پاک بحریہ کے ترکی ساختہ بحری جہازوں کے لیے مقامی سطح پر تعاون کا آغاز

0 397

ترکی کی ‏STM ڈیفنس ٹیکنالوجیز انجینئرنگ اینڈ ٹریڈ انکارپوریٹڈ نے پاکستان بحریہ کے لیے ترکی میں بنائے جانے والے جنگی بحری جہازوں میں استعمال ہونے والے مین ڈرائیو سسٹم کی فراہمی اور تکمیل کے لیے سرکاری ملٹری فیکٹری اینڈ شپ یارڈ مینجمنٹ کارپوریشن (ASFAT) کے ساتھ معاہدے پر دستخط کر لیے ہیں۔

چار ADA-کلاس چھوٹے بحری جنگی جہاز ترکی کے MILGEM پروجیکٹ کے تحت بنائے جا رہے ہیں اور انقرہ کی سب سے بڑی دفاعی ایکسپورٹ ڈیل کی حیثیت سے پاکستان کو فراہم کیے جائیں گے۔

اس کے مین propulsion سسٹمز، جو بحری جہازوں میں اہم پلیٹ فارم سسٹمز پر مشتمل ہوتے ہیں، نقل و حرکت کے لیے طاقت فراہم کرتے ہیں۔

مئی 2017ء میں ترک اور پاکستانی دفاعی اداروں نے چار ترک ADA-کلاس MILGEM جنگی جہازوں کی کراچی شپ یارڈ پر تیاری کے لیے ایک ابتدائی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ حتمی معاہدے کے تحت دو جہاز استنبول میں اور دو ٹیکنالوجی کی منتقلی کی بدولت کراچی میں تیار کیے جائیں گے۔

دو بحری جہاز 2023ء میں پاک بحریہ کا حصہ بن جائیں گے جبکہ باقی دو 2024ء میں شمولیت اختیار کریں گے۔

جولائی 2018ء میں پاک بحریہ نے ترکی کے سرکاری دفاعی ادارے ASFAT کے ساتھ چار MILGEM-کلاس بحری جہازوں کے معاہدے پر دستخط کیے۔ MILGEM بحری جہاز 99 میٹر طویل ہوتے ہیں، 2400 ٹن کی displacement گنجائش رکھتے ہیں اور 29 ناٹیکل میل کی رفتار تک پہنچ سکتے ہیں۔

STM پاکستان کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مختلف منصوبوں میں براہِ راست شامل ہے۔ کمپنی نے اکتوبر 2018ء میں پاکستان مرین سپلائی شپ (PNS معاون) پاکستان کے حوالے کیا کہ جس کا معاہدہ جنوری 2013ء میں ہوا تھا۔ ‏STM نے آگوسٹا 90 B آبدوز کے جاری ماڈرنائزیشن پروجیکٹ میں بھی ملک کے اندر کام کر رہا ہے کہ جس کے معاہدے پر جون 2016ء میں دستخط ہوئے تھے۔

ادارہ بین الاقوامی میدان میں ایسے منصوبوں کے ذریعے ترکی کو بحری شعبے میں ایک عالمی برانڈ بنانے کے لیے قدم اٹھا رہا ہے۔

STM ترک بحریہ کے لیے جنگی جہاز بنانے کے لیے بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ اپنے انجینئرنگ کے تجربے کے ساتھ کمپنی نے دفاعی صنعت کو قومیانے میں بھی اہم حصہ ڈالا ہے۔

تبصرے
Loading...