امریکہ نے ترکی پر پابندیاں عائد کر دیں، مگر مارکیٹ مستحکم

0 480

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے شام کے معاملے پر ترکی کو دی جانے والی دھمکیوں کے باوجود عالمی مارکیٹوں میں کوئی ہلچل پیدا نہیں ہوئی اور امریکی ڈالر کے مقابلے میں ترک لیرا بھی بدستور مستحکم ہے۔

ٹوئٹر اکاؤنٹ پر ٹرمپ کی جانب سے بیان جاری کیے جانے سے قبل ڈالر کے مقابلے میں لیرا کی تجارت 5.91 پر ہو رہی تھی۔ قبل ازیں دن کے آغاز پر 5.9315 سے بہتری کی جانب ہی گیا۔

ٹرمپ نے پیر کے دن کہا تھا کہ شام میں ترکی کے آپریشن چشمہ امن کے ردعمل میں وہ جلد ہی ایک صدارتی فرمان جاری کریں گے جس میں ترکی کے موجودہ اور سابق عہدیداروں پر پابندیاں لگائی جائیں گی، 100 ارب ڈالرز کے تجارتی معاہدے پر ترکی کے ساتھ مذاکرات روکے جائیں گے اور ترکی کے فولاد پر ٹیرف میں 50 فیصد اضافہ کیا اجئے گا۔

اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ اگر ترکی "خطرناک اور تباہی کے راستے پر گامزن رہا” تو وہ ترکی کی معیشت کو جلد تباہ کردیں گے، ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ شام سے نکالے گئے امریکی فوجی دوبارہ تعینات کیے جائیں گے اور صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے علاقےمیں مقیم رہیں گے۔

صدر نے کہا کہ وہ موجودہ اور سابق ترک عہدیداروں پر پابندیاں لگانے کے لیے ایک فرمان جاری کر چکے ہیں – گو کہ بظاہر ابھی تک اس کا نفاذ نہیں کای گیا – اور فوری طور پر امریکا ترکی تجارتی معاہدے پر مذاکرات روک رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ ترکی کے فولاد پر 50 فیصد ٹیرف دوبارہ لگا رہے ہیں – یہی وہ قدم ہے جو انہوں نے پچھلے سال اٹھایا تھا۔

بعد ازاں وزیر خزانہ اسٹیو منچن نے کہا کہ ٹرمپ نے ترکی کے خلاف پابندیوں پر دستخط کردیے ہیں اور تین وزراء اور دو وزارتوں کو ہدف بنایا ہے۔

وزیر دفاع خلوصی آقار، وزیر داخلہ سلیمان سوئیلو اور وزیر توانائی فاتح دونمیز بلیک لسٹ کیے جا رہے ہیں، ان کے امریکی اثاثے منجمد کیے جا رہے ہیں اور امریکا میں یا امریکا سے ہونے والے تمام مالی لین دین پر پابندی لگائی جا رہی ہے۔

دفاع اور توانائی کی وزارتوں کو بھی پابندی لگائی گئی ہے، امریکی وزارت خزانہ نے کہا۔

پابندی کے بیانات سے کچھ لمحے قبل ٹرمپ نے شامی سرحدوں کی حفاظت کے لیے ایک مرتبہ پھر اپنی ہچکچاہٹ ظاہر کی اور ایسا کرنے کے لیے دوسروں کو مدعو کیا۔

ٹوئٹس کے ایک سلسلے میں ٹرمپ نے کہا کہ وہ داعش کو "100 فیصد” شکست دے چکے ہیں اور شام میں امریکی دستوں کو بڑے پیمانے پر نکال چکے ہیں۔ شام کی شمالی سرحد پر PKK/YPG کو تحفظ دینے کے لیے اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کرنے والے ناقدین کو ہدف بناتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ان سے ہزاروں میل دور ہے اور "اپنے دشمن کی سرزمین” کا تحفظ نہیں کرے گا، یعنی شام کا۔

"کچھ لوگ چاہتے ہیں کہ امریکا 7,000 میل کی دور سے شام کی سرحد کا تحفظ کرے، جس پر ہمارا دشمن بشار الاسد حکومت کرتا ہے،” ٹرمپ نے اس وقت ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا جب ترکی لاکھوں شامی باشندوں کے لیے ایک سیف زون کی تعمیر کی خاطر PKK/YPG کے خلاف شمالی شاممیں ایک فوجی آپریشن کر رہا ہے۔

"میں نے اپنے جرنیلوں سے کہا ہے کہ ہم اپنے دشمن کی سرزمین کی حفاظت کے لیے شام اور بشار الاسد کی طرف سے کیوں لڑیں؟” انہوں نے مزید کہا کہ مجھے اس کی کوئی پروا نہیں کہ شام میں کون کس کا تحفظ کرتا ہے؟

” شام میں کردوں (PKK/YPG کی طرف اشارہ کرتے ہوئے)کے تحفظ میں کوئی مدد کرنا چاہتا ہے تو میرے لیے اچھا ہے، چاہے وہ روس ہو، چین ہو یا نپولین بوناپارٹ ہو۔ مجھے امید ہے کہ وہ اچھا کام کریں گے، ہم تو 7,000 میل دور بیٹھے ہیں!” ٹرمپ نے کہا۔

ترکی نے شمالی شام میں داعش اور PKK کی شامی شاخ پیپلز پروٹیکشن یونٹ (YPG) کے دہشت گردوں کو نشانہ بنانے کے لیے سرحد پار انسداد دہشت گردی آپریشنز کے سلسلے کا تیسرا مرحلہ آپریشن چشمہ امن 9 اکتوبر کی شام 4 بجے شروع کیا۔

ترکی بین الاقوامی قوانین کے مطابق اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے اپنے دفاع کے حق کو استعمال کرتے ہوئے یہ آپریشن کر رہا ہے، جس کا ہدف دریائے فرات کے مشرقی علاقے میں دہشت گردوں سے پاک ایک سیف زون کا قیام اور وہاں شامی باشندوں کی واپسی کو ممکن بنانا ہے کہ جو اس وقت امریکا کی پشت پناہی سے کام کرنے والی شامی جمہوری افواج (SDF) کے قبضے میں ہے کہ جن میں سب سے بڑی اکثریت YPG کے دہشت گردوں کی ہے۔

PKK – جسے ترکی، امریکا اور یورپی یونین دہشت گرد تنظیم سمجھتے ہیں – نے 30 سے زیادہ سالوں سے ترکی کے خلاف جنگ چھیڑ رکھی ہے جس کا نتیجہ تقریباً 40,000 لوگوں کی اموات کی صورت میں نکلا ہے، جن میں عورتیں، بچے بلکہ شیرخوار تک شامل ہیں۔

ترکی بہت عرصے سےشمالی شام میں دریائے فرات کے مشرقی علاقوں میں موجودہ دہشت گردوں سے درپیش خطرے کی نشاندہی کرتا آیا ہے، اور وہاں "دہشت گردوں کی پناہ گاہیں” بننے سے روکنے کے لیے فوجی اقدام اٹھانے کا عہد کرتا رہا ہے۔

2016ء سے اب تک ترکی شمال مغربی شام میں فرات شیلڈ اور شاخِ زیتون نامی آپریشن کر چکا ہے اور علاقے کو YPG/PKK اور داعش کے دہشت گردوں سے آزاد کروا چکا ہے، جو تقربیاً 4,00,000 شامی شہریوں کی وطن واپسی ممکن بنا رہا ہے۔

تبصرے
Loading...