کرد علاقائی حکومت، ریفرنڈم ملتوی کرنے پر غور کر رہی ہے، سرکاری بیان جاری

0 157

صدارتی آفس سے جاری بیان کے مطابق کرد علاقائی حکومت کے صدر مسعود بارزانی 25 سمتبر کو ہونے والے کرد آزادی کے ریفرنڈم کو ملتوی کرنے کی آفر پر غور کریں گے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ بارزانی ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی کانوائے برائے اینٹی داعش الائنس بریت میکگرک، عراق میں اقوام متحدہ کے نمائندے جان کیوبز اور عراق میں برطانوی سفیر فرینک باقر سے ملاقاتں کر چکے ہیں جس میں ان تینوں کی طرف سے ریفرنڈم ملتوی کرنے پر متبادل کی پیش کش کی گئی۔

مزید کہا گیا ہے کہ بارزانی تعمیری مذاکرات کو خوش آمدید کہتے ہیں اور متبادل بارے کرد سیاسی جماعت سے مشورہ کرنے کے بعد ریفرنڈم بارے حمتی فیصلہ مستقبل قریب میں سنایا جائے گا۔

متبادل بارے مزید کوئی تفصیل جاری نہیں کی گئی۔

علاقائی کرد حکومت کا غیر مشروط ریفرنڈم جو بغداد سے آزادی حاصل کر کے ترکی، ایران اور عراق کی سرحدوں پر ایک کرد ریاست کی راہ ہموار کرتا ہے اس کے خطے کے لاکھوں عربوں، ترکمانیوں اور شام و عراق کے کردوں پر اثرات پڑیں گے-

عراقی حکومت نے اس پلان شدہ ریفرنڈم کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ یقینی طور پر داعش کے خلاف جنگ پر منفی اثرات ڈالے گا جو تاحال عراقی خطے پر موجود ہیں- بغداد یہ بھی کہتا ہے کہ یہ ریفرنڈم عراقی آئین کی خلاف ورزی ہے-

ترکی بھی اس پلان شدہ ریفرنڈم کو مکمل طور رد کرتا ہے کیونکہ یہ عراق کے یکجہتی اور خطے کی سلامتی کے لیے خطرناک ہے-

دوسری طرف اسرائیل نے ریفرنڈم کی پرزور حمایت کا اعلان کیا ہے جبکہ امریکا نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے خطے کے مسائل بالخصوص دہشتگردی کے خلاف جنگ اور داعش کے خاتمے کے بعد عراق کی بحالی سے توجہ ہٹانے کا ذریعہ قرار دیا ہے

تبصرے
Loading...