کرونا وائرس مزید پھیلنے لگا، ترکی میں انتظامات سخت

0 259

کرونا وائرس – یا COVID-19- ایران اور عراق سے یونان تک ترکی کے پڑوس ممالک میں پھیلتا چلا جا رہا ہے۔ ایشیا اور یورپ کے سنگم پر واقعی ترکی میں اب تک اس وائرس سے متاثرہ کوئی کیس سامنے نہیں آیا لیکن حکومت مستقبل میں درپیش خطرات کو سمجھتی ہے اور پروازوں پر پابندی لگانے سے لے کر سرحدوں کی بندش تک ہر قسم کے اقدامات اٹھا رہی ہے۔

وزیر صحت فخر الدین خوجہ نے اشارہ دیا ہے کہ وہ ترکی کے پڑوسی ملک ایران میں کرونا وائرس کے بڑھتے ہوئے واقعات دیکھ کر اپنے اقدامات کو مزید سخت کر رہا ہے۔

ترکی ایران میں موجود ترک شہریوں کو منگل کے روز ایک خصوصی پروازکے ذریعے وطن واپس لایا تھا۔ اس پرواز میں عملے کے اراکین سمیت 142 افراد موجود تھے کہ جنہیں دارالحکومت انقرہ میں قرنطینہ میں رکھا گیا۔ وزیر صحت نے بتایا کہ ان میں سے کسی فرد کا ٹیسٹ مثبت ثابت نہیں ہوا ہے۔

تیزی سے پھیلنے والے کرونا وائرس کا مؤثر علاج نہ ہونے کی وجہ سے اس وقت دنیا بھر میں افراتفری پھیلی ہوئی ہے اور ساتھ ساتھ جعلی خبروں اور افواہوں کا بازار بھی گرم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ترک وزیر صحت نے ایک مرتبہ پھر کہا ہے کہ ترکی میں اس کرونا کا کوئی کیس نہیں ہے۔ آج کی دنیا میں آپ کچھ چھپا نہیں سکتے۔ آپ اس مرض میں مبتلا کسی شخص کے بارے میں یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ بالکل صحت مند ہے۔ آپ کو اس کا علاج کرنا ہوگا اور اسے عام لوگوں میں گھلنے ملنے سے روکنا ہوگا۔ اسی طرح آپ اس بیماری کو پھیلنے سے روک سکتے ہیں۔”

انہوں نے کہا کہ ہمیں بڑے خطرے کا سامنا ہے کیونکہ ہم نے قم، ایران سے اس مرض کو عراق، اسرائیل، لبنان تک پھیلتے ہوئے دیکھا ہے۔ ہمیں اسے روکنا ہوگا تاکہ یہ ہماری سرحدوں میں داخل نہ ہو جائے۔

ترکی نے اتوار کو ایران کے ساتھ اپنی سرحدیں بند کر دی تھیں اور تھرمل کیمروں کی مدد سے ایران سے آنے والے افراد کی اسکریننگ کی۔ گزشتہ اختتام ہفتہ پر 28 افراد کو مشتبہ ہونے کی وجہ سے ترکی میں داخل ہونے سے روکا گیا۔ وزیر صحت نے بتایا کہ پچھلے ہفتے سے اب تک قم اور مشہد سے آنے والے 23 افراد کو قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔ عوام پریشان نہ ہو، ترکی میں کرونا وائرس موجود نہیں ہے اور اگر کوئی مریض نکل بھی آیا تو ہم اسے محدود کرنے کے لیے تمام آلات اور عملے سے لیس ہیں۔

ترکی نے اپنے شہریوں کو اٹلی اور عراق کا سفر کرنے سے بھی متنبہ کیا ہے۔ ان دونوں ملکوں میں کرونا وائرس کے مریض سامنے آنے کی وجہ سے ترکی نے اپنے شہریوں کو کہا ہے کہ وہ عراق اور اٹلی کا غیر ضروری سفر ہرگز نہ کریں۔

واضح رہے کہ ترکی نے ایران کے ساتھ اپنا ہر قسم کا فضائی رابطہ بند کر رکھا ہے جن میں نجی، کارگو اور چارٹر پروازیں بھی شامل ہیں۔

تبصرے
Loading...