قومی سلامتی کونسل نے عراقی کردستان کا آزادی ریفرنڈم غیر آئینی قرار دے دیا

0 163

ترکی کی نیشنل سیکورٹی کونسل نے عراق میں واقع کرد علاقے کی مقامی خودمختار حکومت کا آزادی ریفرنڈم غیر آئینی قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ صدر رجب طیب ایردوان کے زیر صدارت ہونے والے اجلاس کے بعد جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ عراق میں واقع کرد اکثریتی علاقے کی مقامی حکومت کی جانب سے 25 ستمبر کو منعقد ہونے والا آزادی ریفرینڈم غیر آئینی اور ناقابل قبول ہے۔

اعلامیے میں زور دے کر کہا گیا ہے کہ یہ ریفرنڈم ترکی کی قومی سلامتی کو خطرے میں ڈال دے گا۔ سلامتی کونسل کے مطابق یہ ریفرنڈم ایک ایسی فاش غلطی ہے جو نہ صرف عراق کی سیاسی وحدت اور سلامتی کو خطرے میں ڈال دے گی بلکہ علاقے کے امن و استحکام کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوگی۔ سیکورٹی کونسل نے مقامی کرد حکومت سے ریفرنڈم کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

خیال رہے کہ ترکی عراق کی مرکزی حکومت اور کرد اکثریتی علاقے کی مقامی حکومت کے درمیان آئینی بنیادوں پہ تصفیہ کروانے میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔

سکیورٹی کونسل کے اعلامیے میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ پورے عراق کا کثیرالجہتی ڈھانچہ جس میں شمالی عراق میں آباد نسلوں بشمول عرب، ترکمانی، کرد، یزیدی اور کلدانی وغیرہ سمیت سبھی طبقات اپنا بھرپور کردار اد کر سکیں، صرف اس صورت میں بچایا جا سکتا ہے کہ عراق ایک حکومتی اکائی کے تحت متحد ہو۔

اعلامیے میں اس امر کا اعادہ کیا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل، عالمی برادری، عراق کی وفاقی حکومت اور ترکی کی ناپسندیدگی اور بار بار کے انتباہ کے باوجود اگر ریفرنڈم کا فیصلہ برقرار رکھا گیا تو ایسے حالات پیدا ہوجائیں گے جو شمالی عراق کے ساتھ ساتھ پورے خطے میں عدم استحکام اور بدامنی کا باعث بنیں گے۔ سکیورٹی کونسل نے واضح کیا کہ اگر تمام تر انتباہ کے باوجود ریفرنڈم وقوع پذیر ہوتا ہے تو ترکی اس مسئلے میں کوئی بھی قدم اٹھانے کا حق رکھتا ہے۔

تبصرے
Loading...