عراقی کرد ریفرنڈم: ہولناک نتائج کا حامل ایک قبل از وقت قدم

0 175

 

ابراہیم قالن

ابراہیم قالن، پی ایچ ڈی ڈاکٹر اور ترک صدر رجب طیب ایردوان کے چیف مشیر اور ترجمان ہیں، اس کے علاوہ وہ پرنس الولید سنٹر فار مسلم کرسچیئن انڈرسٹینڈنگ، جارج ٹاؤن یونیورسٹی، امریکا کے ایسویسی ایٹ فیلو بھی ہیں۔ انہیں ایک تربیت یافتہ اسلامی اسکالر گردانا جاتا ہے۔ وہ کئی کتابوں کے مصنف اور کئی مضامین و نشر پاروں کے مقالہ نگار بھی ہیں۔ آپ ترکی کے متعلقہ موضوعات پر ہفتہ وار کالم لکھتے ہیں۔

عراقی کردستان کی مقامی حکومت کی جانب سے آزادی کے نام پر ہونے والے ریفرنڈم نے خطے میں بالخصوص اور پوری دنیا کے نقشے پر بالعموم ایک بڑا بحران پیدا کر دیا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس حوالے سے مزید چھوٹے بڑے طوفانوں کی آمد متوقع ہے۔ عراقی کرد تیزی سے اپنے آپ کو تنہا کرتے ہوئے سالوں کی جدوجہد کے نتیجے میں حاصل کیا گیا مقام کھونے کا خطرہ مول لے رہے ہیں۔

اس بحث سے قطع نظر کہ آیا اربیل انتظامیہ یہ ریفرنڈم حقیقت میں آزادی ہی کی نیت سے کروا رہی ہے یا اس کے پس پردہ مقصد بغداد کے خلاف اپنے قدم جمانا ہے، یہ بات بہرحال مبنی بر حقیقت ہے کہ مستقبل قریب میں اس کے نتائج بہت منفی ہوں گے اور یہ ہر سطح پر محسوس کیے جا سکیں گے۔

اس ماہ کی 22 تاریخ کو ترک نیشنل سکیورٹی کونسل کا اجلاس اس بیان کے ساتھ ختم ہوا کہ یہ ریفرنڈم "غیر آئینی اور ناقابل قبول” ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کے مطابق یہ ریفرنڈم نئی بحثوں کو جنم دینے کے ساتھ ساتھ خطے میں عدم استحکام کا باعث بن سکتا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھی اس سے ملتی جلتی تنبیہ جاری کرنے کے ساتھ ساتھ اربیل انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اس ریفرنڈم کو منسوخ یا کم از کم ملتوی کر دے۔ یورپی اور خلیجی ممالک کی جانب سے بھی اسی طرح کے بیانات سامنے آئے ہیں۔

کوئی ملک بھی عراق کی تقسیم کا حامی نہیں ہے۔ اس حوالے سے صرف اسرائیل دوسری جانب کھڑا ہے جس کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے کھل کر آزاد کردستان کے قیام کے حق میں بیانات جاری کیے ہیں۔ اسرائیل کی جانب سے یہ حمایت انتہائی حیران کن ہے کیونکہ خطے کے موجودہ حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے اسرائیل کو کردوں کو اس اقدام پر ہلہ شیری دینے کی بجائے پریشانی کا شکار ہونا چاہیئے تھا۔

اس ریفرنڈم کے جواب میں بغداد پہلے ہی کئی اقدامات اٹھا چکا ہے۔ ایران نے سلیمانیہ اور اربیل کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں۔ ترکی بھی اس حوالے سے کئی منصوبوں پر غور کر رہا ہے۔ دیگر ممالک سے بھی اسی طرح کا طرزعمل متوقع ہے۔

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ عراقی کردوں کو بھی سوسائٹی کی دیگر اکائیوں مثلا عربوں اور ترکمانیوں کی طرح امن اور سلامتی جیسے حقوق ملنے چاہیئیں۔ انھیں حکومتوں کے ظلم کے ساتھ ساتھ شیعہ اور سنی آبادیوں کے ہاتھوں بھی نقصان اٹھانا پڑے ہیں۔ انھوں نے کئی حوالوں سے عراقی معاشرے کی تعمیر و ترقی میں اپنا حصہ ڈالا ہے۔

بغداد کے ساتھ ان کے اختلاف کی بنیاد قانونی و ائینی معاملات ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ بغداد  انتظامیہ نہ صرف کردستان کی مقامی حکومت بلکہ سنی عربوں اور ترکمانیوں کو بھی ان کے سکیورٹی اور سیاسی حقوق دینے میں ناکام رہی ہے۔ مالکی حکومتوں کی جانب سے اپنائی جانے والی فرقہ وارانہ اپروچ نے عراقی سوسائٹی کو باہم جوڑے رکھنے کی امیدوں اور ضروری اعتماد کو ٹھیس پہنچائی ہے۔ کردوں کو غیرذمہ دارانہ اور مہنگے طرز سیاست کے ہاتھوں بہت نقصان اٹھانا پڑا ہے تاہم اس نقصان میں وہ اکیلے نہیں ہیں بلکہ سنی عرب اور ترکمانی بھی اتنا ہی نقصان اٹھا چکے ہیں۔

حتمی تجزیئے میں 2003 میں عراق پر ہونے والی فوج کشی کے بعد سے پیدا حالات اور چیلنجز کا سامنا کرنے میں کرد اکیلے نہیں ہیں۔ تاہم گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے عراق کو درپیش غیریقینی صورتحال کے باوجود کردستان کی مقامی حکومت نے کئی سنگ میل عبور کیے ہیں۔ عراقی کردستان پہلے ہی ایک وفاقی اکائی ہے جس کے پاس اپنی پارلیمان، اپنا جھنڈا، پیش مرگا کے نام سے معروف اپنی فوج، زمینی و فضائی حدود اور کسٹم کنٹرول کے نظام کے ساتھ ساتھ اپنا خزانہ بھی ہے۔ عراق میں کسی دوسرے گروپ کو یہ امتیاز حاصل نہیں ہے۔ریفرنڈم کرد علاقے کو حاصل ان تمام امتیازات کو خطرے سے دوچار کر دے گا۔

یہ دعوی کہ ہر نسلی گروہ کے پاس اپنی نیشن سٹیٹ ہونی چاہیئے ازخود ایک سوالیہ نشان اور خطرناک تصور ہے۔ اس تصور کے تحت شروع ہونے والی تحریکوں کا کوئی نقطہ اختتام نہیں ہوگا۔ اس تصور کے تحت آپ کو یورپ، امریکا، ایشیا اور افریقہ میں درجنوں نئی ریاستیں قائم کرنا ہوں گی۔ جب قوموں کے مفادات مختلف سیاسی، سماجی اور معاشی وحدتوں اور اتحادوں کے زیرسایہ بہتر طریقے سے پروان چڑھ رہے ہیں تو اس طرح سے ملکوں کو توڑ کر رکھ دینا سمجھ سے بالاتر ہے۔

عراق کی علاقائی سالمیت اور سیاسی وحدت کے اندر رہتے ہوئے عراقی کردوں کے آئینی و قانونی تحفظات کو دور کرنے کی کوشش کی جانی چاہیئے۔ عراق کی تقسیم خطے کے لیے ایک خطرناک اقدام ثابت ہوگا خصوصا ان حالات میں جبکہ خطہ پہلے ہی کئی ایک سکیورٹی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ ریفرنڈم عراقی آئین کے تحت غیر قانونی ہے اور اسے کسی بھی ملک یا عالمی تنظیم کی جانب سے تسلیم کیا جانا مشکل ہے۔

یہاں اس بات کی وضاحت بہت ضروری ہے کہ اس ریفرنڈم کی مخالفت کا مطلب عراقی کردوں یا ان کے حقوق کی مخالفت نہیں ہے۔ ترکی انتہائی مشکل حالات میں بھی سیاسی اور معاشی طور پہ عراقی کردوں کے ساتھ کھڑا رہا ہے تاہم اربیل کی کرد قیادت عراق کو توڑنے اور اپنے قریبی اتحادی ترکی کی حمایت سے محروم ہوکر تنہائی کا شکار ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے ہی لوگوں کے معاشی اور سیاسی مفادات کو خطرے میں ڈالنے جا رہی ہے۔

جہاں یہ ریفرنڈم ازخود ایک غیرقانونی اور بحرانی اقدام ہے، وہیں حق رائے دہی والے علاقوں میں کرکوک کو شامل کرنا وہاں کے رہائشی عربوں اور ترکمانیوں کے لیے اس مسئلے کو مزید گمبھیر اور پیچیدہ بنا رہا ہے۔ یاد رہے کہ کرکوک از خود ایک متنازعہ علاقہ ہے جو کردستان کی مقامی حکومت کی حدود میں شامل نہیں ہے۔ ترکی کو بجا طور پر کرکوک کے حوالے سے زیادہ تشویش ہے کیونکہ وہاں رہائش پذیر ترکوں سے اس کے بہت اچھے تعلقات ہیں۔ کرکوک کی ہیئت میں تبدیلی کی کوشش ویسے ہی ایک خطرناک پالیسی تھی۔ کرکوک میں ریفرنڈم کے نتیجے میں اس تاریخی شہر میں نسلی فسادات اور نفرتوں کو ہوا ملنا یقینی ہے۔یہ پالیسی کردستان کی مقامی حکومت کے لیے صرف نقصان ہی لائے گی اور اس کی نیک نامی میں کمی کا باعث بنے گی۔

کئی تنبیہات کے باوجود کرد انتظامیہ یہ ریفرنڈم منعقد کرنے میں کامیاب رہی ہے۔ اس کے منفی اثرات ابھی سے ظاہر ہونا شروع ہوچکے ہیں۔ ان اثرات سے بچنے کا اب ایک ہی راستہ ہے اور وہ یہ کہ اس ریفرنڈم کو ہی کالعدم قرار دیا جائے اور عراق کی علاقائی سالمیت اور سیاسی استحکام کے تحفظ کو یقینی بناتے ہوئے بغداد کے ساتھ مذاکرات کی ٹیبل پر بیٹھ کر معاملات حل کیے جائیں۔ اگرچہ اس سٹیج پہ اربیل انتظامیہ کے لیے یہ مشکل راستہ ہوگا تاہم کم از کم یہ ایسی پالیسی اپنانے سے بہت بہتر ہے جو اسے تنہا، کمزور اور پراگندہ کر دے۔

(بشکریہ: صباح نیوز؛ ترجمہ: اسامہ عبدالحمید)

 

 

تبصرے
Loading...