سابق فوجی آمر مشرف کو سزائے موت: فوجی بغاوت کے سامنے مزاحمت کرنے والی ترک قوم کا ردعمل

0 4,413

پاکستان کی سپریم عدالت نے منگل کے روز سنگین غداری کیس میں  پرویز مشرف کو سزائے موت کا حکم دے دیا ہے۔ پرویز مشرف نے 12 اکتوبر 1999 کو اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کو معزول کر کے اقتدار پر قبضہ کیا، 12 اکتوبر 1999 کو اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف نے لیفٹیننٹ جنرل ضیاء الدین بٹ کو جنرل کے عہدے پر ترقی دے کر نیا آرمی چیف بنایا لیکن جبری ریٹائر کیے گئے۔

آرمی چیف جنرل پرویز مشرف نے وزیراعظم کا فیصلہ قبول نہ کیا جس کے بعد ٹرپل ون بریگیڈ نے وزیراعظم سیکریٹریٹ پر قبضہ کرلیا اور جمہوری وزیراعظم کو ہتھکڑی لگا کر معزول کر دیا تھا۔

3 نومبر 2007 کو پرویز مشرف نے ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے 1973 کے آئین کو معطل کر دیا جس کی وجہ سے چیف جسٹس آف پاکستان سمیت اعلیٰ عدالت کے 61 ججز فارغ ہوگئے تھے۔

فوجی بغاوتوں میں ایک عرصہ تک جینے والے اور 15 جولائی کو فوجی بغاوت کے مقابلے سینہ سپر ہونے والی ترک عوام کی جانب سے اس خبر پر ملے جلے تاثرات سامنے آئے ہیں۔

ترک سیاسی تجزیہ کار عاطف اوزبے نے اپنے ٹوئٹ میں کہا ہے کہ سابق فوجی آمر اور 2008 تک حکمران رہنے والے پرویز مشرف کو پھانسی کی سزا دے دی گئی ہے۔

طب سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر سیزائی چیلک نے اس خبر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک سے غداری کرنے والی ہر شخص کو پھانسی دی جانا چاہیے لیکن ہمارے ہاں انہیں صرف جیل میں قید رکھا جا رہا ہے۔

حکمران جماعت کے حامی اور 15 جولائی کی بغاوت میں پیش پیش رہنے والے فاروق نے کہا ہے کہ ملک میں غداری پر سزائے موت سنائی گئی ہے جبکہ وہ دبئی میں امریکی ہسپتال میں اپنا علاج کروا رہے ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ "میں نے پاکستان کے لیے جنگوں میں حصہ لیا، 10 سال سے زیادہ ملک کی خدمت کی”۔

فاروق نے سزا کے بعد پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات پر بھی سوال اٹھایا کہ آیا وہ پاکستانی ملزم کو اس کے ملک کے حوالے کرے گا یا نہیں۔

ایک اور ترک شہری نے اس خبر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلامی جغرافیہ میں اس طرح کے منافق لیڈروں کا انجام ان شاء اللہ اسی طرح کا ہو گا۔

ایک اور ترک شہری سرحت ابوبکر نے ایک تصویر لگاتے ہوئے کہا کہ مشرف نے 2012ء میں اولکر کے سربراہ سے ملاقات کی تھی۔

تبصرے
Loading...