سعودی عرب نے ترک اشیاء کا بائیکاٹ ختم کرنے کا اعلان کر دیا

0 5,083

سعودی عرب نے ترک اشیاء کا 4 سالہ طویل بائیکاٹ ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سعودی عرب کے بائیکاٹ کے بعد ترکی اور سعودی عرب کے درمیان تجارت کا حجم 2.7 بلین ڈالر سے کم ہو کر 189 ملین ڈالر رہ گیا تھا۔

سعودی عرب کی تمام سپر مارکیٹس نے ترکی کی تیار کردہ اشیاء درآمد کرنا اور فروخت کرنے پر سختی سے پابندی کی تھی۔

ترکی اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات اس وقت کشیدہ ہو گئے تھے جب سعودی قونصل خانہ استنبول میں امریکی نژاد سودی صحافی جمال خاشقجی کا قتل کیا گیا تھا اور ترک پولیس قونصل خانے میں داخل ہو کر تحقیقات کا مطالبہ کر رہی تھی۔

تاہم ترکی اور سعودی عرب کے کمزور ہوتے تعلقات میں خاشقجی کا قتل واحد وجہ نہیں تھا۔ سعودی عرب اور قطر تنازعہ میں ترکی نے کھل کر قطر کی حمایت کی تھی جس کے بعد سعودی عرب کی طرف سے سخت ردعمل دیا گیا تھا۔

تعلقات کی اس گراوٹ نے ترک ایکسپورٹرز کے لیے مشکلات پیدا کر دیں جب سعودی عرب کے سپراسٹورز نے اعلان کیا کہ وہ موجود ترک اشیاء کے ذخیرے کے بعد کوئی آرڈر نہیں کریں گے۔ اس کے بعد یہ بائیکاٹ تقریباً 4 سال چلتا رہا ہے۔

اس سے قبل ترک صدر رجب طیب ایردوان نے گذشتہ ماہ اعلان کیا تھا کہ وہ فروری 2022ء میں سعودی عرب کا دورہ کریں گے۔ یہ دورہ اس سلسلے کی کڑی ہو گا جس کا مقصد علاقائی قوتوں کے ساتھ ترکی کے تعلقات کو بحال کرنا ہے۔

استنبول میں ایک نیوز کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے، جہاں انہوں نے 2021 کے لیے غیر ملکی تجارت کے ابتدائی اعداد و شمار پیش کیے، صدر ایردوان نے کہا تھا کہ مملکت سعودیہ کے ساتھ تجارت پر اگلے ماہ بات چیت کی جائے گی

سعودی عرب نے ترکی کے سرکاری ابلاغی اداروں پر پابندی لگا دی

 

تبصرے
Loading...
%d bloggers like this: