بیرونِ ملک رہائش کے لیے تارکینِ وطن ترکی میں کن مقامات کا انتخاب کرتے ہیں؟

0 272

ترکی میں موجود تارکینِ وطن کو عموماً دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: ایک پروفیشنل یعنی پیشہ ور افراد ، دوسرے ریٹائرمنٹ کی زندگی گزارنے والے۔ یہ کہاں رہنا پسند کرتے ہیں؟ اس کا براہِ راست تعلق ان کے موجودہ طرزِ زندگی سے ہے، پیشہ ور افراد شہروں میں رہنا پسند کرتے ہیں جبکہ فراغت کی پر سکون زندگی گزارنے کے خواہش مند جنوبی ساحلوں کا رخ کرتے ہیں۔

پیشہ ور افراد اور طلبہ دونوں کی سب سے زیادہ آبادی ترکی کے سب سے بڑے شہر اور معاشی، ثقافتی و تاریخی مرکز استانبول میں ہے۔ دو براعظموں پر پھیلے استانبول شہر میں کئی پرکشش علاقے ہیں، جن میں سے ہر علاقے کی اپنی جداگانہ خصوصیات ہیں۔ کیونکہ زیادہ تر تعلیمی ادارے شہر کے یورپی حصے میں واقع ہیں اس لیے تارکینِ وطن کا پہلا انتخاب یہی تیز رفتار زندگی رکھنے والا، گنجان آباد اور تاریخی حیثیت کا حامل حصہ ہے۔

دہائیوں سے تقسیم کے نواح میں اور کباتاش کی بندرگاہ سے اوپر واقع جہانگیر کا علاقہ پیشہ ور تارکینِ وطن کا مرکز سمجھا جاتا ہے، جو ترکی کے اداکاروں اور فن کاروں میں بھی مقبول ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں کا ماحول زندہ دلانہ اور رنگین ہے اور چائے خانے اور ریستوران بھی بہت ہیں۔ اس علاقے میں تقریباً ساری رہائش اپارٹمنٹس میں ہی ہے، لیکن اگر آپ خوش قسمت ہیں تو آپ کو ایسی جگہ بھی مل سکتی ہے کہ جہاں سے تاریخی جزیرہ نما اور نیلی مسجد اور آیا صوفیا جامع مسجد کے مینار بھی نظر آئیں۔

پچھلے کچھ سالوں سے بیشکتاش کا علاقہ جہانگیر کا مقابلہ کر رہا ہے کیونکہ انگریزی زبان کے اساتذہ اور دوسرے کیریئرز میں آگے بڑھنے کے خواہشمند افراد اس علاقے کا انتخاب کر رہے ہیں۔ وجہ ہے پبلک ٹرانسپورٹ کی موجودگی، رہائش گاہوں کے کرائے نسبتاً کم ہونا اور بھرپور رونق، یہاں ضروریاتِ زندگی کی تمام چیزیں باآسانی میسر ہیں۔

وہ لوگ جو ذرا متمول گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں، خاص طور پر بال بچوں والے، آبنائے باسفورس کے شمالی علاقے کا انتخاب کرتے ہیں جو ارناوت کوئے سے شروع ہوتا ہے اور امیرگان اور ترابیا تک پھیلا ہوا ہے۔ یہاں زندگی زیادہ آرام دہ اور پُرسکون ہے۔

قاضی کوئے کا ضلع اور خاص طور پر مودا اور یلدیغرمنی کے علاقے بھی تارکین وطن میں مقبول ہیں۔ ہر قسم کے چائے خانے، ریستوران اور دکانوں کے ساتھ یہ علاقہ شہر کے ایشیائی حصے میں واقع ہے، جہاں ایک دلکش و سرسبز ساحلی پٹی موجود ہے، جس کی گزرگاہیں چہل قدمی اور سائیکل سواری کے لیے بہترین ہیں۔

دارالحکومت انقرہ میں بھی تارکینِ وطن کی بڑی تعداد رہتی ہے، گو کہ یہ تعداد استانبول کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ یہاں رہنے والوں کی اکثریت سفارت خانوں یا تعلیمی اداروں سے منسلک ہے۔ یہی وجہ ہے کہ زیادہ تر یہ چانکایا ضلع میں رہتے ہیں۔

ترکی کے جنوبی ساحلوں پر تو ایک الگ ہی دنیا موجود ہے۔ یہاں ریزورٹس اور دیہات کے ساتھ ساتھ کئی شہر بھی واقع ہیں۔ بحیرۂ ایجیئن اور بحیرۂ روم کے ساحلوں کے درمیان دو اہم شہر ازمیر اور انطالیہ واقع ہیں، جو ریٹائرمنٹ کے بعد کسی نئے شہر کی تلاش کرنے والوں کے لیے بہترین مقامات ہیں۔ ازمیر اور انطالیہ دونوں ہی رہائش اور کام کے لیے تارکینِ وطن میں مقبول ہیں۔ ازمیر ترکی کا تیسرا اور انطالیہ پانچواں سب سے بڑا شہر ہے۔ قناق ایک خوبصورت اور دل نشین ضلع ہے جو پیشہ ورانہ مواقع اور ساحلی طرزِ زندگی کا بہترین امتزاج رکھتا ہے۔ انطالیہ شہر میں قونیہ آلتی اور لارا کے ساحلوں کے درمیان واقع علاقے کو سب سے زیادہ ترجیح دی جاتی ہے۔

ازمیر اور انطالیہ کے صوبوں اور ان کے درمیان واقع مغلا صوبہ، ترک اور یورپی باشندوں میں تعطیلات گزارنے کے پسندیدہ ترین مقامات موجود ہیں۔ ان میں سے کئی لوگ خوبصورت ساحلوں، آرام دہ زندگی اور تفریح طبع کے لیے سال بھر کے لیے ان علاقوں کا انتخاب کر لیتے ہیں۔ یہ یہاں کا شاندار موسم ہے، جو برطانیہ کے کئی شہریوں کی توجہ حاصل کر چکا ہے جو اب ترکی میں ہی رہتے ہیں۔

پرسکون زندگی گزارنے کے خواہش مند افراد زیادہ تر انہی علاقوں کا انتخاب کرتے ہیں جہاں شاید ہی کوئی عمارت تین منزلوں سے اوپر جاتی ہے اور ساحل سمندر کے ساتھ بھرپور شبانہ زندگی موجود ہے۔ جس سہولت کا آپ تصور کریں وہ میسر ہے اور سال کے بیشتر حصوں میں سورج بھی چمکتا رہتا ہے، بلکہ اپریل سے نومبر کے دوران سمندر میں باآسانی تیراکی بھی کی جا سکتی ہے۔ وہ سیاحتی علاقے کہ جو پرسکون رہائشی مقامات میں تبدیل ہو گئے، ان میں بودرم سب سے آگے ہے کہ جس کے مرکز میں درحقیقت ایک شہر واقع ہے اور پورے جزیرہ نما پر مختلف قصبے بھی واقع ہیں، جن میں سے ہر ایک کا اپنا انداز ہے۔ اگر آپ تارکین وطن کی متحرک کمیونٹی میں رہنا چاہتے ہیں تو مرکزی علاقہ بہترین ہے، لیکن پیشہ ور افراد اور والدین میں بیتز کا علاقہ ایک مقبول انتخاب بن چکا ہے۔گمبٹ گرمیوں میں تعطیلات گزارنے والوں میں معروف ہے، لیکن کچھ لوگ یہاں سال بھر بھی رہتے ہیں۔ یالی کاواک اس جزیرہ نما میں تارکینِ وطن کا سب سے پوش علاقہ ہے کہ جہاں کئی سرگرمیاں ہوتی ہیں جبکہ طورغت رئیس ذرا کم مہنگا رہائشی علاقہ ہے۔ اس وقت غیر ملکی بودرم کے تقریباً تمام ہی علاقوں میں رہتے ہیں۔ پرائیوٹ کار یا پبلک ٹرانسپورٹ کے ذریعے پورے جزیرہ نما میں نقل و حمل آسان ہے۔ یہاں زبردست طبی سہولیات بھی موجود ہیں اور ساتھ ہی خریداری کے بہترین مراکز بھی۔

بودرم سے مشرق کی طرف مرماریس اور دالیان ہیں۔ مؤخر الذکر دریائے دالیان کے ساتھ واقع ایک اندرونی قصبہ ہے جو حال ہی میں تارکینِ وطن میں مقبول ہوا ہے۔ فتحیہ مغلہ صوبے کا ایک اور شہر ہے جو جنوبی ساحلوں سے لگتا ہے اور زندگی کے شور اور ہنگاموں سے دور اور استانبول اور جنوب کے دیگر شہروں کے اثرات سے پرے ایک پرسکون زندگی گزارنے کے خواہشمند افراد میں مشہور ہے۔ فتحیہ خاموش بھی ہے اور سستا بھی لیکن یہ کچھ گرم بھی ہے۔ اس سے مزید مشرق کی طرف چلیں تو قایاکوئے کا ویران گاؤں آتا ہے، جسے بوتیک ہوٹلوں کے ساتھ دوبارہ بحال کیا گیا ہے۔ پہاڑوں میں موجود حصارونو اور خوبصورت ساحلی پٹی کے ساتھ واقع اولو دینز گرمیوں میں پیراگلائیڈنگ اور پارٹی کے مراکز ہیں، جو کئی تارکینِ وطن کا دوسرا گھر بن چکے ہیں۔ آخر میں انطالیہ سے 130 کلومیٹرز دور مشرق میں الانیہ ہے جو کئی غیر ملکی رہائشیوں کی توجہ حاصل کرنے والا ایک قابلِ ذکر قصبہ ہے۔

تبصرے
Loading...