سپر مارکیٹوں پر محض قیمتیں بڑھانے کی وجہ سے نہیں بلکہ ملی بھگت سے ایسا کرنے کی وجہ سے جرمانے لگے

0 169

ترکی کے مسابقتی ادارے (RK) کے سربراہ بیرول قلہ نے کہا ہے کہ ملک کی پانچ سب سے بڑی سپر مارکیٹ چینز پر 2.7 ارب ترک لیرا (283 ملین ڈالرز) کا جرمانہ محض قیمتیں بڑھانے کی وجہ سے نہیں بلکہ "ملی بھگت” کے ذریعے ایسا کرنے پر لگایا گیا ہے۔

گزشتہ ہفتے اتھارٹی نے BIM، میگروس، کاریفور، شوق مارکیٹ اور آ یوز بیر A101 کے علاوہ سپلائر ساوولا غیدا پر کُل 2.7 ارب لیرا کا جرمانہ لگایا تھا۔

یہ جرمانہ اس وقت لگایا گیا جب ملک میں اشیائے ضرورت کی قیمتیں مستقل بڑھ رہی ہیں، جبکہ حکومت مہنگائی پر قابو پاتے ہوئے اس معاملے پر بھی تحقیقات کر رہی ہے کہ کوئی ناجائز منافع خوری تو نہیں کر رہا۔

بیرول قلہ نے بتایا کہ تحقیقاتی عمل تقریباً 19 ماہ قبل 31 مارچ 2020ء کو شروع کیا گیا تھا، جس کی ابتدائی تحقیقات پر فیصلہ بورڈ نے کیا۔

ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ پر 7 مئی 2020ء کو مسابقتی بورڈ نے بات کی اور تقریباً 30 اداروں کے حوالے سے فیصلہ لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقاتی رپورٹ تقریباً ایک سال میں تیار کی گئی جو ماہرین نے 31 مارچ 2021ء کو مکمل کی۔

مہنگائی کو لگام دینے کے لیے 1,000 نئی مارکیٹیں کھولیں گے، صدر ایردوان

انہوں نے کہا کہ دوسرے الفاظ میں فیصلے سے تقریباً سات ماہ پہلے، قانونی خلاف ورزیوں کی حامل رپورٹ فریقین کے سامنے پیش کی گئی اور یہی اس فیصلے کی بنیاد بنی۔ انہوں نے کہا کہ یہاں تک کہ 2018ء سے بھی ایسے ثبوت ملے ہیں لیکن حتمی فیصلہ 28 اکتوبر کو کیاگیا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ تحقیقاتی عمل کے دوران فریقین کی جانب سے اپنے دفاع میں تین تحریری اور ایک زبانی بیان جاری کیے گئے۔ حتمی فیصلہ تقریباً 18 ماہ کے دورانیہ میں کیے گئے جائزے کا نتیجہ تھا۔

قلہ نے کہا کہ تحقیقات اس لیے کی گئیں تاکہ پتہ چلیں کہ آیا قیمتیں فریقین کے مابین بلاواسطہ یا بالواسطہ رابطوں کے ذریعے باہمی تعاون کا نتیجہ تھیں یا نہیں۔

اس الزام کے خلاف کہ مارکیٹوں کو زیادہ قیمتوں کی وجہ سے غیر منصفانہ انداز میں سزا دی گئی، قلہ نے مزید کہا کہ قیمتِ فروخت اور ان میں اضافے کو پانچ خوردہ اداروں نے آپس کے بلاواسطہ یا بالواسطہ رابطوں کے ذریعے یقینی بنایا اور اس حوالے سے کئی ثبوت ملیں ہیں کہ یہ کام ملی بھگت کے ذریعے ہوا۔ اس کے علاوہ مستقبل کی قیمتوں، قیمتوں میں اضافے کی تاریخوں، وقتاً فوقتاً مہمات اور رعایتوں کے حوالے سے حساس معلومات بھی ان اداروں کے درمیان بانٹی گئی۔

"یہ مکمل طور پر ملی بھگت تھی کہ جس میں ایسے معاہدے یا عملی اقدامات شامل ہیں جو اداروں کے درمیان مسابقت کا خاتمہ کرتے ہیں، مثلاً اشیا کی قیمتوں یا مقدار کو طے کرنا، صارفین یا علاقے تقسیم کرنا، ٹینڈرز میں ساز باز کرنا وغیرہ۔”

ترکی کے آئین کے تحت ایسی ملی بھگت (کارٹیلائزیشن) جرم ہے، غیر قانونی ہے اور مسابقت کے تحفظ کے قانون کی خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے کہا کہ قانون کا مقصد ایسے معاہدوں، فیصلوں اور مشقوں کو روکنا ہے جو اشیا اور خدمات کی مارکیٹوں میں مسابقت کو روکیں، محدود کریں یا اس کی صورت تبدیل کریں اور یوں کسی کو مارکیٹ میں اپنے غلبے کا ناجائز فائدہ اٹھانے روکنا ہے۔

قلہ نے کہا کہ ہمارے فیصلوں پر عدالتی نظر ثانی ہو سکتی ہے اور فریقین ایسا کریں گے بھی۔

گزشتہ ہفتے کیے گئے فیصلے کے مطابق BIM پر 958.1 ملین ترک لیرا، میگروس پر 517.7 ملین، کاریفور  پر 142.5 ملین اور شوق مارکیٹ لر پر 384.4 ملین کا جرمانہ کیا گیا تھا۔ جبکہ آ یوز بیرA101 اور سپلائیر ساوولا غیدا پر بالترتیب 646.6 اور 33.3 ملین ترک لیرا کے جرمانے کیے گئے۔

ان اداروں نے بعد ازاں فرداً فرداً اعلان کیا کہ وہ اس فیصلے کے خلاف عدالت میں جائیں گے۔

تبصرے
Loading...