محمد مرسی کو قتل کیا گیا، کٹہرے میں گرنے کے بعد 20 منٹ تک نیچے پڑے رہے

0 2,810

مصر کی افواج پر سابق صدر محمد مُرسی کے قتل کا الزام لگایا جا رہا ہے کہ جن کے اہلِ خانہ اور دوستوں کا کہنا ہے کہ سوموار کو قاہرہ میں ہونے والی سماعت کے دوران جب سابق صدر گرے تو پولیس نے انہیں فوری طبّی امداد فراہم نہیں کی۔

قید خانے کے محافظوں نے 67 سالہ رہنما کو عدالت میں موجود شیشے کے کٹہرے میں 20 منٹ تک پڑے رہنے دیا، حالانکہ وہ مدد کے لیے پکارتے رہے۔

مرسی، جو ذیابیطس، ہائپرٹینشن اور جگر کے امراض کا شکار تھے، غیر ملکی طاقتوں اور عسکری گروہوں کے ساتھ تعاون کرنے کے الزامات پر دوبارہ سماعت کے دوران گفتگو کرنے کے کچھ دیر بعد کمزوری سے نیچے گر گئے تھے۔

مصر کے اٹارنی جنرل کے دفتر نے ان دعووں کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ "انہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا تھا” جہاں بعد ازاں ان کی موت کی تصدیق ہو گئی۔ یہ سمجھا جا رہا ہے کہ وہ دل کا دورہ پڑنے سے جاں بحق ہوئے۔

اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی انجمنوں نے اسلام پسند رہنما کی دورانِ قید حالت اور موت پر آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

ملک کے پہلے جمہوری طور پر منتخب ہونے والے صدر، جنہیں 2013ء میں اقتدار سے ہٹایا گیا، کی تدفین ان کے اہل خانہ کی خواہش کے برعکس فوراً سے پیشتر دارالحکومت کے مشرقی علاقے نصر شہر میں کی گئی حالانکہ اہلِ خانہ ان کے آبائی علاقے شرقیہ میں تدفین کے خواہشمند تھے۔

آخری رسومات میں خاندان کے محض چند اراکین اور وکلاء کو شرکت کی اجازت دی گئی لیکن کسی کو بھی لاش کے معائنے کی رپورٹ تک رسائی نہیں دی گئی۔

عبد الحداد، جن کے والد اور بھائی مرسی کے ساتھ مقدمے کا سامنا کر رہے تھے، نے کہا کہ عینی شاہدین نے مجھے بتایا کہ "کسی کو پروا نہیں تھی” کہ وہ گرنے والے مرسی کی مدد کرے۔ "انہیں کچھ دیر تک نیچے پڑا رہنے دیا گیا جب تک کہ محافظوں نے انہیں اٹھایا۔ ایمبولینس 30 منٹ بعد آئی۔ دیگر قیدیوں نے ان کے گرنے کا سب سے پہلے نوٹس لیا اور آوازیں اٹھائیں۔ ان میں سے چند جو ڈاکٹر ہیں، نے محافظوں سے کہا کہ انہیں اجازت دیں کہ ان کا معائنہ کریں اور طبی امداد دیں۔ ابتدائی لمحات میں جان بوجھ کر غفلت برتی گئی۔ جب ملزمان نے شور مچانا شروع کیا تو قید خانے کے محافظوں نے سب سے پہلے خاندان کے اراکین کو عدالت کے احاطے سے نکالنا شروع کردیا۔” انہوں نے کہا کہ اب انہیں اپنے والد کی تشویش ہے جنہیں گرفتاری کے بعد سے چار مرتبہ دل کا دورہ پڑنے کے باوجود آپریشن نہیں کروانے دیا جا رہا۔

مدعا علیہ کے ایک عزیز سے بھی اس رپورٹ کی تصدیق ہوتی ہے کہ جنہوں نے سماعت کے مرسی کے رشتہ داروں اور مدعا علیہان سے بات کی، لیکن سکیورٹی وجوہات کی بناء پر نام ظاہر نہ کرنے کا کہا۔ "10 منٹ بعد (مرسی نے) بات کرنا بند کردی۔ کٹہرے کے اندر موجود افراد نے شیشے کی دیواروں کو بجانا شروع کردیا اور کہہ رہے تھے کہ وہ بے ہوش ہیں اور انہیں مدد کی ضرورت ہے۔ خاندان کے افراد جو وہاں موجود تھے، نے بتایا کہ پولیس نے 20 منٹ سے زیادہ وقت تک کچھ نہیں کیا، حالانکہ وہ چیختے رہے۔ اس کے بعد پولیس نے خاندان کے افراد کو عدالت سے نکالنا شروع کردیا اور پھر ایمبولینس آئی۔ ”

اس بات کو عمرو دراج نے بھی اس بات کی تصدیق کی، کہ جو 2013ء میں فوجی قبضے سے قبل مرسی کے وزیر برائے بین الاقوامی تعاون تھے۔ انہوں نے برطانوی اخبار "انڈیپنڈنٹ” کو بتایا کہ سابق صدر کو کٹہرے کے فرش پر بے ہوشی کے عالم میں تقریباً نصف گھنٹہ پڑا رہنے دیا گیا اور قید کے دوران بھی انہیں مناسب طبی علاج فراہم نہیں کیا گیا۔ ترکی سے بات کرتے ہوئے دراج نے کہا کہ "10 سے بھی کم افراد کو ان کے جنازے میں شرکت کی اجازت دی گئی۔ ان کی لاش کا کوئی آزادانہ معائنہ بھی نہیں کیا گیا۔”

سرکاری دعوے کے مطابق مرسی کو گرنے کے فوراً بعد ہسپتال منتقل کیا گیا تھا اور گردش کرتی خبروں کو جھوٹ قرار دیا۔ البتہ ہیومن رائٹس واچ نے مرسی کی موت کو "ہولناک لیکن متوقع” قرار دیا اور کہا کہ ان کے اہلِ خانہ نے بتایا کہ انہیں قید خانے کی غلیظ کوٹھڑی میں فرش پر سونے پر مجبور کیا جاتا اور طبی دیکھ بھال کی کمی کی وجہ سے انہیں ذیابیطس کی وجہ سے بے ہوشی کے دورے پڑے۔

گزشتہ سال برطانوی اراکین پارلیمان اور قانون سازوں کے ایک گروپ نے ایک رپورٹ جاری کی تھی جس میں خبردار کیا گیا تھا کہ اگر مرسی کو فوری طبی امداد نہیں دی گئی تو وہ قید میں ہی انتقال کر سکتے ہیں۔

مرسی کو 2012ء میں مصری تاریخ کے پہلے انتخابات میں کامیابی حاصل ہوئی تھی لیکن ایک سال بعد ہی عوامی مظاہروں کے بعد فوج نے ان کی حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ جولائی 2013ء میں انہیں گرفتار کر لیا گیا اور پانچ ماہ تک منظر عام سے غائب کردیا گیا۔ اس دوران فوج نے اخوان المسلمون کے خلاف زبردست کریک ڈاؤن کیا اور سینکڑوں حامیوں کو قتل اور لاکھوں کو قید کر لیا۔ یہاں تک کہ نومبر 2013ء میں مرسی کو سامنے لایا گیا اور انہیں مظاہرین کے خلاف تشدد کے استعمال اور جاسوسی کے الزامات کے مقدمے میں گھسیٹا گیا۔

قاہرہ میں تو ان کی موت پر اتنا خاص ردعمل نہیں آیا لیکن استنبول میں ان کی غائبانہ نمازِ جنازہ میں بڑی تعداد میں عوام نے شرکت کی۔ ترک صدر رجب طیب ایردوان، جو مرسی کے قریبی حامی تصور کیے جاتے تھے، نے انہیں "شہید” قرار دیا اور مصر کے "جابر حکمرانوں” کو ان کی موت کا ذمہ دار قرار دیا۔

تبصرے
Loading...