ہم صدارتی انتخابات میں ایردوان کے مقابلے میں نہیں آئیں گے، ان کی حمایت کریں گے، ترک اپوزیشن رہنما

0 51,533

ترکی کی دوسری بڑی اپوزیشن نیشنلسٹ جماعت ملی حرکت پارٹی (ایم ایچ پی) کے چیئرمین دولت بیچالی نے اعلان کیا ہے کہ 2019ء کے صدارتی انتخابات میں وہ رجب طیب ایردوان کے مقابلے میں صدارتی امیدوار نہیں لائیں گے بلکہ ینی کپی کی روح کو برقرار رکھیں گے۔

فتح اللہ گولن کی ناکام بغاوت کے خلاف استنبول  کے ینی کپی میدان میں ترک حکومتی جماعت اور تمام اپوزیشن جماعتوں اکھٹی ہوئی تھیں اور جمہوریت اور ملی مقصد کے لیے یکجہتی کا اظہار کیا تھا۔

دولت بیچالی نے کہا "ملی حرکت پارٹی اس روح کے ساتھ وفادار ہے جو 7 اگست 2016ء کو شروع کی گئی تھی”۔انہوں نے مزید کہا: "ملی حرکت پارٹی ینی کپی کی روح کے مطابق عمل کرے گی اور رجب طیب ایردوان کی حمایت میں فیصلہ کرے گی”۔

ملی حرکت پارٹی (ایم ایچ پی) حکومت کی ناکام بغاوت کرنے والے فتح اللہ گولن دہشتگرد نیٹ ورک (فیتو) کے خلاف جنگ کی حمایت کرتی ہے۔ فتح اللہ گولن کے حامی کئی دہائیوں سے ترک فوج اور دیگر اہم اداروں میں نفوز کئے ہوئے تھے اور اپنے رہنماء فتح اللہ گولن کی ہدایات پر عمل کرتے تھے۔

آق پارٹی کے پارلیمانی لیڈر بولینت تران نے بیچالی کے خیالات کو مثبت قرار دیا کر خوش آمدید کہا ہے۔ انہوں نے کہا: "بیچالی نے اس ایشو پر قدم اٹھایا ہے، ہماری پارٹی بھی اس بارے ضروری بیان جاری کرے گی”۔

تران نے کہا کہ اتحاد بنانا سیاسی پارٹیوں کا حق ہے اور جمہوریت عوام پارٹی (سی ایچ پی) کی قیادت پر تنقید کی جنہوں نے آق پارٹی اور ایم ایچ پی کی قربت کو نشانہ بنا رہی ہے۔ "جب سی ایچ پی، کرد ایچ ڈی پی کے قریب جاتی ہے تو آپ کہتے کیا اچھا اتحاد ہے لیکن جب ایم ایچ پی اور آق پارٹی اکھٹے ہوتی ہیں تو کہتے ہو ‘یہ کیا ہو رہا ہے؟’ اتحاد ہر سیاسی جماعت کا حق ہے”۔

تبصرے
Loading...