پی کے کے دہشت گرد حملوں کی یادیں اب بھی تازہ

0 303

ترک شہری منگل کو ان 15 فوجیوں کی یاد میں اکٹھے ہوئے کہ جنہیں PKK دہشت گرد تنظیم کی جانب سے ایک خودکش کار بم حملے میں شہید کر دیا گیا تھا۔
PKK دہشت گرد قاسم یلدرم چاکر نے 17 دسمبر 2016ء کو چھٹیاں منانے کے لیے جانے والے فوجیوں پر مشتمل ایک بس کے قریب اپنی کار دھماکے سے اڑا دی تھی کہ جس میں 15 فوجی اپنی جان سے گئے جبکہ 54 زخمی ہوئے۔ تمام فوجیوں کمانڈو یونٹ سے تھے کہ جو انسدادِ دہشت گردی آپریشنز سے تعلق رکھتا تھا۔

شہداء فاؤنڈیشن کے مقامی سربراہ یلماز اچکان نے کہا کہ انہوں نے شہید فوجیوں کے لیے متعدد یادگاری تقاریب کا انعقاد کیا۔

اچکان نے کہا کہ "اس واقعے کا منصوبہ ساز دیاربکر میں مارا گیا تھا۔ ہم اپنے فوجیوں کو مارنے کے ہر ذمہ دار کو انجام تک پہنچائیں گے۔” انہوں نے سب سے دہشت گردی کے خلاف متحد ہونے کا مطالبہ کیا۔

وزارت داخلہ کی ریڈ لسٹ میں موجود PKK کے دو اہم دہشت گرد نومبر کے اواخر میں دیاربکر میں مارے گئے تھے۔

ہجار چیلک اور اسحاق اوزچاقتو انقرہ کی میراسم اسٹریٹ اور قیصری حملے کا حکم دینے کے ذمہ دار تھے۔

فاؤنڈیشن کے ایک اور ڈائریکٹر آئیدن کلکان نے کہا کہ وہ شہید فوجیوں کی یاد میں ایک اسکول تعمیر کریں گے اور دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ جاری رہے گی۔ "دہشت گردی کے خلاف ملک میں اور بیرونِ ملک فیصلہ کن جنگ جاری ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اس میں ہمارے فوجی کامیاب ہوں گے۔ 40 سال سے جاری دہشت گردی کا خاتمہ ہوگا۔”

PKK ترکی، امریکا اور یورپی یونین کی جانب سے دہشت گرد قرار دی گئی ایک تنظیم ہے کہ جس نے 30 سے زیادہ سالوں سے ترکی کے خلاف اعلانِ جنگ کر رکھا ہے، جس کا نتیجہ تقریباً 40,000 افراد کی ہلاکت کی صورت میں نکلا ہے کہ جس میں عورتیں، بچے بلکہ شیرخوار تک شامل ہیں۔

تبصرے
Loading...