صدر ایردوان کی سنت نبوی کو مشکوک بنانے والوں پر سخت تنقید

0 207

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان نے سنتِ نبوی اور احادیثِ مبارکہ کے خلاف بعض افراد کی مہم اور اس دینی ورثے کو موضوعِ بحث بنانے کی کوششوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ تُرک ذرائع ابلاغ کے مطابق ہفتے کے روز استنبول میں جامعہ ابن خلدون کی جانب سے منعقد کی گئی 2 روزہ ’بین الاقوامی تہذیوں کی کانفرنس‘ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں میں بعض لوگوں نے سنتِ نبوی کو بحث مباحثے کا موضوع بنایا اور اس بحث مباحثے کو ہمارے ملک میں پھیلانے کی کوشش کی ہے، جو ہمارے لیے نہایت ہی افسوس ناک بات ہے۔

کسی شخص کا باعلم ہو ہونا اس حق نہیں دیتا کہ وہ سنت پر حکم لگائے

تُرک صدر نے کہا کہ بعض لوگ دہشت گرد تنظیموں کے ذریعے اسلام پر بے جا الزامات عائد کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور یہ کوشش اتنے بڑے پیمانے پر جاری ہے کہ ہمیں ان الزامات کے سدِباب کے لیے درکار وقت بھی میسر نہیں آ پاتا۔ انہوں نے کہا کہ کسی شخص کا عالمِ دین ہونا اسے بالکل یہ حق نہیں دیتا کہ وہ ہمارے محبوب نبی کی سنت پر حکم لگاتا اور اس کے خلاف فتنہ برپا کرتا پھرے۔ صدر ایردوان نے مزید کہا کہ اس طرح کے بحث مباحثے پوری نسل کو تباہ کرکے رکھ دیتے ہیں اور کسی نے انہیں یہ حق نہیں دیا کہ وہ ایک نسل کو برباد کریں۔ تُرک صدر نے اپنے خطاب میں اس بات پر بھی زور دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت سے شروع ہونے والی اسلامی تہذیب کی بنیادیں قرآن کریم اور سنت نبوی میں موجود ہیں، اس لیے اس سے متعلق شکوک و شبہات پھیلانا درست نہیں۔

مسلمان ممالک دیگر تہذیبوں، ثقافتوں اور مذہب و نظریات کی تجربہ گاہ ہرگزنہیں ہیں

مغربی رہنماؤں کی جانب سے استعمال کی جانے والی ’اسلامی دہشت گردی‘ کی اصطلاح کو بھی صدر ایردوان نے ایک بار پھر شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے واضح کیا کہ مسلمان دیگر تہذیبوں، ثقافتوں اور مذاہب کی تجربہ گاہ ہرگز نہیں ہیں۔ تُرک صدر نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ’اسلامی دہشت گردی‘ کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں، جس کی ترکی کئی بار مذمت بھی کرچکا ہے، لیکن کیا مغربی رہنما یہی اصطلاح ان بدھسٹوں کے لیے بھی استعمال کرنے کی ہمت رکھتے ہیں، جو روہنگیا مسلمانوں کا قتل عام کر رہے ہیں۔

صدر ایردوان نے کہا کہ آج عالم اسلام دہشت گردی، پسماندگی اور داخلی طور پر مذہبی و سیاسی تنازعات کا شکار ہے، اور یہ سب کچھ ہم سے تقاضا کرتا ہے کہ ہم ایک لمحہ بھی آرام سے نہ بیٹھیں۔ انہوں نے صراحت کی کہ تہذیبِ اسلامی ہی وہ قوت ہے جو پوری دنیا میں انسانیت کا تحفظ کرسکتی ہے، جب کہ داعش، القاعدہ، بوکوحرام اور اپنی ہی قوم کا استیصال کرنے والے نا اہل حکمران اس حقیقیت کو بدل نہیں سکتے۔

سلامتی کونسل کے پانچ ممبران ہونا استعمار اور غلبے کی علامت ہے

تُرک صدر نے اقوام متحدہ کے کردار اور سلامتی کونسل میں صرف 5 مستقل ممالک کو دیے گئے ویٹو کے حق پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے اسے ایک طرح کے استعمار و غلبے سے تعبیر کیا۔ صدر ایردوان نے یہ بھی کہا کہ عالمی طاقتوں کی جانب سے ماضی میں صنعتی انقلاب کے نام پر کھڑے کیے گئے اپنے مفادات کے نظام نے، جسے آج جمہوریت کے نام پر آگے بڑھایا جا رہا ہے، ان کے چہرے سے لیپا پوتی کو اتار کر ان کی حقیقت آشکارا کردی ہے، جب کہ اسلامی تہذیب اپنی بنیادوں اور سرچشموں کے ساتھ ہمیشہ کی طرح زندہ و تابندہ ہے۔

تبصرے
Loading...