اخوان المسلمون مصر نے سیاسی جدوجہد ترک کرنے کا اعلان کر دیا

0 1,711

اخوان المسلمون کے قائم مقام رہنما نے کہا ہے کہ مصر میں اخوان المسلمون اقتدار کے لیے نئی جدوجہد شروع کرنے سے گریز کرے گی، اگرچہ تحریک کو اب بھی وسیع حمایت حاصل ہے۔

2012ء میں اس معروف تحریک نے مصر کے پہلے آزاد صدارتی انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی، لیکن ایک سال بعد اس کی حکمرانی کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہروں کے بعد ایک فوجی بغاوت میں اس کا تختہ الٹ دیا گیا تھا اور اس کے بعد سے اسے فوجی حکام کی جانب سے شدید کریک ڈاؤن کا سامنا ہے۔

اس کے بہت سے رہنما اور ہزاروں حامی جیلوں میں ہیں یا مصر سے فرار ہو چکے ہیں، اور اس پارٹی کو صدر عبدالفتاح السیسی کے ذریعے جلد ہی شروع ہونے والے سیاسی مکالمے سے خارج کر دیا گیا ہے، سیسی 2013ء میں اخوان کو معزول کرنے والے آرمی چیف تھے۔

مصر کی فوجی حکومت نے اخوان المسلمون کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہے، لیکن قائم مقام رہنما ابراہیم منیر نے اپنی جماعت کے کسی قسم کے انتشاری یا پُرتشدد نظریے سے تعلق کو مسترد کر دیا ہے۔

ماضی میں جب بھی اخوان المسلمون پر پابندی عائد کی گئی وہ بیلٹ باکس کے ذریعے وقت کے اقتدار کے چیلنج کو مسترد کرتے ہوئے بھی نظر آئے۔ ماضی میں انہوں نے پابندی کے باوجود پارلیمانی انتخابات میں آزاد امیدوار بھی کھڑے کیے تھے۔

اخوان المسلمون کے قائم مقام سربراہ نے انٹرویو میں کہا ہے، "ہم (تشدد) کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں اور ہم اسے اخوان المسلمون کے نظریے سے باہر سمجھتے ہیں- نہ صرف تشدد اور ہتھیاروں کا استعمال، بلکہ مصر میں کسی بھی شکل میں اقتدار کی جدوجہد کرنا بھی”۔

انہوں نے کہا، "ہم اقتدار کے لیے جدوجہد کو مسترد کرتے ہیں چاہے یہ جدوجہد سیاسی پارٹیوں کے درمیان ریاست کی جانب سے منعقد کئے جانے والے انتخابات کے ذریعے ہی کیوں نہ ہو، ہم اسے یکسر مسترد کرتے ہیں۔”

ابراہیم منیر نے کہا، "یقینی طور پر یہ وقت پچھلے وقتوں اور پچھلی آزمائشوں سے زیادہ مشکل ہے۔”

ابراہیم منیر نے تسلیم کیا کہ اخوان کو اس بات پر اندرونی تقسیم کا سامنا کرنا پڑا ہے کہ حالیہ بحران کا جواب کیسے دیا جائے تاہم ایک نئے رہنما کے انتخاب سے "صورتحال مستحکم ہو جائے گی۔”

اخوان المسلمون نے ترکی اور مصر کے درمیان حالیہ پیش رفت اور ترکی میں مشکلات کے جواب میں کہا کہ "اخوان المسلمون ابھی تک ترکی میں دباؤ میں نہیں آیا تھا۔ ابھی تک ہم اسے دیکھتے یا محسوس نہیں کر رہے ہیں لیکن یہ ترک ریاست کا حق ہے کہ وہ کوئی بھی ایسا کام کرے جس سے اس کے امن اور اس کے عوام کی سلامتی یقینی ہو”۔

یہ بھی دیکھیں:

 

 

تبصرے
Loading...
%d bloggers like this: