ڈرامہ الکوت العمارة

0 2,851

مشرقی عراق کا شہر # برطانوی استعمار کیلئے ایک ڈراؤنے خواب کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ وہ شہر ہے جہاں اسے خلافت عثمانیہ کے ہاتھوں بدترین ہزیمت کا سامنا اٹھانا پڑا تھا۔ برطانوی مورخ کرسٹوفر کیتھرووڈ لکھتا ہے کہ ناصرف جنگ عظیم اول بلکہ مجموعی طور پر تاج برطانیہ کی تاریخ میں یہ بھیانک ترین شکست تھی جس میں 30000 فوجی کام آئے جبکہ 4 جنرل اور 500 افسران سمیت 13000 سپاہیوں کو جنگی قیدی بنایا گیا۔

شکست کے بعد برطانوی جنرل تھومز ایڈورڈ اور جنرل چالیس وئیر نے عثمانی جنرل حلیل پاشا کو ان قیدیوں کی رہائی کے بدلے بیس ملین پونڈ رشوت کی پیشکش کی تھی مگر شاید وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ انکا سامنا کسی میر جعفر یا میر صادق سے نہیں، اس عظیم فوج کے ایک جراءت مند سالار سے ہوا، جنہوں نے نرم اور گرم ہر حالات میں صلیبی یلغاروں کا مقابلہ کیا اور جو جنگ کا میدان مسلم سرزمین سے اٹھا کر یورپ کے وسط میں لے گئے تھے۔

مذکورہ معرکے کی افسوسناک بات یہ ہے کہ برطانوی فوج کا ایک بڑا حصہ ہندوستانی سپاہیوں پر مشتمل تھا۔ یہ وہ ذہنی اور جسمانی غلام تھے جو اپنے مقبوضہ وطن سے دور خود کو ایک ایسی جنگ کا لاوا بنا رہے تھے، جسکا مقصد خود انکی ہی آئندہ نسلوں کو غلام بنائے رکھنا تھا۔ البتہ اس عساکر غلاماں میں کچھ مرد حر بھی موجود تھے۔ جنرل چارلیس وئیر اپنی کتاب "کمپین اوف میسوپتومیا” میں ان تین پختوں سپاہیوں کا ذکر کرتا ہے جنکے ضمیر نے انہیں للکارا اور انکے ہاتھوں نے ترکوں پر گولیاں چلانے سے انکار کردیا۔ یوں مرنا تو انکے مقدر میں تھا مگر اس موت کو انہوں نے آزادی کا عنوان بنالیا۔

چارلیس نے مذکورہ کتاب میں آگے چل کر سرینڈر اور اسکے بعد کے واقعات کا بھی ذکر کیا ہے۔ وہ لکھتا ہے کہ شکست کی دستاویز پر دستخط کے بعد قائدے کے مطابق اس نے اس نے اپنی تلوار اور بندوق حلیل پاشا کے حوالے کردئے مگر پاشا نے اسے یہ چیزیں واپس کردیں اور شائستگی کے ساتھ بتایا کہ وہ استنبول میں دولت عثمانیہ کا مہمان ہوگا۔ ڈھائی سال قید کے بعد، جب وہ لندن واپس پہنچا تو اسکے استقبال کیلئے صرف اسکی بیوی اور اسکا پالتو کتا آیا ہوا تھا۔ یہ ان قوموں کے لئے سبق ہے جو ہتھیار ڈالنے والے جنرلوں کے استقبال کیلئے اپنا وزیراعظم سرحد پر بھیجتی ہیں۔

جنوری 1916 میں معرکہ گیلی پولی اور پھر اپریل 1916 میں الکوت العمارة میں دولت عثمانیہ کے ہاتھوں اتحادیوں کی عبرتناک شکست کے بعد جنگ کا پانسا بدل چکا تھا مگر اسکے بعد انگریزوں نے سازشوں کے مزید جال بچھائے۔ ان حالات میں اگر عرب بغاوت نہ کرتے تو پہلی جنگ عظیم کا نتیجہ یکثر مختلف ہوتا اور ہم آج ایک مختلف دنیا میں جی رہے ہوتے۔

ایوارڈ یافتہ ڈرامے درلیز ارطغرل کے پروڈیوسر اور اسکرین رائٹر محمد بزداق نے عثمانی تاریخ کے اس شاندار باب کو صدر رجب طیب اردگان کی ذاتی خواہش پر ڈرامائی شکل میں محفوظ کرنے بیڑا اٹھالیا ہے۔ ڈرامے کا نام "محمد چک” ہے جبکہ اسکے پرومو میں خود اردگان نے بھی شرکت کی اور اسکی کاسٹ کے ساتھ تصویریں بنوائیں۔ TRT1 پر اب تک اس ڈرامے کی چوبیس اقساط چل چکی ہیں جبکہ یوٹیوب پر اردو سب ٹائٹل میں چار قسطیں موجود ہیں۔

تبصرے
Loading...