لیبیا نے ترکی سے فوجی مدد کی باضابطہ درخواست کر دی

0 368

لیبیا کی اقوامِ متحدہ کی تائید رکھنے والی حکومت گورنمنٹ آف نیشنل ایکرڈ (GNA) نے دارالحکومت طرابلس کو جنرل خلیفہ ہفتار کی فوجوں سے بچانے کے لیے ترکی نے "فضائی، زمینی اور بحری” فوجی مدد کی باضابطہ درخواست کر ڈالی ہے۔

لیبیا کے وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ اگر طرابلس کے گرد لڑائی شدت اختیار کر جاتی ہے تو وہ ترکی سے فوجی مدد طلب کریں گے۔ مشرقی لیبیا میں موجود ہفتار کی فوج نے اس پیش رفت پر اب تک کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

انقرہ کے ڈپٹی امر اللہ ایش لر نے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ "جب اقوام متحدہ کی تسلیم شدہ حکومت ہم سے مدد طلب کرے تو ہم خاموش نہیں بیٹھ سکتے۔ ہم ایک جائز اور قانونی لیبیائی حکومت کی دعوت قبول کریں گے، جس کے ساتھ ہم 361 سال پر پھیلی تاریخ رکھتے ہیں۔”

اس دعوت پر ترکی کے صدر ایردوان نے کہا کہ وہ جلد ہی پارلیمنٹ میں فوج لیبیا بھیجنے کے حوالے سے بل متعارف کروائیں گے۔

جنوری کے اوائل میں پارلیمنٹ کے دوبارہ آغاز کے بعد فوجیوں کو لیبیا بھیجنے کا فرمان ایجنڈے پر ہوگا۔ انہوں نے ترکی کے عزم کا اعادہ کیا کہ طرابلس انتظامیہ کو ضروری مدد فراہم کی جائے گی، جو ایک باغی کمانڈر ہفتار سے لڑ رہی ہے کہ جسے چند یورپی اور عرب ممالک کی پشت پناہی حاصل ہے۔”

پچھلے مہینے ترکی کی پارلیمنٹ نے لیبیا کی GNA کے ساتھ ایک سکیورٹی اور ملٹری معاہدے کی منظوری دی تھی۔ یہ معاہدہ گزشتہ روز آفیشل گیزٹ میں شائع ہوتے ہی لاگو ہو گیا۔

یہ معاہدہ دارالحکومت طرابلس اور ملک کے چند مغربی علاقوں پر موجود لیبیا کی حکومت کی درخواست پر ترکی کو اسے فوجی تربیت اور آلات فراہم کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

فوجی تعاون کے معاہدے کے بعد ایردوان نے کہا کہ اگر طرابلس حکومت باضابطہ درخواست کرتی ہے تو انقرہ فوجی دستے لیبیا بھیجنے پر غور کر سکتا ہے۔

ترکی اقوامِ متحدہ کی حمایت یافتہ حکومت کو خود ساختہ جنگجو رہنما ہفتار کی ملیشیا اور کرائے کے سپاہیوں کے خلاف تحفظ فراہم کرتا ہے۔ طرابلس میں قائم GNA کے وزیر اعظم فائز سراج نے امریکا، برطانیہ، اٹلی، الجزائر اور ترکی کے رہنماؤں کو خطوط لکھے جن میں ان سے ” سکیورٹی تعاون کے معاہدوں کو عملی صورت دینے” پر زور دیا گیا۔

اس کا مقصد "خلافِ قانون کام کرنے والے کسی بھی مسلح گروہ کی لیبیائی دارالحکومت کے خلاف جارحیت کا سامنا کرنے، سماجی امن و سکون کو تحفظ دینے اور لیبیا میں استحکام لانے کے لیے GNA کی مدد کرنا ہے۔” انہوں نے کہا ۔

سراج نے داعش اور القاعدہ سے لڑنے کے لیے بھی مدد طلب کی، جن کا کہنا ہے کہ ہفتار کی پیش قدمی نے ان دہشت گرد گروپوں کو لیبیا میں سر اٹھانے کا "موقع اور ماحول” فراہم کر دیا ہے۔

GNA کی جانب سے اعلان کے بعد اقوام متحدہ کے مشن برائے لیبیا UNSMIL نے ایک مرتبہ پھر تنازع کے سیاسی حل کا مطالبہ کیا ہے۔

2011ء میں طویل عرصے تک حکمرانی کرنے والے آمر معمر قذافی کا تختہ الٹ جانے اور موت کے بعد لیبیا میں طاقت کے دو مراکز بن گئے ہیں۔ ترکی، قطر اور اٹلی سراج کی حکومت کے ساتھ ہیں جو طرابلس میں ہے جبکہ مشرقی لیبیا میں موجود دستوں کی قیادت کرنے والے ہفتار کو فرانس، روس اور اہم عرب ممالک، بشمول مصر، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کی پشت پناہی حاصل ہے۔

تبصرے
Loading...