سیسی کا استحکام اقتدار: مصری انتخابات میں حصہ لینے والے حاضر سروس یا ریٹائرڈ جرنیلوں کیلئے فوجی اجازت نامہ لازم

0 1,923

عالمی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق مصری پارلیمنٹ نے سوموار کے روز ایک ایسا قانون پاس کیا ہے جس کے تحت کسی بھی حاضر سروس یا ریٹائرڈ آرمی پرسنل کو صدارتی یا پارلیمانی انتخابات میں حصہ لینے سے قبل فوج سے اجازت نامہ لینا ضروری قرار دیا گیا ہے۔

قانون سازی میں کی گئی یہ تبدیلیاں ایک سال بعد آئی ہیں اس سے قبل ایک ریفرنڈم میں بھاری اکثریت سے آئینی ترامیم کے حق میں ووٹ دیا گیا تھا جس میں ممکنہ طور پر صدر عبد الفتاح السیسی، جو جمہوری حکومت پر شب خون مارنے والے سابق آرمی چیف ہیں، ان کو اقتدار میں 2030 تک برقرار رہنے کی اجازت دی گئی تھی۔ اس سے قبل جنرل سیسی کو 2022 میں اپنی دوسری چار سالہ مدت کے اختتام پر اقتدار چھوڑنا تھا۔

توقع کی جا رہی ہے کہ حالیہ ترمیم کے بعد فوجی اہلکاروں کے لیے کسی بھی انتخابات میں حصہ لینے کو تقریباً ناممکن بنا دیا جائے گا۔ یہ ترمیم کسی بھی فوجی جرنیل یا ریٹائرڈ آرمی آفسیر کو جنرل سیسی کے مقابلے میں آنے سے روک دے گا۔

ٓ2013ء میں مصری غاصب سیسی نے مصر کے پہلے منتخب کردہ جمہوری صدر ڈاکٹر محمد مرسی کے اقتدار ہر شب خون مارتے ہوئے مصری صدارتی محل پر قبضہ حاصل کیا تھا۔

حالیہ ترمیم کے بعد فوجی افسران کو عوامی خدمات کے کسی سیاسی سرگرمی میں معلومات کے تبادلے یا کسی سیاسی پارٹی میں شامل ہونے کو سپریم کونسل آف آرمڈ فورسز کی اجازت سے مشروط کر دیا گیا ہے۔ حسنی مبارک کے اقتدار کے خاتمے کے بعد سپریم کونسل آف آرمڈ فورسز نے ملک کی باگ ڈور سنبھالی تھی۔

مسلح افواج کے ایک سابق چیف آف اسٹاف سمیع عنان نے فوج کی کسی منظوری کے بغیر غاصب سیسی کے خلاف صدارتی انتخابات لڑنے کے لیے کاغذات جمع کروائے تھے جس پر انہیں جنوری 2018ء میں جیل بھیج دیا گیا تھا اور دو سال بعد رہا کیا گیا۔ اس سے قبل ایک سابق آرمی افسر کو یوٹیوب پر صدارتی انتخابات لڑنے کے اعلان پر فوجی عدالت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

تبصرے
Loading...