کرد داعش رقعہ معاہدہ میں ملوث ہونے سے امریکی انکار زمینی حقائق کے برخلاف ہے، ایردوان

0 209

ترک صدر رجب طیب ایردوان نے روس، کویت اور قطر کے دورہ کے بعد صحافیوں سے بات چیت کی اور کہا کہ امریکی نے  کرد دہشتگردوں کی سیاسی تنظیم شامی جمہوری فورس اور داعش کے دہشتگردوں کے درمیان رقعہ میں ہونے والے معاہدے میں اپنے ملوث نہ ہونے کی جو وضاحت کی ہے وہ قابل قبول نہیں ہے۔ کیونکہ شام میں امریکا کرد دہشتگردوں کے ساتھ گہرے تعلقات رکھتا ہے اور ہونے والی ہر شامی پیش رفت میں ملوث رہتا ہے۔ ایردوان نے کہا: "میں نہیں سمجھتا کہ امریکی اتحادی ترجمان ہونے والی پیش رفت سے پوری طرح آگاہ ہو۔ یہ ایسا لگتا ہے جیسے ایک عام فوجی روٹین کی دلیل کے ساتھ بیان جاری کر دیا گیا ہو کیوں کہ اس ایشو پر جو کچھ ہوا وہ بہت مختلف ہے”۔

انہوں نے یہ بات داعش کے خلاف آپریشن انھیرنٹ ریزولو کے ترجمان کرنل ریان ڈھلوں کی طرف سے جاری کردہ بیان کے حوالے سے کہی جس کہا گیا ہے کہ امریکا اس معاہدہ کو برداشت ہے اور یہ معاہدہ ‘مقامی مسئلے کا مقامی حل ہے۔ اتحاد اس سے مکمل طور پر اتفاق نہیں کرتا لیکن اپنے اتحادی (کرد دہشتگرد) کے فیصلے کا احترام کرتا ہے’۔

بی بی سی کی حالیہ رپورٹ نے انکشاف کیا تھا کہ کرد عسکری تنظیم پی وائے ڈی اور داعش کے مابین معاہدے کے بعد ہزاروں کی تعداد میں دہشتگردوں کو رقعہ سے محفوظ راستہ دیا گیا ہے اور انہیں اسلحے سے لدے 10 ٹرک بھی ساتھ دئیے گئے۔ اس رپورٹ میں خفیہ وڈیو ریکارنگز بھی شامل ہیں جس میں ان عسکریت پسندوں اور شامیوں کو دوسری جگہ پہنچانے ولے ٹرک ڈرائیوروں، دکاندار اور اسمگلر کے انٹرویو کیے گئے ہیں۔

ایردوان نے کہا: "وہ (امریکی) اپنے کئی کمانڈروں اور فورسز کے ذریعے وائے پی ڈی (شامی کرد دہشتگرد) کے ساتھ مل کر آپریشن کرتے ہیں۔ کئی رپورٹ موجود ہیں کہ وہ ان دہشتگردوں کو تنخواہیں بھی دیتے ہیں۔ ان سب کو بھول بھی جائیں تو صرف یہ دیکھ لیں کہ انہوں نے آرمرڈ گاڑیوں، اسلحہ، ٹینکس اور اس قسم کے دوسری فیلڈ مشینری کے 3500 ٹرک ان دہشتگردوں کے حوالے کیے، 13 فوجی اڈے جن میں 5 فضائی اڈے پر ان کا تعاون موجود ہے، اب وہ رقعہ میں ایک نیا فوجی اڈا کھول رہے ہیں۔ وہ اس پورے علاقے میں فوجی اسلحہ اور ہتھیار تقسیم کرتے پھر رہے ہیں۔ یہ ہے امریکا بارے اصل صورت حال جو زمین پر موجود ہے جس پر وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ہم تو اس معاملہ میں ملوث ہی نہیں ، ہم تو بس اس کو دیکھ رہے ہیں، خلاء سے دیکھ رہے ہیں؟”۔

تبصرے
Loading...