لبنانی سیاست دان کی عرب رہنماؤں پر کڑی تنقید، فلسطین پر سخت عثمانی مؤقف کا تذکرہ

0 2,395

لبنان کی ترقی پسند سوشلسٹ پارٹی کے صدر ولید جنبلاط نے بحرین کانفرنس میں شریک ہونے والے خلیجی ممالک کے رہنماؤں پر ملامت کرتے ہوئے انہیں فلسطینیوں سے "دھوکا” کرنے پر خبردار کیا ہے اور انہیں فلسطین کی آزادی پر عثمانیوں کے غیر لچک دار رویّے کی یاد دلائی۔

ایک یہودی امریکی کاروباری شخصیت ار امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کوشنر کی جانب سے بحرین میں منعقدہ "امن برائے ترقی” ورکشاپ کو فلسطین کے لیے امن منصوبے کے طور پر پیش کیا گیا تھا یہاں تک کہ اسے "اس صدی کا سب سے بڑا معاہدہ” قرار دیا تھا۔

فلسطین-اسرائیل تنازع کے تمام فریقین کو مذاکرات کی میز پر اکٹھا کرنے میں ناکامی کے ساتھ فلسطینیوں نے کوشنر کے معاہدے کر واضح طور پر مسترد کردیا۔

جنبلاط نے کانفرنس اور اسرائیل نواز عرب رہنماؤں پر کھلی تنقید کوشنر کی جانب سے عرب دنیا کو اس معاہدے کی جانب متوجہ کرنے کی کوششوں کو دھچکا لگنے کے وقت آئی۔

"سلطان عبد الحمید ثانی کے عہد میں تھیوڈور ہرزل نے اُن سے فلسطین خریدنے اور وہاں یہودیوں کو آباد کرنے کی بات کی اور سلطان نے انکار کردیا تھا۔ آج بحران میں ہرزل کے پوتے جیرڈ کوشنر عربوں سے فلسطین بیچنے کی بات کریں گے تاکہ فلسطینی خاندانوں کو اردن، سینا، لبنان اور شام منتقل کردیں۔ کیا عرب ایسا کریں گے جبکہ عثمانیوں نے انکار کردیا تھا؟” لبنانی رہنما نے کہا۔

ہرزل اسرائیل کے نظریہ صیہونیت کے بانی تھے جن کی تصویر اسرائیلی پارلیمان میں نصب ہے۔ 1896ء میں ہرزل نے "یہودی ریاست” لکھی جو صیہونیت کی سب سے اثر انگیز کتابوں میں سے ایک سمجھی جاتی ہے اور اسرائیل کی ریاست کا نقشہ کھینچتی ہے۔ انہوں نے سوئٹزرلینڈ کے شہر باسل میں پہلی صیہونی کانگریس کا بھی انتظام کیا۔

جنبلاط نے عربوں کو وہ وقت یاد دلایا جب عثمانی سلطان عبد الحمید ثانی نے فلسطین میں صیہونی آبادکاری کو قبول کرنے سے انکار کردیا تھا۔

ہرزل نے صیہونی منصوبے کی تکمیل کے لیے ان تھک کوششیں کیں اور عبد الحمید ثانی سمیت دنیا بھر میں اہم سیاسی شخصیات سے ملاقاتیں کیں۔

1896ء سے 1902ء تک انہوں نے کم از کم پانچ مرتبہ استنبول کے دورے کیے جو اس وقت سلطنتِ عثمانیہ کا دارالحکومت تھا۔ انہوں نے سلطنت پر موجود قرضوں کا بوجھ ہلکا کرنے کی پیشکش کی، جو اس نے یورپی ریاستوں کو دینے تھے اور اس کے بدلے میں فلسطینی علاقے مانگے۔

سلطان نے اس پیشکش کو مسترد کردیا۔

اپنی یادداشتوں میں نے ہرزل نے کہا کہ عبد الحمید ثانی کا انکار اُن تک فلپ مائیکل ریتر وان نیولنسکی کے ذریعے پہنچا جو پولینڈ کے ایک نواب تھے۔

"میں اس زمین کا معمولی سا ٹکڑا بھی (صیہونیوں کو) نہیں بیچ سکتا کیونکہ یہ زمین میری نہیں بلکہ میری قوم کی ہے۔ میری قوم نے اس علاقے کو جنگ و جدل سے اور خون بہا کر حاصل کیا ہے۔ یہ زمینیں ہم سے صرف لڑ کر ہی حاصل کی جا سکتی ہیں۔” عبد الحمید ثانی نے کہا۔ "یہودیوں نے کہہ دو کہ اپنے اربوں کھربوں سنبھال کر رکھیں۔ سلطنت کے خاتمے کے بعد فلسطین انہیں مفت ہی مل جائے گا۔ ہماری لاشوں کے ٹکڑے ہو سکتے ہیں لیکن جب تک ہم زندہ ہیں میں کسی بھی ملک کو فلسطین چھیننے نہیں دوں گا۔”

سلطان عبد الحمید کے اس تاریخی جواب پر صیہونی رہنما بھی تعریف کیے بنا نہ رہ سکے کہ جنہوں نے اپنی یادداشتوں میں لکھا "سلطان کے واضح اور اعلیٰ جواب نے مجھے جذباتی کردیا اور ہلا کر رکھ دیا تھا۔ گو کہ انہوں نے میری امیدوں پر پانی پھیر دیا تھا لیکن سلطان کی جانب سے سلطنت کے خاتمے اور ٹکڑے ہونے کی پیش گوئی میں ایک دردناک حسن پوشیدہ تھا، جو اپنی آخری سانس تک لڑنے کی جستجو کا اعلان کر رہے تھے۔”

سلطان کا انتقال 1918ء میں ہوا جب سلطنت عثمانیہ کے مشرق وسطیٰ میں بیشتر علاقے اتحادی طاقتوں کے قبضے میں آ چکے تھے اور دوسری جنگِ عظیم کے بعد تقسیم ہوگئے، یوں عثمانی ریاست کا بھی غیر علانیہ خاتمہ ہو گیا۔

تبصرے
Loading...