آئیے پاکستان کے سیاسی بحران کو سمجھیں | علی شاہین

0 1,290

علی شاہین، ترکی میں سب سے بڑے پاکستانی ہیں، انہوں نے کراچی یونیورسٹی سے عالمی تعلقات میں بیچلر اور ماسٹر کی ڈگری حاصل کی۔ وہ ترک پارلیمنٹ کے واحد رکن ہیں جنہیں اردو زبان پر بھی عبور حاصل ہے۔ وہ غازی انتیب شہر سے حکمران آق پارٹی کے رکن پارلیمان ہیں۔ پاک ترک دوستی پارلیمانی گروپ کے چئیرمین کے علاوہ اس وقت ترک پارلیمنٹ کے امور پارلیمان کے سربراہ ہیں۔ اس سے قبل وہ نائب وزیر برائے یورپی یونین معاملات بھی رہے ہیں۔ ذیل میں ان کی تازہ تحریر اردو میں پیش کی جا رہی ہے جو انہوں نے پاکستان کے بارے ترکوں کی آگاہی کے لیے لکھی ہے۔


پاکستان میں کیا ہوا ہے؟

پاکستان میں کیا ہوا؟ پاکستان کو 8 مارچ سے ایک سیاسی بحران کا سامنا ہے جو 3 اپریل کو پارلیمنٹ کے سپیکر قاسم سوری کی طرف سے عمران خان حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کو پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 5 کے تحت مسترد کرنے کے بعد ایک نئے آئینی بحران کی شکل اختیار کر گیا ہے۔

تو، پاکستان میں پہلی بار یہ سیاسی ہنگامہ خیزی کا عمل کیسے اور کیوں آیا، اور کیسے انجام پذیر ہوا ہے؟

سب سے پہلے تو یہ واضح کر دینا چاہیے کہ پاکستان میں یہ سیاسی بحران پہلا نہیں ہے۔

اس سے پہلے بھی پاکستان میں جمہوریت میں مداخلتیں ہوئیں جن کے نتیجے میں کبھی فوجی بغاوتیں ہوئیں، کبھی بیرونی طور پر پیدا ہونے والے سیاسی بحران پیدا ہوئے تو کبھی پارلیمنٹ کی تحلیل واقع ہوئی۔ صرف ایک چیز جو اس بار مختلف ہے وہ یہ ہے کہ پہلی بار اس طرح کی مداخلت شاید ناکام ہوئی ہے…

سی آئی اے کے فنگر پرنٹ

بے نظیر بھٹو، پاکستان کے طاقتور لیڈروں میں سے ایک تھیں، انہوں نے اپنی یادداشت (دختر مشرق) میں، جو انہوں نے اپنے قتل سے صرف ایک ماہ قبل مکمل کی تھی، اس بارے بات کی تھی کہ سی آئی اے نے پاکستان کے استحکام، ترقی، شرح نمو اور سلامتی کے راستے اور رفتار کو کیسے "وہیل سٹاپ” آپریشنز کے ذریعے روکتی ہے۔

2007ء میں پاکستان کی سیاسی تاریخ اور عالمی خواتین کی سیاست کی سب سے طاقتور سیاسی شخصیت اور عظیم رہنماؤں میں سے ایک بے نظیر بھٹو کا قتل بھی ایک سیاسی آپریشن تھا اور پاکستان کے خلاف "وہیلزاسٹاپ آپریشن” کی ہی ایک کارروائی تھی۔

عمران خان کی باری ناکام ہوئے

آئیے اب تازہ صورتحال کی طرف آتے ہیں۔ عمران خان نے روسی صدر پیوتن کے یوکرائن پر حملے کے دوران پاکستان کی قدرتی گیس اور اناج کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے 23-24 فروری کو روس کا دورہ کیا اور پیوتن سے بات چیت کی۔

7 مارچ کو پاکستان میں امریکی سفیر اور امریکی نائب وزیر خارجہ ڈونلڈ لو کے درمیان واشنگٹن میں ہونے والی سرکاری ملاقات کے دوران ڈونلڈ لو نے یہ جملہ کہا کہ "جب تک عمران خان اقتدار میں ہیں ہمارے تعلقات آگے نہیں بڑھ سکتے ہیں”۔

ٹائمنگ بہت اہم ہے

اور اس جملے کے ٹھیک ایک دن بعد، عمران خان اور پی ٹی آئی کی حکومت کے خاتمے پر عدم اعتماد کا سوال سامنے آتا ہے، جو انہوں نے پاکستان میں مارچ 2018ء کے عام انتخابات میں 342 میں سے 155 ارکان کے ساتھ مخلوط آٹھویں حکومت بنائی تھی۔

تقریباً ایک ماہ تک جاری رہنے والے سیاسی بحران کے بعد اتوار 3 اپریل کو عدم اعتماد کی ووٹنگ کے لیے بلائی جانے والی پارلیمنٹ میں، اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کو اس بنیاد پر مسترد کر دیا کہ  یہ تحریک عدم اعتماد آئین کے آرٹیکل 5 کے خلاف ہے۔

کسی حکومت نے مدت پوری نہیں کی

اپوزیشن کی مخالفت کے تحت وزیراعظم عمران خان نے اسی روز صدر عارف علوی کو خط لکھا جس میں پارلیمنٹ کو تحلیل کرکے 90 روز میں انتخابات کرانے کی سفارش کی گئی۔ پاکستانی پارلیمنٹ تحلیل کر دی گئی ہے اور نئے انتخابات فیصلہ کیا گیا ہے۔

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں آج تک کوئی بھی حکومت اپنی 5 سالہ حکمرانی مکمل نہیں کر سکی۔ قبل از وقت انتخابات کے فیصلے سے اب پھر روایت برقرار رہی ہے۔

پاکستان میں اس سیاسی بحران اور انتشار کی جڑ کیا ہے؟

پہلی بات تو یہ ہے کہ پاکستان ایسا ملک نہیں ہے جسے مغرب، ترکی کی طرح اکیلا چھوڑ دے۔ اس کی کئی اہم وجوہات ہیں:

1- پاکستان واحد مسلم ملک ہے جو ایٹمی طاقت اور صلاحیت رکھتا ہے۔

2- ایک ایسا ملک جو چین کا پڑوسی ہے اور روس سے اچھے تعلقات کا خواہاں ہے۔

3- اس کی جغرافیائی سیاسی پوزیشن انتہائی اہم ہے۔

وہ صدر ایردوان کو رول ماڈل مانتے ہیں

لیکن ان سب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ پاکستان مکمل طور پر خود مختار ملک بننے کے لیے، ترقی اور نمو کے لیے ترکی کو ایک ماڈل کے طور پر لیتا ہے،پاکستان کی حکمران جماعت تحریک انصاف،آق پارٹی کو جبکہ پاکستان کے کرشماتی اور طاقتور رہنما عمران خان، رجب طیب ایردوان کو ایک ماڈل کے طور پر دیکھتے ہیں۔۔۔

پاکستان میں ہونے والی میٹنگ میں اور جس میں میں بھی موجود تھا، عمران خان نے ہمارے صدر رجب طیب ایردوان سے کہا تھا کہ مجھے اور پاکستان کو ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے ترکی میں آق پارٹی کے اقتدار میں آنے کے پہلے دن تھے، اور ہم بھی وہیں سے ترقی کا آغاز کرنا چاہتے ہیں جہاں سے آپ اپنے تجربات کے ساتھ شروع کی۔

آپریشن وہیل سٹاپ ناکام ہو گیا

ایک اور اہم نکتہ جو اس ساری صورتحال کی وضاحت کرے گا وہ عمران خان فیکٹر ہے۔ مغرب کو مسلم ممالک پر ایسے رہنما بر سراقتدار نہیں چاہیں جو طاقتور مغرب کے محور سے باہر نکلنے کی کوشش کریں اور اپنے آپ پر اور ان کے فیصلوں پر سوال اٹھائیں۔ مغرب ایسے رہنما چاہتا ہے جو اس ہدایات لیں۔ عمران خان ایک پختون لیڈر ہے جو ان کے اس بیانیہ پر پورا نہیں اترتا ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ پاکستانی سیاسی تاریخ میں پہلی بار عمران خان نے پاکستان میں شروع ہونے والے وہیل سٹاپ آپریشن کے پہیے میں ڈنڈا مار کر اسے ناکام بنا دیا ہے۔ اس کے نتائج عمران خان اور پی ٹی آئی پر پڑنے کے امکانات ہیں۔ عمران خان اور پی ٹی آئی، جنہوں نے پہلی بار مغرب کی قائم کردہ روایات کو توڑا ہے، انہیں بہت ہوشیار رہنا چاہیے۔

اب کوئی بھی چیز پہلے جیسی نہیں رہی۔۔

اس سے پہلے بھی مغرب نے ذوالفقار علی بھٹو، ضیاء الحق، بے نظیر بھٹو اور نواز شریف جیسے پاکستان عوام سے جڑے طاقتور سیاسی رہنماؤں کے تیز رفتاری اور آگے بڑھتے پہیو کو روک دیا تھا، جو پاکستانی سیاست میں مغرب کے مدار سے باہر نکلے اور ان کی کھینچی ہوئی سرخ لکیروں سے آگے نکل گئے۔

تاہم بڑھاپے اور اس سے جڑی بیماری ڈیمنشیا کے شکار مغرب کو سمجھنا ہو گا، اس صورتحال کا سامنا کرنا ہو گا اور اس کے لیے یہ سب قبول کرنا ضروری ہو چکا ہے کیونکہ نہ امریکہ اب پرانا امریکہ رہا ہے، نہ یورپی یونین پرانی یورپی یونین رہی ہے، نہ ترکی پرانا ترکی رہا ہے، نہ پاکستان اب پرانا پاکستان رہا ہے۔

تبصرے
Loading...
%d bloggers like this: