ترکی میں کل بلدیاتی انتخابات کے لیے پولنگ ہو گی، بڑے شہروں میں بڑے معرکوں کے امکانات

0 1,320

اتوار، 31 مارچ ترکی میں بلدیاتی انتخابات کے لیے پولنگ ہو گی۔ لاکھوں ترک شہری اپنے شہروں کے مئیر اور مقامی ذمہ داروں کا انتخاب کریں گے۔ ترک صدر رجب طیب ایردوان کی آق پارٹی جو 2002ء سے اب تک ملک کی سب سے طاقت ور پارٹی کے طور موجود رہی ہے۔ حالیہ انتخابات میں گذشتہ سال 2018ء کا ترک لیرا بحران ابھی تک ترک مارکیٹ پر اثرات قائم کئے ہوئے ہیں۔ اس لیے استنبول، انقرہ اور ازمیر جیسے بڑے شہروں میں بڑی انتخابی دنگل کا امکان ہے۔ استنبول اور انقرہ میں آق پارٹی جبکہ ازمیر میں سیکولر جمہوریت عوام پارٹی (CHP) برسراقتدار رہیں ہیں۔ ترک صدر ایردوان نے جاندار انتخابی مہم کے ساتھ اگرچہ انتخابی دنگل کو مخالفین کے لیے مشکل بنا دیا ہے لیکن دلچسپ مقابلے کے امکانات ہیں۔ بلدیاتی انتخابات میں اکثریت حاصل کرنے کے بعد ترک صدر ایردوان کی صدارت، پارلیمنٹ اور مقامی سیاست میں طاقت بڑھ جائے گی۔

ووٹ:

ترکی بھر میں 57 ملین لوگ 200000 پولنگ باکس کے ساتھ 30 بڑے میٹرو پولیٹن شہروں، 51 صوبائی صدر مقامات اور 922 شہروں کے مئیرز کا چناؤ کریں گے۔ اس کے علاوہ وہ مقامی بلدیاتی اسمبلیوں میں نمائندوں اور دیہی نمائندوں "مختار” کا چناؤ بھی کریں گے۔

مشرقی شہروں میں پولنگ مقامی ترک وقت کے مطابق صبح 7 بجے شروع ہو گی جبکہ شام 4 بجے ختم ہو جائے گی جبکہ مغربی شہروں میں پولنگ 8 بجے صبح سے 5 بجے شامل تک جاری رہے گی۔

اس سے قبل 2014ء میں بلدیاتی انتخابات ہوئے تھے۔ جس کے بعد ترکی پانچ مختلف انتخابی عمل سے گزر چکا ہے۔

پارٹیاں:

گذشتہ صدارتی اور پارلیمانی اتحاد اور ساز باز بلدیاتی انتخابات میں بھی بعینہ اسی طرح جاری ہے اور میٹرو پولیٹن شہروں اور صوبائی صدر مقامات پر پارٹیاں اپنے اتحادی امیدواروں کی حمایت کر رہی ہیں۔

آق پارٹی (AKP) ملی حرکت پارٹی (MHP) کے ساتھ اپنا "جمہوری اتحاد” برقرار رکھے ہوئے ہے اس کے علاوہ اس اتحاد کو کئی مقامات پر عظیم اتحاد پارٹی (BBP) کی حمایت بھی حاصل ہے۔ آق پارٹی نے 27 میٹرو پولیٹن شہروں میں اپنے مئیر کھڑے کئے ہیں جبکہ اتحادی ملی حرکت پارٹی تین میٹروپولیٹن امیداروں کے ساتھ میدان میں ہے۔ اس کے علاوہ 21 دیگر شہروں میں دونوں نے اتحادی امیداوار کھڑے کئے ہیں۔

دوسرا بڑا "قومی اتحاد” سیکولر جمہوریت عوام پارٹی (CHP) اور اچھی پارٹی (IP) کے درمیان قائم ہے۔ اتحاد 50 شہروں میں ایک دوسروں کی مدد کر رہا ہے۔

کرد حامی عوامی جمہوری پارٹی (HDP) پارلیمنٹ میں دوسری بڑی اپوزیشن جماعت ہے۔ شمال مشرقی ترکی میں اس نے "کرد انتخابی اتحاد” کے ذریعے کئی شہروں میں اپنے امیدوار کھڑے کئے ہیں۔ اس کے علاوہ استنبول اور انقرہ میں ایردوان کی مخالفت میں سیکولر جمہوریت عوام پارٹی کی کھلم کھلا حمایت کر رہی ہے تاکہ آق پارٹی کے امیدواران کو مشکلات میں ڈالا جا سکے۔

پارٹیوں کے علاوہ امیدوار بھی ووٹنگ ٹرینڈ کا تعین کرنے کا اہم ترین فیکٹر ہوں گے۔

انقرہ اور استنبول:

گذشتہ بلدیاتی انتخابات میں حکمران آق پارٹی انقرہ اور استنبول دونوں شہروں میں جیت کر مئیر کی کرسیوں پر براجمان ہوئی تھی۔ اس بار ان شہروں سے جیتنا آق پارٹی قدرے آسان نہیں آ رہا ہے۔ اگرچہ ان شہروں سے پارلیمانی سیٹیں ہارنے کے ساتھ ترک صدر ایردوان نے صدارتی انتخابات میں جیت ممکن بنائی تھی۔ پارلیمانی اور صدارتی انتخابات کے بعد آق پارٹی کی مقامی قیادتوں میں بڑی تبدیلیاں لائی گئیں اور نوجوان قیادت کو آگے لایا گیا۔ لیکن گذشتہ سال 2018ء میں ترک لیرا کے بحران میں ترک مارکیٹ پر گہرے نقوش مرتب کئے ہیں جس سے یہ دونوں شہر متاثر ہوئے۔

ترک صدر ایردوان نے بلدیاتی انتخابات کی پارٹی مہم کو براہ راست اپنے ہاتھ میں لیا اور دونوں شہروں میں بڑے پیمانے پر انتخابی ریلیوں سے خطاب کیا ہے۔ جس کے اثرات انتخابی نتائج ہی بتا سکیں گے۔ تاہم آق پارٹی کو ملک کے دوسرے میٹروپولیٹن شہروں میں سخت مقابلے درپیش نہیں ہیں۔

 

تبصرے
Loading...