امریکی امن منصوبہ قبول کرنے کے لیے سعودی عرب کی محمود عباس کو 10 ارب ڈالرز کی پیشکش

0 2,964

سعودی عرب نے فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کو امریکا کی نام نہاد "صدی کی سب سے بڑی ڈیل” قبول کرنے کے لیے 10 ارب ڈالرز کی پیشکش کی ہے، لبنان کے الاخبار نے بتایا۔

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور محمود عباس کے درمیان ملاقات کی تفصیلات بتاتے ہوئے اخبار کا کہنا ہے کہ "انہیں ملنے والی اطلاعات کے مطابق محمد بن سلمان نے محمود عباس کو اِس معاہدے کی تفصیلات سے آگاہ کیا اور اُن سے اِسے قبول کرنے کا مطالبہ کیا۔ اطلاعات کے مطابق محمد بن سلمان نے محمود عباس سے کہا کہ آپ کے مصاحبوں کا سالانہ بجٹ کیا ہے؟ عباس نے جواب دیا کہ میں شہزادہ نہیں کہ مصاحب ساتھ رکھوں۔

پھر بن سلمان نے امریکی امن منصوبہ قبول کرنے پر محمود عباس کو دس سال کے عرصے کے لیے 10 ارب ڈالرز سے زیادہ کی پیشکش کی کہ فلسطینی حکومت اپنا مرکز بیت المقدس کے بجائے ابو دیس کو بنا لے۔ البتہ محمود عباس نے یہ پیشکش مسترد کردی اور کہا کہ یہ اُن کے سیاسی کیریئر کا خاتمہ ہوگا۔

رام اللہ میں حکام نے اِس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔

محمود عباس نے واضح کیا تھا کہ میدان میں عملی صورتحال نے انہیں غیر قانونی آبادیوں، دو ریاستی حل اور بیت المقدس پر کوئی بھی رعایت دینے کے قابل نہیں چھوڑا۔ انہوں نے سعودی ولی عہد کے روبرو تصدیق کی کہ امریکی کوئی بھی تحریری یا سنجیدہ تجاویز نہیں دیں گے اور خبردار کیا کہ اگر فلسطینی اتھارٹی پر اس نامناسب تجویز کو قبول کرنے کا زور ڈالا گیا تو اس کے ادارے تباہ ہو جائیں گے اور اسرائیل مقبوضہ علاقوں کی ذمہ داری لینے پر مجبور ہو جائے گا۔

2 اپریل کو سینئر امریکی صدارتی مشیر جیرڈ کشنر نے کہا تھا کہ امریکی امن تجویز کی رونمائی ماہِ رمضان کے بعد ہوگی۔ انہوں نے زور دیا تھا کہ یہ معاہدہ مشرق وسطیٰ پر زبردستی تھوپنے کی امریکی کوشش نہیں ہے۔

تبصرے
Loading...