تمباکو نوشی کے خلاف جنگ میں اگلا قدم، مزید پابندیاں عائد کی جائیں گی

0 240

وزیر صحت فخر الدین خوجہ نے کہا ہے کہ ترکی کی تمباکو نوشی کے خلاف جنگ پورے زور و شور سے جاری ہے کیونکہ اب ملک بھر میں کاروں کے اندر تمباکو نوشی کرنے والوں پر نظر رکھی جا رہی ہے اور ساتھ ہی تمباکو نوشی کے خاتمے کے لیے نئے منصوبوں کا اعلان بھی کیا۔

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے فخر الدین خوجہ نے صدر رجب طیب ایردوان کے انسدادِ تمباکو نوشی کی کوششوں میں "بنیادی تبدیلی” کے حالیہ تبصرے کی تفصیل پیش کی۔ ریستورانوں اور چائے خانوں جیسے عوامی مقامات اور دیگر جگہوں پر تمباکو نوشی کے لیے مختص علاقوں میں بڑی تبدیلی کی جائے گی۔ "ہم ان علاقوں کی نئی وضاحت کریں گے کہ جہاں تمباکو نوشی کی اجازت نہیں ہے۔ کاروباری ادارے عام طور پر اپنے "بہترین” علاقے تمباکو نوشی کرنے والوں کے لیے مختص کرتے ہیں جبکہ سگریٹ نہ پینے والے افراد ‘کونوں کھدروں” میں رہنے پر مجبور ہیں۔ کاروباری اداروں نے موجودہ قوانین کا استحصال کیا ہے اور ہم واضح کریں گے کہ تمباکو نوشی کے لیے مخصوص مقامات کیسے ہونے چاہئیں۔”

ترکی میں تمباکو نوشی پر پابندی کی پہلی جامع مہم کا سہرا صدر رجب طیب ایردوان کو جاتا ہے کہ جن کی حکومت نے 2009ء میں درونِ خانہ تمباکو کے استعمال پر پابندی لگائی تھی۔ صدر مملکت اپنے اندرونی حلقوں میں بھی تمباکو نوشی پر بارہا خبردار کرنے والی شخصیت کے طور پر مشہور ہیں اور ساتھ ہی انہوں نے تمباکو نوشی کے خاتمے کے لیے ملک بھر میں متعدد اقدامات بھی اٹھائے۔

پچھلے چند سالوں میں اس پابندی کی خلاف ورزی کو روکنے کے لیے معائنے ہوتے رہے ہیں۔ تقریباً 1500 ٹیمیں ملک بھر میں کاروباری اور سرکاری عمارتوں کے روزانہ جائزے لیتی ہیں کہ وہاں اس پابندی کی خلاف ورزی تو نہیں ہو رہی۔ وزارت صحت نے خلاف ورزی کی اطلاع دینے کے لیے شہریوں کو ایک ہاٹ لائن بھی دے رکھی ہے جبکہ Green Detector نامی ایک ایپ بھی ہے جو صارفین کو کسی بھی خلاف ورزی کی فوری اطلاع دینے کی سہولت دیتی ہے۔ 2009ء سے اب تک یہ ٹیمیں 22.8 ملین معائنے کر چکی ہیں۔ وزارت صحت نے تمباکو نوشی ترک کرنے کے خواہش مند افراد کے لیے 2010ء میں ایک مشاورتی ہاٹ لائن بنائی۔ ہاٹ لائن کو روزانہ تقریباً 5,000 کالز موصول ہوتی ہیں۔ وزارت کی ویب سائٹ "تمباکو نوشی کیسے چھوڑیں” کے ساتھ ساتھ صارفین کو یہ بھی بتاتی ہے کہ سگریٹیں نہ خرید کر کتنے پیسے بچا سکتے ہیں۔ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ تمباکو نوشی پر پابندی لگانے کے بعد سے اس کے پھیلاؤ میں کمی آئی ہے اور سگریٹ پینے والے افراد کا مفت طبی علاج بھی اس کی عادت میں کمی لانے میں مددگار رہا ہے۔

ترکی نے رواں سال سادہ پیکٹ کا قانون بھی متعارف کروایا ہے جو اگلے سال تک مکمل طور پر لاگو ہو جائے گا۔ اس کے تحت تمباکو کی مصنوعات پر برانڈ کا کوئی بھی بڑا لوگو یا علامت وغیرہ نہیں ہوگی۔ سگریٹ کے پیکٹ کا بڑا حصہ تمباکو نوشی سے صحت کو لاحق خطرات کا حامل ہوگا۔

فخر الدین خوجہ نے کہا کہ ای سگریٹ بھی انہی نئے قوانین کے تحت آئیں گے، ان پر پابندی لگائی جائے گی اور ملک میں ان کی اجازت نہیں ہوگی۔

دنیا بھر کی طرح ترکی میں بھی ای سگریٹ مقبول ہو رہے ہیں اور تمباکو نوشی کرنے والے افراد اس نئی عادت کا شکار ہوتے جا رہے ہیں، اس امید کے ساتھ کہ یہ انہیں تمباکو نوشی سے بچانے میں مدد دیں گے۔ لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ سگریٹوں جتنے ہی نقصان دہ ہیں۔ امریکا میں ای سگریٹ کی صنعت کو وفاقی اور مقامی حکومتوں کی جانب سے نگرانی کا سامنا ہے کیونکہ ان سے 14 اموات ہو چکی ہیں۔

تبصرے
Loading...