فتح چناق قلعہ کی تاریخی یادیں

0 3,837

قسطنطنیہ پر قبضہ اور ترکی کو فتح کرنے کا منصوبہ سر ونسٹن چرچل نے بنایا تھا جو اس وقت نیوی کا فسٹ سی لارڈ تھا۔ برٹش پارلیمنٹ نے اس منصوبہ کی اجازت دیدی۔ پلان یہ تھا کہ رائل نیوی درہ دانیال سے گزر کر قسطنطنیہ پر قابض ہوگی۔ فرانس میں لڑائی کی وجہ سے یورپی فوج ساتھ نہ آسکی۔ البتہ روس نے ایک کور مہیا کر دی جس نے Black Sea سے شامل ہونا تھا۔ ساحل کنارے پہاڑیوں پر ترک توپ خانہ کو تباہ کرنا تھا۔ یہ کام برٹش بحری جہازوں کو سونپا گیا۔

درہ دانیال کا کھلا رہنا ضروری تھا اس لئے کہ روسی گندم اور خام مال اسی راستے سے یورپ کو سپلائی ہوتے۔ روس کو یورپ سے گولہ بارود سپلائی درہ دانیال کے راستے ہوتی۔ درہ دانیال فتح کرنے کے بعد سربیا‘ رومانیہ‘ بلغاریہ اور یونان کی فوجیں بھی برٹش فورسز سے آملنے کو تیار تھیں۔ انگریزوں کا خیال تھا کہ قسطنطنیہ فتح کے بعد ترکی جنگ عظیم سے نکل جائیگا۔ ونسٹن چرچل خود حملہ آور نیول جنگی جہازوں کے ساتھ آیا۔

بلارڈ کچنر نے اسی ہزار فوج جنرل  Hamilton کو دی جس نے گیلی پولی پر چھ اطراف سے حملہ کرنا تھا۔ فرانسیسی فوجی دستے بھی پہنچ گئے جو گیلی پولی کی سمت چڑھ دوڑے۔ اتحادی فوجوں کی پیش قدمی ساحل پر لگی ترک توپوں نے روک دی جو یورپی فوج رینگ کر ایک دو میل آگے بڑھی۔ وہ ترک مشین گنوں کے کراس فائر میں آگئی۔ اتحادی فوجیں ساحل پر چند سو گزوں پر رک گئیں۔ پھر Trench یعنی خندقوں میں جنگ شروع ہوئی جو کئی ماہ تک ہوتی رہی۔ ANZAC اور HELLES کی طرف سے اتحادی فوجوں کا بڑا حملہ ترکوں نے پسپا کر دیا۔ اس حملہ میں 23000 آسٹریلین اور نیوزی لینڈ کے فوجی شامل تھے۔ اس لڑائی میں تیرہ ہزار اتحادی فوجی مارے گئے۔ اتحادیوں کی تازہ دم فوج نہ آئی۔ اس فرنٹ پر آدھی یورپی فوج صرف پانی فرنٹ لائن پر لانے میں مصروف رہی۔ آخر اتحادیوں کو گیلی پولی فرنٹ سے پسپا ہونا پڑا۔

برٹش نیوی کے بحری جہازآدھی رات کے وقت حملہ آور ہوئے۔وہ ترک ساحلی پہاڑیوں کے قریب پہنچ گئے۔ ترکوں نے پاورفل ٹارچوں کے ساتھ ساحل کو روشن کر دیا اور ساحل پر نصب ترک توپوں نے انگریزوں کے کئی جہاز ڈبو دیئے۔ سمندر میں بچھی Minefields نے بھی برٹش نیوی کا نقصان کیا۔ ترکوں نے برٹش نیوی کے 50 فیصد جہاز غرق کر دیئے۔ سورج طلوع ہونے سے پہلے برٹش نیوی پسپا ہوگئی۔ پسپائی کے علاوہ اتحادیوں کا Strategic Surprise بھی فاش ہو گیا۔ چرچل کو وسٹ سی لارڈ شپ سے سبکدوش ہونا پڑا اورشاید اسے میجر کارنیک دیکر فرانس محاذ پر بھیج دیا گیا۔اتحادیوں کی اس شکست کے بعد برطانیہ جو ان دنوں دنیا کی سپر طاقت گردانا جاتا تھا‘ ہزیمت اٹھانا پڑی۔ پھر حکومت برطانیہ نے ترکی فتح کرنے کیلئے نیول آرمی فورسز تیار کیں۔ نیوی جنگی جہازوں کے ذریعے بری فوجوں کو جزیرہ نما گیلی پولی اتارا گیا۔ بحری جہازوں نے زبردست گولہ باری شروع کردی۔ بری فوجوں نے گیلی پولی کے مغربی حصہ پر قبضہ کرنا تھا۔ اس سے درہ دانیال پر قبضہ آسان ہو جاتا۔ جونہی انگریز بری فوج گیلی پولی پر قابض ہوتی‘ نیوی کا درہ دانیال پر یلغار کرنا آسان ہو جاتا۔

گیلی پولی کی لڑائی میں مصطفی کمال ایک ڈویژن کمان کر رہے تھے۔ وہ ڈویژن کو جنگی مشق کروا رہے تھے کہ اتحادیوں نے ANZAC کی طرف سے بھرپورحملہ کر دیا۔ راستے میں چند پسپا ہوتے فوجیوں نے بتایا کہ اس طرف سے بھاری تعداد میں حملہ آور آرہے ہیں۔ مصطفی کمال نے ڈویژن کیساتھ ANZAC کا رخ کیا اور ہائی کمان سے بغیر اجازت لئے اتحادی فوج پر ٹوٹ پڑا۔ دو دن دو راتیں جنگ ہوئی۔ کشتوں کے پشتے لگ گئے۔ مُردوں کو دفنانے کیلئے چند گھنٹے سیز فائر ہوا اور مصطفی کمال سارجنٹ کی وردی پہن کر دشمن کے مورچوں کو دیکھ آیا۔

ترکوں کو اتحادیوں اور روسیوں کے ساتھ کئی محاذوں پر لڑنا پڑا۔ ان جنگوںمیں تقریباً 2لاکھ ترک اور پچاس ہزار اتحادی فوجی مارے گئے۔ یہ وہ دن تھے جب ہندوستان میں شہروں کے علاوہ دیہاتوں کی مسلمان خواتین مصطفی کمال کا نام فخر سے لیتیں اور ترکوں کی فتح کیلئے دعائیں مانگتیں تھیں۔

سٹر ایچ سی آرم سٹرانگ یورپی مورخ اور مصنف اپنی کتاب ’’گرے ولف‘‘ میں لکھتا ہے "ترکی میں محلات کی خواتین‘ دلالوں اور خواجہ سرائوں کا سلطنت میں عمل دخل تھا۔ ترکوں کے اندر سے فولادی قوت ختم کردی گئی تھی۔ بددیانتی‘ طوائف الملوکی اور کرپشن ان کے رگ و ریشے میں سما چکی تھی۔ ترک عوام بغاوت پر آمادہ ہو چکے تھے۔ ترکی اقتصادی اور عسکری لحاظ سے اس قدر کمزور ہو چکا تھا کہ ہمسائے ممالک اسکے حصے بخرے کرنے کی خاطر للچائی ہوئی نظروںسے دیکھنے لگے۔ روس نے کریمیا اور کاکیشش پر قبضہ کر لیا اور قسطنطنیہ پر قبضہ کی منصوبہ بندی کرنے لگا۔ یورپی ممالک نے ترکی کے صوبوں میں قابض ہونے کی تیاریاں کر لیں۔ اس وقت مصطفی کمال پاشا دھاڑتے ہوئے شیر کی طرح اٹھا ‘ ترک قوم کو منظم کیا‘ زبردست فوج تیار کی اور دشمنوں پر زخمی چیتے کی مانند ٹوپ پڑا۔ وہ جنگی محاذوں پر ہراول دستوں کے ساتھ ہو کر لڑا۔ ترک جرنیل فوج کی اگلی صفوں میں جا کر لڑتے۔”

تبصرے
Loading...