تعاون نہ کرنے کی صورت محمود عباس کی جگہ محمد دحان کو لائیں گے، سعودی ولی عہد کی فلسطینی صدر کو دھمکی

0 49,955

مڈل ایسٹ آئی کے فلسطینی نمائندہ کے مطابق محمود عباس نے صاف الفاظ میں سعودی ولی عہد کو بتایا کہ اگر امریکا 1967ء کی سرحدات کے مطابق اسرائیلی فلسطینی تنازعہ کے حل کے لئے دو ریاستی امن منصوبہ پیش کرنے کے لئے تیار ہے جس میں مشرقی یروشلم فلسطینی ریاست کا صدر مقام ہو گا تو ہم اسکے ساتھ آنے کو تیار ہیں لیکن اگر امریکا ہمیں اسرائیلی طرز پر تیار کردہ کسی امن منصوبے میں گھسیٹنا چاہتا ہے تو ہم اسکا ساتھ نہیں دیں گے۔

رپورٹ کے مطابق شاہ سلمان نے محمود عباس کو بتایا کہ اگر انہوں نے لبنان میں رہنے والے فلسطینیوں کو سعودی کیمپ میں شمولیت اختیار کرنے پر آمادہ نہ کیا تو انکی جگہ جلا وطن فلسطینی سیاستدان محمد يوسف شاكر دحلان کو لایا جائے گا۔
فلسطینی حکام جو دونوں رہنماؤں  کے درمیان ہونے والی بات چیت سے آگاہ تھے نے مڈل ایسٹ آئی کو بتایا کہ سعودی ولی عہد نے محمود عباس کو کہا کہ امریکا اسرائیل پر اثر انداز ہونے والی واحد طاقت ہے جو اسرائیل پر کسی امن منصوبے کی حمایت کے لئے دباو ڈال سکتا ہے۔ اور امریکا کے علاوہ کوئی بھی یہ کام نہیں کر سکتا چاہے وہ یورپین یونین ہو روس ہو یا چین ہو۔
فلسطینی صدر کے بدھ کے روز ریاض کے سرکاری دورہ کے موقعہ پر سعودی ولی عہد نے ان سے بات چیت کرتے ہوئے انہیں اسرائیل فلسطین تنازعہ کے لئے پیش کردہ امریکی امن منصوبے کی حمایت پر اکساتے ہوئے کہا کہ امریکا ہی خطے میں "واحد گیم” ہے۔
مشہور اخبار مڈل ایسٹ آئی نے فلسطینی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ سعودی ولی عہد سلمان بن محمد نے فلسطینی صدر محمود عباس کو سعودی سلطنت کا ساتھ نہ دینے اور امریکی امن منصوبے کی حمایت نہ کرنے کی صورت میں اقتدار سے فارغ کر دینے کی دھمکی دی ہے۔
عباس نے سعودی دارلحکومت میں ایک ملاقات سعودی بادشاہ سے بھی کی جس میں فلسطینی حکام اور سعودی شہزادوں کی ایک بڑی تعداد شامل تھی تاہم سعودی ولی عہد اس ملاقات میں شریک نہ ہوئے۔
عباس کا دورہ ریاض ترکی میں ترک صدر رجب طیب ایردوان کی زیر قیادت مسلمان ملکوں کے سربراہان کی ملاقات کے ایک ہفتے بعد ہوا۔ اس ملاقات میں مسلمان سربراہان نے امریکا کے بیت المقدس کو اسرائیلی دارلخلافہ تسلیم کرنے کے فیصلہ کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اس سے انحراف کیا تھا۔
سعودی عرب اور اسکے چند اتحادی بشمول متحدہ عرب امارات اس غیر معمولی اجلاس میں شریک نہ ہوئے بلکہ ایسی رپورٹس بھی منظر عام پر آئیں کہ سعودی عرب اپنے طور پر فلسطینی صدر محمود عباس پر دباو ڈال رہا ہے کہ فلسطین کے مشرقی بیت المقدس بارے دعویٰ سے پیچھے ہٹ جائے تاکہ امریکا ایران کے خلاف سعودیہ کی حمایت جاری رکھے۔
دریں اثناء ترکی اور فلسطین معاملہ کو اقوام متحدہ جنرل اسمبلی لے گئے اور وہاں امریکی فیصلہ کو مسترد کرتے ہوئے بین ا لاقوامی برادری نے امریکا کو فیصلہ واپس لینے کو کہا۔
ٹرمپ کی امداد کی کٹوتی کی دھمکی کے باوجود ممالک نے امریکی فیصلہ کو مسترد کرتے ہوئے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا۔ اور قرارداد واضح برتری سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے پاس کر لی۔

 

تبصرے
Loading...