ہم کسی کو اجازت نہیں دیں گے کہ ہماری ملٹری اکیڈمیوں میں ٹریننگ کے ساتھ افسروں کو کوئی اور مشن سمجھایا جائے، ایردوان

0 502

ترک صدر رجب طیب ایردوان نے ترک ملٹری اکیڈمی میں گریجویشن تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا: "یہ فوج بغاوت کے منصوبہ سازوں کی ملکیت ہے اور نہ ان کے اتالیقوں کی۔ یہ فوج کسی صورت بھی فیتو سے کوئی تعلق نہیں رکھتی۔ یہ فوجی کسی غیر ملکی ادارے کے ماتحت نہیں آتی۔ یہ فوج میرے اور آپ کے ملک ترکی کی فوج ہے اور اس ملت کی ملکیت ہے”۔

ہم نے صریح مقامی اور قومی ڈھانچہ بنایا ہے جو یہاں غالب ہے

انہوں نے ترک ملٹری اکیڈمیوں کے بنیادی مقاصد کی ترمیم نو کے بارے بتایا کہ اس میں صرف ٹریننگ کو اوّل و آخر درجہ پر رکھ کر تعلیم کا سلسلہ بھی شروع کیا گیا ہے۔ صدر ایردوان نے کہا: "نئے تدریسی اسٹاف اور طلباء کے ساتھ اب ملٹری اکیڈمیاں صرف ایک ہی مقصد رکھتی ہیں کہ بہتر سے بہترین ٹریننگ، جس سے اعلی قابلیت اور صلاحیتیوں سے مالا مال فوجی افسر ترک افواج کو میسر آ سکیں۔ ہم کسی کو اجازت نہیں دیں گے کہ ہماری ملٹری اکیڈمیوں میں ٹریننگ کے ساتھ افسروں کو کوئی اور مشن سمجھایا جائے”۔ انہوں نے مزید کہا: "ہم نے صریح مقامی اور قومی ڈھانچہ بنایا ہے جو یہاں غالب ہے۔ جو کسی نظریہ، گروہ یا ذہنیت کو ہماری ملٹری اکیڈمیوں کو کنٹرول کرنے سے روک گا”۔

صدر ایردوان نے کہا کہ جیسے غازی مصطفے کمال اتاترک نے پوری قوم کے اقدار کی نمائندگی کی اسی طرح آج بھی ترک فوج ساری ملت کی نمائندگی کرے گی۔ انہوں نے کہا: "یہ فوج بغاوت کے منصوبہ سازوں کی ملکیت ہے اور نہ ان کے اتالیقوں کی۔ یہ فوج کسی صورت بھی فیتو سے کوئی تعلق نہیں رکھتی۔ یہ فوجی کسی غیر ملکی ادارے کے ماتحت نہیں آتی۔ یہ فوج میرے اور آپ کے ملک ترکی کی فوج ہے اور اس ملت کی ملکیت ہے”۔

آپریشنل صلاحتیوں اور تجربے کے لحاظ میں ہم دنیا کی ایک بہترین اور طاقتور فوج رکھتے ہیں

عراقی سرحدوں پر دہشتگردوں کو پہنچنے والے نقصان اور ان کی کمزور پڑتی صورت حال کا ذکر کرتے ہوئے ترک صدر ایردوان نے کہا: "سب سے بہترین، ہم نے شام میں ایک بہت ہی اہم آپریشن کیا۔ ہم ایک ایسی فوج رکھتے ہیں جو قطر سے صومالیہ اور افغانستان سے بوسنیا تک غیر ملکی مشن کامیابی سے چلا رہی ہے۔ ایمانداری سے کہا جائے تو یقیننا آپریشنل صلاحتیوں اور تجربے کے لحاظ میں ہم دنیا کی ایک بہترین اور طاقتور فوج رکھتے ہیں میں پورے یقین سے کہتا ہوں کہ اگر ہم دن کے 24 گھنٹوں اور سال کے 365 دنوں میں مسلسل آپریشن کرنے والی ایک طاقتور فوج نہ رکھتے ہوتے تو وہ ہمیں ایک دن بھی اس خطے میں زندہ رہنے کا حق نہ دیتے”۔

میں اپنے سپاہیوں کو گریجویشن کرنے پر مبارکباد دیتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ وہ ایک ہیرو کی طرح ڈیوٹی سرانجام دیں گے

صدر ایردوان نے اپنی تقریر کے اختتام پر کہا: "میں پوری قوم کی طرف سے، اپنے تمام سپاہیوں کو گریجویشن مکمل کرنے پر نیک تمنائیں اور مبارکباد دیتا ہوں اور امید کرتا ہوں وہ وطن کی آزادی کے تحفظ اور اس کے مستقبل کی حفاظت کے لیے ایک ہیرو کی طرح اپنی ڈیوٹی سر انجام دیں گے”۔

تبصرے
Loading...