لیبیا کی حکومت نے سیزفائر کا اعلان کر دیا

0 233

لیبیا کی حکومت نے تمام مسلح افواج کو فوری سیزفائر کا حکم دیا ہے اور تمام جنگی آپریشنز روکنے کا اعلان کر دیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ سرت اور جفرہ کے علاقوں سے سکیورٹی انتظامات کے ساتھ فوج ہٹانے کے لیے سیزفائر کی ضرورت ہے۔

بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت گورنمنٹ آف نیشنل ایکرڈ (GNA) نے بیان میں اس امر کی بھی تصدیق کی کہ مارچ میں صدارتی و پارلیمانی انتخابات کا مطالبہ درست ہے۔

بیان کے بعد مشرقی لیبیا کی پارلیمنٹ کے اسپیکر عقیلہ صالح، جو باغی جرنیل خلیفہ حفتر کی حمایت کرتے ہیں، نے بھی لیبیا میں فوری سیزفائر کا مطالبہ کیا۔

صالح نے کہا کہ صلح کے تحت سرت نئی صدارتی کونسل کا عارضی صدر مقام بنے گا جس کی حفاظت مشترکہ پولیس فورس کرے گي۔

فریقین کی جانب سے سیزفائر کے اعلان کا لیبیا میں اقوام متحدہ کے سپورٹ مشن (UNSMIL) کی جانب سے خیر مقدم کیا گیا ہے۔ ایک ٹوئٹ میں مشن نے کہا ہے کہ یہ قدم ملک میں "سیاسی عمل کو متحرک کرے گا۔”

بدھ کو اعلان یہ اعلان کیا گیا تھا کہ لیبیا کی ہائي اسٹیٹ کونسل کے سربراہ خالد مشری مراکش میں صالح سے ملنے پر رضامند ہو گئے ہیں۔

لیبیا 2011ء میں معمر قذافی کا تختہ الٹے جانے کے بعد سے بدترین خانہ جنگی کا شکار ہے۔ GNA کا قیام 2015ء میں اقوامِ متحدہ کے تحت ایک معاہدے سے عمل میں آیا، لیکن طویل المیعاد سیاسی حل کی کوششیں خلیفہ حفتر کی وفادار فوجوں کی عسکری پیش قدمی کی وجہ سے ناکام ہوئیں۔

وزیر اعظم فیض سراج کی زیر قیادت GNA اپریل 2019ء سے خلیفہ حفتر کی ملیشیا کےخلاف لڑ رہی ہے اور اس میں ہزاروں لوگوں کی جانیں گئی ہیں۔

ترکی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کو مانتا ہے کہ جبکہ روس، فرانس، مصر اور متحدہ عرب امارات باغی جرنیل کی حمایت کر رہے ہیں۔

تبصرے
Loading...