موساد نے ملائشیا میں فلسطینی انجینئر کو قتل کر دیا، خاندانی ذرائع

0 1,060

ملائشی پولیس کے مطابق ایک فلسطینی مرد کو دو موٹر سائیکل سواروں نے اس وقت نشانہ بنایا جب وہ نماز کے لیے مسجد کی طرف جا رہا تھا۔

فلسطینی خبر رساں اداروں کے مطابق اس فرد کی پہچان فلسطینی مزاحمتی جماعت حماس کے ایک بڑے عہدیدار کے رشتہ دار کے طور پر کی گئی ہے۔

محمد البطش کے خاندان اور حماس کے سینئر رہنما خالد البطش نے ان کے قتل کی ذمہ داری اسرائیلی انٹیلیجنس سروس موساد پر عائد کی ہے۔ محمد البطش کے خاندان نے بتایا ہے کہ وہ اگلے روز توانائی کی ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے ترکی روانہ ہونے والے تھے۔

محمد البطش کی عمر 35 سال تھی۔ وہ الیکٹریکل انجینئرنگ میں ایک نمایاں پہچان رکھتے تھے۔ ان کی تحقیقات عالمی اعزازت حاصل کر چکی تھیں۔ متعدد عالمی سطح کے سائنسی مجلات میں ان کی تحقیقات شائع ہو چکی تھیں۔

وہ گذشتہ دس سال سے ملائشیا میں مقیم تھے۔ انہوں نے یونیورسٹی آف ملائشیا سے 2015ء میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی اور برٹش ملائشین انسٹیٹیوٹ میں سنیئر لیکچرار کے عہدے پر تعینات تھے۔ اس کے علاوہ وہ رفاعی کاموں میں مشغول رہتے تھے وہ مائی کیئر چیرٹی ایسوسی ایشن میں بھی کام کر چکے تھے اور الاقصیٰ فاؤنڈیشن اور آئی فار سریا کی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیتے تھے۔ اس کے علاوہ وہ ملائشیا کی رہائشی مسجد میں نائب پیش امام کے طور پر بھی کام کر رہے تھے۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی برناما کے مطابق ملائشیا کے نائب وزیر اعظم احمد زاہد حمیدی نے کہا ہے کہ موٹر سائیکل سوار مشتبہ افراد یورپی تھے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے تعلق غیر ملکی ایجنسی سے ہو سکتا ہے۔

اسرائیلی حکومت نے تاحال اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ لیکن اسرائیل غیر ملکی سرزمین پر فلسطینی کاز پر کام کرنے والوں کو قتل کرنے کی ایک طویل تاریخ رکھتا ہے۔

تبصرے
Loading...