پچھلے 17 سال اقلیتوں کے لیے ایک سنہری دور

0 1,402

ترکی کی اقلیتیں پچھلے17 سالوں میں ہونے والی پیشرفت کا خیر مقدم کر رہی ہیں۔ یہ عرصہ جمہوریہ کی تاریخ میں اقلیتوں کے حقوق کے معاملے میں سنہری دور سمجھا جا رہا ہے کیونکہ انہیں عبادت کی آزادی حاصل ہے اور وہ اپنی تعلیمی خدمات فراہم کرنے کے قابل ہیں۔ ترک روزنامے سے بات کرتے ہوئے ترکی کی یہودی برادری کی اہم شخصیت مورس لیوی نے کہا کہ ترکی ، خاص طور پر پچھلے 20 سالوں میں، ایسا ملک بن چکا ہے جو عبادت کی آزادی کو ترجیح دیتا ہے۔ "کوئی بھی مسیحی یا یہودی ان عبادت گاہوں میں عبادت کر سکتا ہے، جو بند کردی گئی ہے۔ انہیں کسی سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں۔ کچھ عبادتیں عبادت گاہوں سے باہر تک پھیلائی جا سکتی ہیں۔”

لیوی کے مطابق درحقیقت عبادت کی آزادی کو قانون اور عوامی شعور میں تسلیم کیا گیا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ تمام برادریاں اپنے پورے پھیلاؤ کے ساتھ باآسانی عبادت کر سکتی ہیں۔ "دیگر کئی وجوہات بھی ہیں۔ آج کوئی بھی مسجد، کنیسہ یا گرجے کو ریاست کی جانب سے حمایت ملتی ہے۔ آج کوئی بھی کنیسہ، گرجا یا مسجد بنانا بہت زیادہ مشکل نہیں۔ مقامی انتظامیہ اس حوالے سے مدد دیتی ہیں۔ لیکن پھر بھی محض تعمیر ہی کافی نہیں۔ عمارت کو برقرار رکھنے کے لیے دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے۔ گرجا، کنیسہ اور مسجد کو چندے جمع کرنے کی بھی ضرورت ہوتی ہے،” انہوں نے کہا۔

ترکی کی یہودی برادری کے مطابق ملک میں 18,000 کے لگ بھگ یہودی آباد ہیں اور ان کی آبادی زیادہ تر استنبول میں ہے۔ لیوی کہتے ہیں کہ ان کی برادری جو ثقافتی تنوّع لاتی ہے وہ معاشرے کے لیے بہت اہم ہے۔ یہودی برادری کی آبادی زیادہ تھی لیکن 20 ویں صدی میں یہ تعداد گھٹ گئی کیونکہ زیادہ تر اسرائیل کے قیام کے بعد وہاں ہجرت کر گئے، جبکہ 1950ء کی دہائی میں بدقسمتی سے یہودیوں پر ہونے والے حملوں کے بعد بھی کچھ لوگ استنبول چھوڑ گئے۔

"آج کافی حد تک گھٹ جانے والی چند مسیحی اور یہودی برادریوں کو اپنی عبادت گاہوں کو برقرار رکھنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ گو کہ امامِ مسجد کو مذہبی امور کی انتظامیہ کی جانب سے اپنی تنخواہ ملتی ہے جبکہ گرجے کے پادری یا کنیسہ کے ربی کو یہ سہولت حاصل نہیں۔ ان کو تنخواہ اس چندے سے ہی مل سکتی ہے جو برادری فراہم کرتی ہے۔”

لیوی نے زور دیا کہ جب آبادی میں کمی آتی ہے تو اس سے چندے جمع کرنے میں بڑے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

جمہوری عمل کا اقلیتوں کے حقوق میں حصہ

آشوری قدیمی فاؤنڈیشن کے سربراہ سائت سوسن نے انصاف و ترقی پارٹی (آق پارٹی) کے عہد میں ہونے والی پیشرفت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ "ہم پچھلے 17 سال میں ایسے مقام پر ہیں جس کا ہم نے تصور بھی نہیں کیا تھا۔”

سوسن نے کہا کہ "ترکی اور استنبول میں اقلیت کا تصور وہی ہے جو دنیا کے دیگر حصوں میں ہے،” انہوں نے ملک میں اقلیتوں کے حقوق کی بہتری کے لیے جمہوری عمل کے فروغ کو اہم قرار دیا۔

"جمہوری تاریخ میں اقلیتوں کو کافی نقصان اٹھانے پڑے۔ البتہ پچھلے ‏16-17‎ سالوں میں ہم نے اتنے حقوق حاصل کرلیے ہیں جس کا جمہوری تاریخ کے بیشتر عہد میں تصور بھی نہیں کیا جا سکتاتھا۔”

املاک کی واپسی کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 2008ء میں جاری کردہ اس ایکٹ کی بدولت تمام اقلیتوں کو بالآخر سکون کا سانس لینے کا موقع ملا۔

"پچھلے 17 سالوں میں ہم کسی بھی وقت ریاست سے کسی بھی سطح پر رابطہ کر سکتے ہیں، اپنے مسائل اور مطالبات پیش کر سکتے ہیں اور زیادہ تر کسی حل تک پہنچ جاتے ہیں۔”

مذہبی شخصیت کی تیاری اور مالی ضروریات پر بات کرتے ہوئے لیوی نے کہا کہ "مدارس مسلمانوں کے لیے مذہبی شخصیت تو تیار کر لیتے ہیں لیکن مسیحی یا یہودی مذہبی شخصیت تیار کرنے کے لیے کسی کو پرانے انداز اختیار کرنے پڑتے ہیں یا مذہبی تعلیم کے لیے بیرونِ ملک جانا پڑتا ہے۔ تب مالی ضرورت پڑتی ہے۔ خاص طور پر اناطولیہ کی چھوٹی مسیحی برادریاں نہ اپنے گرجے بنانے کے قابل ہیں اور نہ ہی انہیں مذہبی افراد فراہم کرنے کے۔”

ترکی مختلف مسیحی برادریوں کا مسکن ہے کہ جن میں آرتھوڈوکس، کیتھولک اور پروٹسٹنٹ سب شامل ہیں جن کی جڑیں صدیوں پہلے عثمانی دور میں پیوست ہیں۔ پھر ترکی سینٹ نکولس کی جائے پیدائش بھی ہے جو آرتھوڈوکس دنیا کے ایک مشہور پادری تھے جنہیں سینٹ سمجھا جاتا ہے کہ جن کی سخاوت آج ہمیں سانتا کلاز کے جدید کردار میں نظر آتی ہے۔

اقلیتوں کے تحفظ کے لیے قانون نافذ کرنے والوں اداروں کی بھرپور کوششیں

مالی وسائل کی کمی سکیورٹی میں کمزوری کا بھی سبب بنتی ہے، لیوی نے کہا۔ کنیسوں کی حفاظت کے حوالے سے توقعات پر زور دیتے ہوئے لیوی نے کہا کہ گزشتہ 30 سالوں میں کنیسوں پر چند حملے ہوئے ہیں۔

"سکیورٹی حکام یہودی اور مسیحی عبادت گاہوں کی اچھی طرح حفاظت کرتے ہیں، خاص طور پر مذہبی تقریبات کے دنوں میں< لیکن پھر بھی ایسے عملے کی ضرورت ہے جو برادری کے اراکین کو جانتا ہو اور سکیورٹی حکام کی مدد کے لیے دروازے پر موجود ہو۔" انہوں نے کہا۔ "ہمیں عبادت کی آزادی کے حوالے سے کوئی مسئلہ نہیں،" سوسن نے کہا کہ انہیں جمہوری تاریخ میں کبھی اس حوالے سے مسئلے کا سامنا نہیں رہا۔" البتہ گزشتہ پانچ چھ سالوں میں جب ہم گرجوں میں کوئی تقریب منعقد کرتے ہیں تو سکیورٹی فورسز مطالبہ کرتی ہیں کہ انہیں پہلے سے تاریخیں بتائی جائیں تاکہ وہ اس مقام پر کمک بھیجیں۔ "خدا کا شکر ہے کہ کوئی افسوس ناک واقعہ پیش نہیں آیا۔" انہوں نے کہا۔ لیوی نے بھی اس امر کی جانب اشارہ کیا کہ کئی ارمنی اور یونانی مکاتب ترکی میں بہترین طریقے سے تعلیم فراہم کر رہے ہیں۔ "اولوس میں یہودی انگریزی کے علاوہ اپنی زبان میں تعلیم دے رہے ہیں۔ ترک وزارت تعلیم ان کے ڈپلوما کو تسلیم کرتی ہے اور یہاں تک کہ مدد بھی فراہم کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر طلب کیا جائے تو وزارت اساتذہ کے تاریخ، جغرافیہ، سماجی علوم اور ترکی زبان کے کورسز پر مالی مدد بھی دیتی ہے۔" تعلیم کے حوالے سے بڑے مسائل میں مالی فنڈز کی کمی پر زور دیتے ہوئے سوسن نے کہا کہ معاہدہ لوزان کے برعکس، جمہوری تاریخ کے بیشتر حصے میں آشوریوں کو اپنے اسکول قائم کرنے سے روکا گیا۔ "اس کا مطلب یہ نکالا گیا کہ صرف ارمنی، یونانی اور یہودیوں کو اپنے اسکول کھولنے کی اجازت ہے۔ البتہ 2013ء میں اس معاملے پر ہماری کوششوں سے وزارت تعلیم کے حکام نے کہا کہ اس مسئلے کو عدالت کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے اور عدالت کے فیصلے کے ساتھ ہم بھی اپنے تعلیمی ادارے کھولنے کے قابل بنے۔" انہوں نے کہا۔ آشوری گرجے کا افتتاح، جمہوری عہد میں ایک سنگ میل

سوسی نے مزید زور دیا کہ صدر رجب طیب ایردوان نے گزشتہ ہفتے آشوری گرجے کا سنگ بنیاد رکھا ہے جو بہت اہمیت رکھتا ہے۔

"یہ جمہوری تاریخ میں پہلا موقع ہے۔ اگر صدر کی مرضی نہ ہوتی تو اس طرح سنگ بنیاد رکھنا ممکن نہ ہوتا،” انہوں نے کہا۔

جمہوری تاریخ میں پہلی بار ایردوان کی شرکت سے ایک گرجے کی بنیادیں رکھیں گئیں۔ استنبول کے نئے آشوری آرتھوڈوکس گرجے کی تعمیر دو سالوں میں مکمل ہوگی، ایردوان نے کہا کہ رواں ماہ کے آغاز میں سنگِ بنیاد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا۔

شہر کے یورپی علاقے کے یشل کوئے ضلع میں خطاب کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ "میں مور افراہیم آشوری گرجے کو استنبول کی گوناگونی میں ایک نیا اضافہ سمجھتا ہوں۔ دیگر تمام مسائل کی طرح ہمارے جغرافیے کی قدیم آبادی آشوری برادری کی عبادت کی ضروریات کو پورا کرنا بھی جمہوریہ ترکی کی ریاستی ذمہ داری ہے۔”

"ہم ایسی قوم ہیں جنہوں نے خطے پر تقریباً ایک ہزار سال حکومت کی ہے اور استنبول پر 566 سال ہے۔ اس طویل تاریخ میں ہمارے خطے میں ہمیشہ مذہبی، نسلی اور ثقافتی تنوع کو جگہ دی گئی ہے اور سب سے اہم یہ کہ انسانیت کےضمیر کو۔” انہوں نے مزید کہا۔

نیا گرجا جمہوری عہد میں پہلا گرجا ہوگا جسے صفر سے تعمیر کیا جا رہا ہے۔ گرجا یشل کوئے میں ایک اطالوی قبرستان کے قریب واقع بلدیہ کی ایک خالی جگہ پر تعمیر ہوگا۔ یہ باقر کوئے ضلع سے ملحقہ علاقہ ہے کہ جہاں آشوری برادری کی بڑی تعداد مقیم ہے۔

غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ترکی میں 25,000 آشوری مسیحی رہتے ہیں، جن میں سے تقریباً 18,000 استنبول میں مقیم ہیں۔

غضب شدہ املاک کی واپسی کا عمل ہموار انداز میں جاری

اقلیتوں کی املاک کی واپسی کے ہموار انداز میں جاری عمل پر بات کرتے ہوئے لیوی نے کہا کہ "چھ سال قبل اس قانون نے اقلیتی فاؤنڈیشنز کو وہ املاک واپس لینے کا حق دیا کہ جو 1936ء کے اعلامیہ میں شامل تھیں۔ اس سلسلے میں فاؤنڈیشنز نے اپنی املاک کے حوالے سے مطالبات جنرل ڈائریکٹوریٹ کو پیش کیے۔”

لیوی نے کہا کہ دو سال کے اندر سینکڑوں فائلیں جاری کی گئیں اور کچھ منظور ہوئیں اور دوسری مسترد کردی گئیں۔

"50 ایسی املاک ہیں کہ جو محض پچھلے سال ہی میں آشوری برادری کو واپس کی گئی ہیں۔” انہوں نے بتایا۔

جو املاک کبھی ارمنی، یونانی اور یہودی برادری کی مذہبی فاؤنڈیشنز کی ملکیت تھیں، ماضی میں ریاست کی امتیازی پالیسیوں کی وجہ سے ہتھیا لی گئی تھیں۔ ان املاک میں تاریخی عمارات سے لے کر گرجے اور اسکول تک شامل تھے، جو ضبط کیے جانے کے بعد زیادہ تر تیسرے فریقین کو فروخت کردی گئی تھیں۔

وکیل اور اقلیتوں کے حقوق کی ماہر قزبان حاتمی کے مطابق 2000ء کی دہائی میں اقلیتی حقوق پر کافی حرکت پیدا ہوئے، جس کی ایک وجہ ترکی کی جانب سے یورپی یونین کی رکنیت کا عمل بھی ہے۔

"گو کہ اس معاملے پر کچھ بہتری ضرور ہوئی ہے لیکن اقلیتوں کی قرق شدہ املاک اب بھی مکمل طور پر اقلیتی برادریوں کو واپس نہیں ملیں،” انہوں نے کہا۔ اقلیتی فاؤنڈیشنز کی املاک کی انہی کو واپسی کے لیے قوانین سب سے پہلے 2003ء میں یورپی یونین کے قوانین کے حصے کے طور پر بنائے گئے۔ اس قانون کے تحت 365 املاک کو اپنے حقیقی مالکان کو واپس کیا گیا۔ 2008ء میں بنائے گئے ایک قانون کے مطابق 181 املاک واپس ہوئی۔ دیگر قوانین 2011ء اور 2014ء میں بنے کہ جن سے 333 املاک اپنے حقیقی مالکوں کو واپس پہنچیں۔ 2003ء سے 2014ء کے درمیان ان قوانین کی وجہ سے کل 1,029 املاک اقلیتی فاؤنڈیشنز کو واپس ملی جبکہ 21 دیگر مقدمات میں ادائیگی کی گئی۔

تبصرے
Loading...