سعودی عرب، کشمیر پر او آئی سی، کونسل برائے وزرائے خارجہ کا اجلاس رکوانے کا خواہاں، رپورٹ

0 2,853

او آئی سی کے سنئیر حکام اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی کونسل برائے وزرائے خارجہ کے 9 فروری کو شروع ہونے والے اجلاس کی جہاں تیاری کر رہے ہیں وہیں سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کشمیر کے معاملے پر او آئی سی کے وزرائے خارجہ کا اجلاس بلانے کی پاکستان کی درخواست قبول کرنے سے انکار کر رہا ہے۔

پاکستانی میڈیا ڈیلی پاکستان کے مطابق مسئلہ کشمیر پر جہاں اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے، یورپی یونین کی کمیٹیاں ، امریکا اور برطانیہ کے اراکین پارلیمنٹ و سینیٹ آواز اٹھاتے دکھائی دے رہے ہیں وہیں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی ) کا رویہ پاکستان کی تشویش میں اضافہ کررہا ہے۔

سعودی عرب نے مسئلہ کشمیر پر اوآئی سی کے وزرائے خارجہ اجلاس کے بدلے مسلم ممالک کا پارلیمانی فورم یا سپیکرز کانفرس اور فلسطین اور کشمیر کے مسئلے پر مشترکہ اجلاس بلانے کی پیشکش کی ہے تاہم پاکستان کا کہنا ہے کہ اس سے مسئلہ کشمیرکی اہمیت کم ہوجائے گی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی کونسل برائے وزرائے خارجہ (سی ایف ایم) کی تیاری کیلئے جہاں سینئر حکام کا اجلاس 9 فروری سے شروع ہورہا ہے وہیں سفارتی ذرائع کاکہنا ہے کہ سعودی عرب، کشمیر کے معاملے پر فوری طور پر سی ایف ایم اجلاس بلانے کی پاکستان کی درخواست قبول کرنے سے گریزکررہا ہے جس سے پاکستان کی تشویش میں اضافہ ہورہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق او آئی سی میں کسی بھی اقدام کیلئے ریاض کا تعاون نہایت ضروری ہے۔سعودی عرب نے سی ایف ایم سے بچنے کیلئے متعدد پیشکش کی ہیں جن میں مسلم ممالک کا پارلیمانی فورم یا سپیکرز کانفرس شامل ہیں اور ایک ذرائع کے مطابق فلسطین اور کشمیر کے مسئلے پر مشترکہ اجلاس بھی اس میں شامل ہے تاہم پاکستان اپنی تجویز پر ہی برقرار ہے۔

اسلام آباد کی پوزیشن یہ ہے کہ سپیکر زاجلاس مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کی سنگینی کے برابر نہیں، دوسرا اسلام آباد میں چند کو یہ تشویش ہے کہ سپیکرز فورم کو ریاض ایران کے خلاف استعمال کرے گاکیونکہ سعودی شوریٰ کے سپیکر ڈاکٹر عبداللہ بن محمد بن ابراہیم الشیخ نے اس حوالے سے اپنے چند ہم منصبوں کو اکٹھا کر رکھا ہے۔

یاد رہے کہ ترکی، ملائیشیا اور ایران نے بھارت کے کشمیر سے الحاق کو واضح طور پر مسترد کردیا ہے اور مقبوضہ وادی میں بھارتی فورسز کی بربریت پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔اس کے علاوہ خدشات یہ بھی ہیں کہ مسئلہ کشمیر پر فلسطین کے مسئلے کے ساتھ کسی بھی اجلاس میں بحث کرنے سے مسئلہ کشمیر پر آواز دھیمی ہوجائے گی۔

تاہم ، کوالالمپور سمٹ میں پاکستان کی عدم موجودگی کے فوری بعد ریاض نے سی ایف ایم کی تجویز پر لچک دکھائی، سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے دسمبر میں اسلام آباد کے دورے کے دوران شاہ محمود قریشی اور وزیر اعظم خان سے ملاقاتوں میں دونوں کے اجلاس طلب کرنے پر سعودی حمایت کے مطالبے پر اس بات کا اشارہ کیا تھا۔سعودی وزیر خارجہ اس وقت یہاں پاکستانی قیادت کو ملائیشیا سمٹ سے ان کے تحفظات کی وجہ سے دور رہنے پر شکریہ ادا کرنے آئے تھے۔سعودی عرب کی یہ لچک بہت تھوڑے عرصے تک ہی برقرار رہی اور جلد ریاض کشمیر کے معاملے پر سی ایف ایم اجلاس کے حوالے سے اپنے موقف پر واپس چلا گیا تھا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جدہ میں معمول کے مطابق 47ویں سی ایف ایم اجلاس کی تیاریاں جاری ہیں اور امید کی جارہی ہے کہ کشمیر کے مسئلے پر عام قراردادیں ایجنڈا پر اپریل میں نائیجیریا میں طے شدہ اجلاس کے دوران شامل ہوں گی تاہم اس میں کشمیریوں کی آواز پر کوئی خصوصی توجہ نہیں جو آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد 185 روز سے لاک ڈاؤن کا سامنا کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ پاکستان اقوام متحدہ کے بعد دوسرے بڑے عالمی فورم، مسلم ممالک کے 57 رکنی بلاک میں گزشتہ سال اگست کے مہینے میں بھارت کے کشمیر سے الحاق کے بعد سے وزرائے خارجہ کا اجلاس طلب کرنے کے لیے کوششیں کر رہا ہے۔

تبصرے
Loading...