کشمیریوں کو اپنے مستقبل کے تعین کا جمہوری حق دینا ہندوستانی جمہوریت کے لیے لٹمس ٹیسٹ ہے، سفیرِ پاکستان

0 1,230

ترکی میں پاکستان کے سفیر سائر سجاد قاضی نے کہا ہے کہ کشمیریوں کو اپنے مستقبل کے تعین کا جمہوری حق دینا ہندوستانی جمہوریت کے لیے لٹمس ٹیسٹ ہے۔ جموں و کشمیر کے متنازعہ علاقہ کے الحاق سے متعلق ہندوستان کے یکطرفہ اقدامات کے دوسرے سال، سفیر پاکستان نے ترک میڈیا انادولو ایجنسی کو بتایا کہ 5 اگست 2019ء جموں و کشمیر کی تاریخ میں یوم سیاہ کے طور پر لکھا جائے گا۔ ہندوستان نے اس دن واضع طور پر بتا دیا تھا کہ اسے کشمیریوں کی خواہشات کی ذرا پروا نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ "ہندوستان بالکل وہی اقدامات کر رہا ہے جیسا کہ تاریخ عالم میں تمام قابض طاقتیں کرتی آ رہی ہیں، نقل و حرکت پر پابندی، پریس، انٹرنیٹ بند ، لوگوں کے باہر آنے اور گھروں کے اندر جانے پر پابندی، اسکولوں کی بندش، رہنماؤں کی گرفتاری۔ غرض ہر اس چیز سے ان لوگوں کو محروم کرنا جن پر انہوں نے قبضہ کر رکھا ہے یہ قابض قوتوں کی روایت ہے اور ان سے احتجاج کا ہر وہ حق ان سے چھین لینا جو وہ استعمال کرنے کی کوشش کریں”۔

سائرس سجاد قاضی نے کہا کہ ہندوستان کے پاس مقبوضہ جموں و کشمیر میں اپنی کارروائیوں کو جائز قرار دینے کے لیے کوئی اخلاقی یا قانونی دلیل نہیں ہے اور یہ کہ کشمیر میں ہندوستان کے موقف کو ثابت کرنے والی چیز قانون یا اخلاقیات نہیں بلکہ یہ صرف طاقت تھی۔

انہوں نے یاد دلایا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعدد قراردادوں کے ساتھ ساتھ 1972ء کے شملہ معاہدے میں جموں و کشمیر کو ایک متنازعہ علاقہ تسلیم کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 122 جو 1957ء میں منظور کی گئی تھی، پاکستان اور ہندوستان کو ایسے کسی بھی اقدام سے روکتا ہے جو جموں و کشمیر کی سرزمین کے مستقبل کو متاثر کرے۔

انہوں نے کہا، "صرف وہ لوگ جنہیں جموں و کشمیر کی حیثیت میں کوئی تبدیلی لانے کا حق حاصل ہے وہ کشمیری ہیں اور وہ اقوام متحدہ کے زیر انتظام منصفانہ اور غیر جانبدارانہ رائے شماری کے ذریعے ایسا کر سکتے ہیں جس پر پاکستان ، ہندوستان اور اقوام متحدہ نے اتفاق کیا ہوا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ہندوستان اب کشمیریوں، پاکستانیوں اور عالمی برادری کے ساتھ اپنا وعدہ آسانی سے بھول گیا ہے”۔

انہوں نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف بات کرے اور کہا کہ یہ مناسب نہیں ہے کہ بولنے سے پہلے سوچا جائے کہ کہاں بولنا ہے اور کہاں نہیں بولنا ہے۔

تبصرے
Loading...