رجب طیب ایردوان کا کردوں میں ووٹ بنک بڑھا ہے، تازہ سروے اور تجزیے

0 1,368

کرد نسل سے تعلق رکھنے والے ترکی کی آبادی کا تقریبا 20 فیصد ہیں، اس لیے عمومی طور پر ترکی میں ہونے والے کسی بھی انتخاب پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ بات یقینی ہے کہ 8 دن بعد ترکی میں ہونے والے پارلیمانی اور صدارتی انتخابات میں کرد ووٹر کلیدی کردار ادا کریں گے۔ تجزیہ نگاروں اور تازہ ترین سروے کے مطابق کرد علاقوں کے کا ایک بڑا حصہ کرد جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (HDP) کو جائے گا جبکہ موجودہ صدر رجب طیب ایردوان اور ان کی حکمران آق پارٹی ٹھوس حمایت حاصل کرے گی بلکہ اپنا ووٹ بنک بڑھائے گی۔

کرد مصنف اور دانشور وحید الدین انجے کے مطابق حالیہ عرصہ میں ووٹرز کا رویہ اس طرح پیدا ہوا ہے کہ پارٹیاں "کرد مسئلے” کو کس نظر سے دیکھتی ہیں۔ یہ وہ مسئلہ ہے جس کے بارے کرد حساس ہیں۔ "آج کل کرد یہ سوال کرتے ہیں: ‘مختلف جماعتوں کے لیے "کرد مسئلہ” کیا ہے؟’، اور جب وہ اس کا جواب دیتے ہیں تو [مصطفیٰ کمال اتاترک کی وارث] جمہوریت عوام پارٹی (CHP) ماضی کے کردوں کے خلاف اس کے کئے جانے والے کئی واقعات کی وجہ سے انتخابات سے خارج ہو جاتی ہے”۔

وحید الدین نے مزید کہا کہ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی "بیانیے اور پروپیگنڈا کی حد تک کردوں کے مفادات پر بات کرتے دکھائی دیتی ہے، لیکن ان کے پاس بھی ایک ماضی ہے جس میں انہوں نے خطے میں پی کے کے کی دہشتگردی کو بڑھایا اور کردوں کے مسائل کو بڑھا دیا”۔

جب وہ آق پارٹی کی طرف آئے تو وحید الدین انجے نے کہا، "تو ہم ‘یہاں کوئی کرد نہیں ہے’ سے ‘یہاں کرد ہیں’ کی طرف ایک تبدیلی دیکھتے ہیں۔ ہم ایک سرکاری کردش چینل دیکھتے ہیں۔ ہم کردولوجی کے تعلیمی ادارے اور آج کل اسکولوں میں کردش کورسز دیکھتے ہیں”۔

انہوں نے مزید کہا کہ گذشتہ ایام کی حقیقتیں 24 جون کے انتخابات پر اثر انداز ہوں گی اور "اس کا مطلب ہے ایردوان کو مضبوط حمایت ملے گی”۔

کرد علاقے دیاربکر میں قائم ایک علاقائی مرکز تحقیقات (YÖRSAM) کے ڈائریکٹر یلماز دمیر خان جو دیابکر کی دجلے یونیورسٹی میں پولیٹکل سائنس کے پروفیسر بھی ہیں، انہوں نے کہا سیاسی استحکام کی بڑھتی ہوئی مضبوطی کے ساتھ، امن عامہ کی بحالی اور خطے میں ریاست کی بڑھتی ہوئی خدمات اس بات کا اظہار کرتی ہیں کہ آق پارٹی نے گذشتہ انتخابات میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے ہاتھ جو اپنا ووٹ کھویا تھا وہ واپس حاصل کر لے گی۔

2007ء اور 2011ء کے عام انتخابات کے مقابلے میں جون 2015ء کے انتخابات میں آق پارٹی میں اس خطے میں اپنا 25 سے 30 فیصد ووٹ کھو دیا تھا جبکہ نو وارد پیپلز ڈیموکریٹک کا ووٹ بڑھا تھا۔ مجموعی طور پر آق پارٹی نے 40.87فیصد ووٹ حاصل کئے لیکن حکومت سازی کی اکثریت حاصل نہ کر سکی۔ حکومت سازی کے لیے کوئی اتحاد نہ سکنے کے بعد صدر نے نومبر میں از سر نو انتخابات کا اعلان کر دیا۔ جس میں آق پارٹی نے 49.49 فیصد ووٹ حاصل کئے اور حکومت بنائی۔

کرد خطے کے بہت سے لوگ اور تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ 7 جون 2015ء میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کو ایک جمہوری راستہ دیا گیا کہ وہ دہشتگرد عناصر پی کے کے سے اپنے آپ کو الگ کر لے اور کردوں کے لیے پارلیمنٹ میں جمہوری جدوجہد کرے۔ تاہم پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی اس میں ناکام ہوئی اور اس نے قوت ملتے ہی دہشتگرد عناصر کو مضبوط کرنا شروع کر دیا اور علاقائی امن ایک بار پھر خراب ہونا شروع ہو گیا۔ اس نے آق پارٹی کے لیے ایک بار پھر جگہ پیدا کر دی ہے کہ کرد ووٹرز میں اپنی کھوئی ہوئی حیثیت بحال کر لے۔

جب ہم سیاسی اور ثقافتی رجحانات کی دیکھتے ہیں تو کرد شہری ترکی کے باقی معاشرے کی طرح متنوع خیالات کے مالک ہیں۔ جہاں بہت سارے کرد ایسے ہیں جو روایتی طور پر رجعت پسند سنی مسلمان ہیں اور اپنی مذہبی شناخت کو ترجیح دیتے ہیں، وہیں سیکولر، سنٹر لیفٹ اور انتہا پسند بائیں بازو کے کرد بھی موجود ہیں جو اپنی نسلی شناخت کی ترجیح دیتے ہیں

دمیر خان نے کہا، "جیسا کہ سیاست معمول پر آ چکی ہے اور باہمی اعتماد کی فضاء مزید مستحکم ہو رہی ہے، آق پارٹی اپنے ووٹرز کو واپس حاصل کر لے گی”۔

کرد متنوع ہیں

جب ہم سیاسی اور ثقافتی رجحانات کی طرف آتے ہیں تو کرد شہری ترکی کے باقی معاشرے کی طرح متنوع خیالات کے مالک ہیں۔ جہاں بہت سارے کرد ایسے ہیں جو روایتی طور پر رجعت پسند سنی مسلمان ہیں اور اپنی مذہبی شناخت کو ترجیح دیتے ہیں، وہیں سیکولر، سنٹر لیفٹ اور انتہا پسند بائیں بازو کے کرد بھی موجود ہیں جو اپنی نسلی شناخت کی ترجیح دیتے ہیں۔ اول طبقہ آق پارٹی کی حمایت کرتا ہے جبکہ دوسرا طبقہ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کا ووٹر ہے۔ جبکہ ترکی کی دوسری جماعتیں کرد ووٹرز کی توجہ حاصل کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ البتہ ایک رجعت پسند اسلامی جماعت (HÜDA-PAR) بھی موجود ہے جو اپنے ووٹوں کی اکثریت کرد خطے سے حاصل کرتی ہے۔ اگرچہ اس پارٹی کے مجموعی ووٹ اتنے نہیں ہوتے کہ انتخابی حد کو عبور کر کے پارلیمنٹ میں پہنچ سکیں۔ کیونکہ ترکی میں متناسب نمائندگی کے تحت انتخابات ہوتے ہیں۔ ھدیٰ پارٹی نے حالیہ انتخابات میں ترک صدر ایردوان کی حمایت کا اعلان کیا ہے جبکہ پارلیمنٹ سطح پر وہ پہلے کی طرح انتخابات لڑے گی۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے ووٹر بنک اس کی نظریاتی حدوں تک سکڑ جائے گا۔ اور کرد مذہبی اکثریت کا ووٹ فیصلہ کن کردار ادا کرے گا۔

24 جون 2018ء کے صدارتی انتخابات میں رجب طیب ایردوان آق پارٹی، ملی حرکت پارٹی کے مشترکہ امیدوار ہیں جو پیپلز الائنس بنا کر انتخابات لڑ رہی ہیں۔ جبکہ صدر ایردوان کو ایک دوسری چھوٹی قوم پرست جماعت گریٹ یونین پارٹی (BBP) کی حمایت بھی حاصل ہے۔

جبکہ دوسری طرف جمہوریت عوام پارٹی (CHP)، اچھی پارٹی (İP)، فضیلت پارٹی (SP)، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی اور وطن پارٹی (VP) نے اپنے اپنے صدارتی امیدوار کھڑے کر رکھے ہیں۔

تبصرے
Loading...