کرد علاقائی حکومت ریفرنڈم پر بضد رہی تو اس کی قیمت چکانا پڑے گی، ترکی

0 164

ترک وزارت خارجہ نے ایک سرکاری بیان میں کرد علاقائی حکومت سے کہا ہے کہ وہ 25 ستمبر کو ہونے والے کرد ریفرنڈم کو ترک کر دے-

وزارت خارجہ نے عراقی پارلیمنٹ کا خیر مقدم کیا جس نے 12 ستمبر کو پارلیمان میں قرار داد کے ذریعے غیر قانونی اور عمل کو رد کر دیا-

بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم کرد علاقائی حکومت کی طرف ہونے والے ریفرنڈم کے عراق اور خطے پر خطرناک اثرات پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور اس ریفرنڈم کے مخالفت کرتے ہیں- اس کے علاوہ عراقی پارلیمان کے فیصلے کو سہراتے ہیں جو انہوں نے 12 ستمبر کو دیا- اس سے عراق کی سیاسی یکجہتی اور علاقائی سلامتی کو زبردست مضبوطی حاصل ہوتی ہے-

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ہمارے ملک اور عالمی برادری کی وارننگز کے باجود کرد علاقائی حکومت کی ریفرنڈم پر ضد اور جذباتی بیانات بہت زیادہ خطرناک ہیں- یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس ضد کی لازما ایک قیمت ہے-
علاقائی کرد حکومت کا غیر مشروط ریفرنڈم جو بغداد سے آزادی حاصل کر کے ترکی، ایران اور عراق کی سرحدوں پر ایک کرد ریاست کی راہ ہموار کرتا ہے اس کے خطے کے لاکھوں عربوں، ترکمانیوں اور شام و عراق کے کردوں پر اثرات پڑیں گے-

عراقی حکومت نے اس پلان شدہ ریفرنڈم کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ یقینی طور پر داعش کے خلاف جنگ پر منفی اثرات ڈالے گا جو تاحال عراقی خطے پر موجود ہیں- بغداد یہ بھی کہتا ہے کہ یہ ریفرنڈم عراقی آئین کی خلاف ورزی ہے-

ترکی بھی اس پلان شدہ ریفرنڈم کو مکمل طور رد کرتا ہے کیونکہ یہ عراق کے یکجہتی اور خطے کی سلامتی کے لیے خطرناک ہے-

دوسری طرف اسرائیل نے ریفرنڈم کی پرزور حمایت کا اعلان کیا ہے جبکہ امریکا نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے خطے کے مسائل بالخصوص دہشتگردی کے خلاف جنگ اور داعش کے خاتمے کے بعد عراق کی بحالی سے توجہ ہٹانے کا ذریعہ قرار دیا ہے

تبصرے
Loading...