیے، آپ جو کوئی بھی ہیں۔ آوارہ گرد، عبادت گزار، سب کچھ تیاگ دینے والے۔ اس کی چنداں اہمیت نہیں۔ یہ نااُمیدی کا کاروان نہیں۔ آئیے، چاہے آپ نے اپنے وعدے ہزاروں بار توڑے ہوں۔ آئیے، ایک مرتبہ پھر، آئیے آئیے۔” یہ مشہور مقولہ جلال الدین رومی کا ہے جو ترکی میں مولانا یا محض رومی کے نام سے مشہور ہیں، جو اجنبی افراد کا ان کی خامیوں سے قطع نظر ہوکر خیرمقدم کرتے ہیں۔ اب میری باری ہے کہ میں اُن کو اور وسطی قونیہ میں اُن کی روحانی تعلیمات کو تلاش کروں کہ جہاں انہوں نے اپنی بیشتر زندگی گزاری۔

میں نے "تشریفِ قونیہ” کے جشن کے دوران رومی کے شہر کا دورہ کیا جو شہر میں رومی کی آمد کے 791 سال مکمل ہونے پر منایا گیا تھا۔ اس جشن میں ہم ٹرین کے ذریعے استنبول سے آئے۔ میں نے اس سے پہلے صرف ایک بار انقرہ سے استنبول تک ریل گاڑی سے سفر کیا تھا۔ البتہ میں تسلیم کرتی ہوں کہ میں نے پچھلا سفر سو کر ہی کیا تھا کیونکہ میں بہت تھکی ہوئی تھی۔ لیکن اس مرتبہ کھلی آنکھوں کے ساتھ ٹرین کا سفر کرنے نے مجھے جذباتی کردیا تھا۔ میں شہر کا تاریخی و ثقافتی ورثہ دریافت کرنے کے لیے مری جا رہی تھی۔

ذہن میں ایسے ہی خیالات تھے اور ہمارا سفر شروع ہوا۔ آنکھیں بند کرنا مشکل تھا کیونکہ ریل گاڑی جب بھی کوئی نیا موڑ کاٹتی، مجھے بہترین مناظر دیکھنے کو ملتے۔ پہلے ساحلی علاقے مجھے یاد دلاتے کہ میں نے گرمیوں کی تعطیلات کیسے ضائع کیں۔ پھر کھلے میدان ظاہر ہوئے جن میں پیاری سی بھیڑیں اور گھوڑے تھے۔ پھر جیسے جیسے ریل گاڑی آہستگی سے آگے بڑھتی رہی، میں ان مناظر کو اپنے ذہن میں محفوظ کرتی رہی۔ اسکی شہر صوبہ گزرنے کے بعد ہماری ریل گاڑی نے رفتار پکڑلی، جس نے میرا جوش اور بڑھا دیا۔

ہم دیگر مہمانوں کے ساتھ گفتگو کرتے رہے اور بالآخر کچھ تاخیر سے اس شہر میں پہنچ گئے۔ جیسا کہ ہمارا منصوبہ تھا، ہم فوراً بسوں میں بیٹھے اور رومی کے مزار پر پہنچ گئے، جو شہر کے قلب میں واقع ہے۔ خوش قسمتی سے ریلوے اسٹیشن مرکزِ شہر سے زیادہ دور نہ تھا۔ مزار پر لوگ جمع ہوتے اور گلبانگ دعا مانگتے (ینی چری بینڈ کے اراکین کی دعا)، جو مزارِ رومی کے جشن کا حصہ تھی۔

جب ہم مزار میں داخل ہوئے تو میں حیران رہ گئی۔ آرائش و زیبائش اتنی شاندار اور عالیشان تھی کہ میں دعا پر توجہ مرکوز ہی نہیں رکھ پائی۔ مولانا کا مزار اور ان کے والد کی قبر جو ساتھ ہی ہے، ایک بڑے مخملی کپڑے تلے ڈھکی ہوئی تھی کہ جس پر سنہری کشیدہ کاری تھی۔ دعا ختم ہوئی اور مجمع چھٹنے لگا اور صرف ہم اپنے گائیڈ کے ساتھ رہ گئے۔ انہوں نے عظیم فلسفی رومی کی زندگی کے بارے میں بتایا کہ جو اپنے والد کے ایک شاگرد برہان الدین کے ذریعے صوفیت کی طرف مائل ہوئے، اور حلب و دمشق کے بعد قونیہ منتقل ہوئے اور یہاں صوفی مدرس بن گئے۔ ان کی زندگی کا سب سے انوکھا واقعہ شمس الدین تبریزی سے ملاقات تھی۔ رومی کے لیے وہ ایک مکمل انسان اور اللہ کی محبوب ہستی تھے۔ وہ دونوں دلی دوست بن گئے۔ جس جگہ قونیہ میں دونوں روحانی شخصیات کی ملاقات ہوئی وہاں ایک مجسمہ تعمیر کیا گیا ہے۔

رومی کی وفات کے بعد یہ سبز مزار بنایا گیا جس کی تاریخ سلجوق عہد سے جا ملتی ہے۔ ملحقہ سلیمیہ مسجد اور مزار کے گرد حجرے بعد میں عثمانی سلطانوں نے شامل کیے۔ ہمارے گائیڈ نے کہا کہ یہ حجرے پہلے ان درویشوں کے زیر استعمال تھے جن کی یہاں سخت آزمائش کے ذریعے تربیت ہوتی تھی، جو مولوی سلسلے کی اہم خصوصیات میں سے ایک ہے کہ جس دوران وہ درویش بننے کے لیے 1001 دن تک مشکل کام تکمیل تک پہنچاتے۔

مزار سے نکلتے ہی آنتیں قل ہو اللہ پڑھنے لگ گئیں بلکہ ہمارے پورے گروپ ہی کو بھوک لگ رہی تھی۔ اس لیے ہماری اگلی منزل تھا ایک ریستوران کہ جہاں روایتی کھانے ملتے ہیں، جن کا آغاز ہوا بھنڈی کے شوربے سے۔ میں نے اس سے پہلے کبھی بھنڈی کا شوربہ نہیں پیا تھا اور پہلا گھونٹ پیتے ہی افسوس ہوا کہ پہلے کیوں نہ پیا۔ یہ بہت مزیدار تھا۔ پھر فرین کباب (fırın kebap) پیش کیے گئے۔ گوشت بہت عمدہ تھا اور ساتھ ہی سلاد اور دہی بھی۔ کبابوں کے بعد روایتی میٹھے ساج اراسی (Sac arası) اور ہوش میریم (höşmerim) آئے۔ ساج اراسی شربت سے بنایا جاتا ہے جبکہ ہوش میریم، جو مختلف علاقوں میں مختلف طریقوں سے بنتا ہے، آٹے کے حلوے جیسا ہوتا ہے۔

اس ضیافت کے بعد ہم نے فلسطینی عود نوازوں لی تریو جبران (Le Trio Joubran) کی محفل موسیقی میں شرکت کی اور یوں شہر میں ہمارا پہلا دن مکمل ہوا۔ مرکزی ہوٹل میں اپنے کمروں میں داخل ہوتے ہوئے بھی میں اگلے دن باقی شہر دیکھنے کے لیے تیار تھی۔

دوسرے دن کا آغاز سورج کی پہلی کرن کے ساتھ ہوا۔ جلدی جلدی ناشتے کے بعد ہم ہوٹل سے نکلے اور سیدھا قونیہ سائنس سینٹر جا پہنچے۔ مرکز کے دروازے پر ہم نے بہت سے بچوں کو دیکھا کہ جن کی آنکھیں جوش سے چمک رہی تھیں۔ مجھے پتہ نہ تھا کہ اندر ہمارے لیے کیا کچھ ہے اور میں بھی بچوں جتنی ہی بے چین تھی۔ ایک اور گائیڈ نے مرکز میں ہمارا خیر مقدم کیا کہ جہاں چھ نمائشی گیلریاں ہیں: سلطانز آف سائنس، ہمارا جسم، ہماری دنیا، ہماری کائنات، نئے افق اور بنیادی قدم۔ سلطانز آف سائنس میں مسلم سائنس دانوں کے بارے میں معلومات حاصل کیں اور زمین کی تھرتھراہٹ سے جانا کہ 9 کی شدت کا زلزلہ کیسا ہوتا ہوگا۔ پھر ہم پلانٹیریم گئے کہ جہاں سورج، ستارے، سیارے اور دیگر اجرامِ فلکی ایک گنبد کی شکل کی چھت پر ایک خاص رفلیکٹر کی مدد سے پروجیکٹ کیے گئے۔ ہم نے وہاں ایک وڈیو دیکھی اور گویا خود کو ستاروں میں پایا البتہ اس تھری ڈی تجربے نے سر چکرا دیا۔

قونیہ ٹراپیکل بٹرفلائی گارڈن جانے کے لیے جلد از جلد بس تک پہنچے۔ مجھے اس باغ کے بارے میں پہلے سے پتہ تھا۔ بس میں ہمارے گائیڈ نے بتایا کہ اس کے اندر موسم گرم اور مرطوب ہوگا۔ بالآخر ہم وہاں پہنچے اور ایک ماہرِ حیاتیات نے ہمارا استقبال کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تتلیوں کے اڑنے کے لیے بنایا گیا یورپ کا سب سے بڑا مقام ہے کہ جس میں پودوں کی 98 اقسام ہیں اور 20,000 تتلیاں اڑتی پھرتی ہیں۔

اس باغ میں ہم نے تتلیوں کو آپس میں اور فطرت کے ساتھ ہم آہنگ دیکھا اور ان کے پروں کے خوبصورت ڈیزائن دیکھے۔ اندر موجود منطقہ حارہ کا موسم واقعی دم گھونٹنے والا تھا۔ پھر بھی تتلیوں کو فضاؤں میں ناچتے دیکھنا ایک زبردست اور یادگار تجربہ تھا۔ اگر آپ خوش قسمت ہیں تو ہو سکتا ہے کوئی تتلی اڑتے ہوئے آپ کے کندھے پر بیٹھ جائے اور اس مسحور کن ماحول میں چلتے چلتے آپ کے ساتھ ہو۔

باغ سے نکلتے ہوئے ایک مرتبہ پھر بھوک نے آ گھیرا: وقت آ چکا ہے مزید روایتی ذائقے چکھنے کا۔ قونیہ کی خوراک بہت عمدہ ہے۔ اس مرتبہ ہم نے اتلی ایکمک (etli ekmek) کا استعمال کیا، ایک پھلکے پر گوشت، پنیر اور قیمے کے ساتھ۔ آئیرن (Ayran) اور پنیر سے بھرے مشروم اس مزیدار پھلکے کے ساتھ۔ ان کھانوں کا مزا بہت پرلطف تھا لیکن ہمیں ایک اور جگہ جانا تھا: سلے گاؤں۔

سلے گاؤں شہر کی کناروں پر ایک چھوٹی سی بستی ہے۔ ماضی میں یہاں پرامن طور پر رہنے والے یونانیوں کا مسکن تھا۔ یہ بستی قونیہ سے مختلف کلچر رکھتی ہے کیونکہ یہاں مختلف عقائد رکھنے والے رہتے تھے۔ گاؤں کی طرف جاتے ہوئے سڑک پتلی ہوتی چلی گئی۔ پہلا مقام جو ہم نے گاؤں میں دیکھا وہ آیا الینی (Agia Eleni)کا زبردست یونانی آرتھوڈکس گرجا تھا۔ ہمارے گائیڈ ہمیں داخلی دروازے تک لے گئے۔ گرجے میں قدم رکھتے ہی ایک معجزاتی احساس ہوا۔ میں دیواروں اور گنبدوں پر بنی تصویروں سے بہت متاثر ہوئی۔

یسوع مسیح، متی، مارک، لوقا اور یوحنا، چھ پروں والا فرشتہ اسرافیل، آدم و حوّا ان تصویروں میں ہیں۔ اس گرجے کے بعد ہم پہاڑی پر پیدل چلتے ہوئے سلے معبد تک گئے، جو اَب ٹائم میوزیم کا کام کرتا ہے۔ اس عجائب گھر میں رومی، عثمانی و جمہوری دور کے کئی فن پارے نمائش کے لیے رکھے گئے ہیں جیسا کہ اسطرلاب اور کلینڈرز، یعنی یہ ترکی میں اپنی نوعیت کا پہلا عجائب گھر ہے۔

سلے کے بعد ہم نے اپنی ریل گاڑی پکڑنے کے لیے ریلوے اسٹیشن کا رخ گیا۔ البتہ قونیہ میں دیگر کئی مساجد بھی ہیں جیسا کہ اپلکچی (İplikçi) اور عزیزیہ مسجد۔ میں نے اوپر جن مقامات کا ذکر کیا ہے، اگر آپ کے پاس وقت ہو تو ان مسجدوں کو بھی اپنی فہرست میں شامل کریں۔

تبصرے
Loading...