استنبول میں سیلاب، میئر پر کڑی تنقید

0 1,080

استنبول کے میئر کے عہدے پر فائز ہونے کے بعد دو مہینوں میں دوسری بار چھٹیوں پر جانے والے اکرم امام اوغلو کو سخت تنقید کا سامنا ہے کیونکہ ترکی کا سب سے بڑا شہر ہفتے کے روز اچانک سیلاب کی کیفیت سے دوچار ہوا۔ تقریباً دو دہائیوں میں حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والی کسی جماعت کے پہلے میئر امام اوغلو نے اتوار کو سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور محکمہ موسمیات پر الزام لگایا کہ اس نے اچانک سیلابی کیفیت کے بارے میں بلدیہ کو بروقت آگاہ نہیں کیا۔

چھٹیوں سے واپس شہر آنے پر میئر کو سوشل میڈیا پر کڑی تنقید کا سامنا کرنا پڑا کہ جہاں ان کی ایک کشتی پر گزاری گئی چھٹیوں کی تصاویر کافی پھیلی۔ البتہ امام اوغلو کا کہنا ہے کہ وہ صرف دو دن کے لیے گئے تھے اور چھٹیوں کے باقی چھ دن دوسرے شہروں میں ہونے والی تقریبات میں گزارے۔

گرمی کی طویل لہر کے بعد ہفتے کو ہونے والی شدید بارش نے استنبول اور شمال مغربی ترکی کے متعدد شہروں کو متاثر کیا، جن میں ماہرین نے اچانک سیلاب (flash floods) کی پیشن گوئی بھی کی کہ جس نے مختلف علاقوں میں پبلک ٹرانسپورٹ اور ٹریفک کے نظام کو متاثر کیا۔

اچانک سیلاب سے خاص طور پر نشیبی اور ساحلی علاقے میں کافی تباہی پھیلی، جن میں امینونو، بیشک تاش، اسکودار، قارا کوئے، قاضی کوئے اور کباتاش جیسے اہم ٹرانسپورٹ مراکز شامل تھے۔ ضلع فاتح میں شاخِ زریں کے قریب انقاپانی انڈرپاس سے ایک شخص کی لاش برآمد ہوئی۔ خبروں کے مطابق ہوسکتا ہے یہ کوئی بے گھر شخص ہو، جو انڈر پاس میں رہتا ہو جہاں سیلابی پانی 190 سینٹی میٹر تک بلند ہو گیا تھا۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ یہ شخص سیلابی پانی میں ڈوب کر جان سے ہاتھ دھو بیٹا یا اس سے پہلے ہی بے ہوش یا مردہ تھا۔

باسفورس سے اسکودار چوک کی طرف جانے والے راستے ایک مرتبہ پھر زد میں آئے کہ جہاں چوک پر سیلاب کی کیفیت تھی اور تصاویر سے ایسا لگتا تھا کہ سمندر زمین سے مل گیا ہے۔

ضلع کے نشیبی علاقوں میں کئی دکانیں اور مکانات سیلاب کی زد میں آ گئے جہاں گزشتہ چند سالوں سے زیر تعمیر برساتی پانی کے نکاس کے لیے سرنگوں سمیت متعدد اہم مقامات ہیں۔ بے اوغلو کے علاقے قاسم پاشا کو بھی اچانک سیلاب کا سامنا کرنا پڑا، جس میں متعدد گھر اور دکانیں متاثر ہوئیں۔ باقر کوئے کی ساحلی سڑک، جو باسفورس کے پار جانے والی یوریشیا سرنگ سے منسلک ہوتی ہے، طغیانی کی وجہ سے ٹریفک کے لیے بند کردی گئی۔ 558 سال پرانا شہر کا معروف گرینڈ بازار، جو حال ہی میں چھت اور بنیادی ڈھانچے کی تزئین و آرائش کے مراحل سے گزرا، بھی فوری سیلاب سے متاثر ہوا۔

آوجیلر، سیفاکوئے، باخچہ لی ایولر، چتالجا، زیتن بورنو، سرائیر، فاتح، ایسن یورت، قاضی کوئے، اسکودار، تزلا اور پیندک ایسے اضلاع تھے کہ جہاں سب سے زیادہ بارش ہوئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کچھ علاقوں میں صرف ڈیڑھ گھنٹے میں 113 کلو فی مربع میٹر بارش ہوئی، یعنی اتنی بارش جتنی عموماً پورے موسم سرما میں ہوتی ہے۔

یورپی علاقے امینونو چوک پر راہ گیروں کے لیے بنائے گئے ایک انڈر پاس میں سیلابی پانی چلا گیا جس سے اندر موجود دکانوں کو شدید نقصان پہنچا۔ اسکودار میں شدید بارش کی وجہ سے ایک سڑک میں گڑھا بن گیا۔

"CHP اس طرح شہر کو چلائے گی؟”

استنبول سٹی کونسل میں انصاف و ترقی پارٹی (آق پارٹی) کونسل اراکین کے رہنما محمد توفیق گوک سو نے کہا کہ اس تباہی کی ذمہ دار امام اوغلو انتظامیہ تھی۔ انہوں نے ایک اخبار سے گفتگو میں کہا کہ تباہی شہر کے بنیادی ڈھانچے کی وجہ سے نہیں بلکہ شہری انتظامیہ کے معاملات کو سنبھالنے کی وجہ سے آئی۔ "محکمہ موسمیات اور دیگر اداروں نے ایک دن قبل بارش سے خبردار کیا تھا اور اگر بلدیہ بروقت اقدامات اٹھاتی تو ہمیں ایسے مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑا۔ بدقسمتی سے اس نے ایک مثال قائم کردی ہے کہ جمہور خلق پارٹی (CHP) کس طرح شہر کو چلائے گی۔” انہوں نے امام اوغلو کی پارٹی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا۔

امام اوغلو نے بلدیہ عہدیداروں کے ساتھ مل کر گزشتہ روز امینونو اور اسکودار کے علاقوں کا دورہ کیا کہ جہاں امینونو میں ایک دکاندار نے امام اوغلو پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ” میئر صاحب کہاں تھے آپ؟ آپ کو (ہفتے والے د ن ہی) یہاں ہونا چاہیے تھا۔ بلدیہ کا ایک اہلکار یہاں نہیں تھا۔”

متاثرہ علاقوں کے دورے کے بعد امام اوغلو نے تسلیم کیا کہ محکمہ موسمیات نے بلدیہ کے ڈیزاسٹر کوآرڈی نیشن سینٹر کو پہلے ہی انتباہ جاری کردیا تھا لیکن دعویٰ کیا کہ یہ ایک معمولی سا انتباہ تھا۔ "انہوں نے مناسب اطلاع نہیں دی، یہ محض درمیانے درجے کی تنبیہہ تھی، اور بروقت بھی نہیں کی گئی۔ ایجنسیوں کو اپنا قبل از وقت انتباہ کا نظام بہترکرنا چاہیے،” میئر نے کہا۔ امام اوغلو نے فوری بحالی کا عہد کرتے ہوئے کہا کہ "ہم نے نقصان کا اندازہ لگا لیا ہے اور ہمارا عملہ میدان میں موجود ہے۔”

شدید بارشیں ترکی کے شمال مغربی حصے میں ہوئی، ترک محکمہ موسمیات (TSMS) نے دارالحکومت انقرہ کے لیے بھی کی تھیں۔ ان بارشوں سے درجہ حرارت 5 سے 10 درجہ سینٹی گریڈ کم ہونے کا امکان ہے۔

تبصرے
Loading...