مسلم ممالک جنگ سے متاثرہ غزہ کی تعمیرنو کے لیے متحد

0 368

فلسطینی علاقے غزہ کی تعمیر نو کے لیے قائم کردہ بین الاقوامی کمیشن ترکی سمیت کئی اسلامی ممالک کی مدد سے ناکہ بندی کا شکار غزہ کی پٹی میں تعمیر نو کا کام جاری رکھے ہوئے ہے۔

کمیشن کے سربراہ، اردنی سینیٹ کے سابق چیئرمین طاہر المصری نے جمعرات کو اناطولیہ نیوز ایجنسی سے بات کرتے ہوئے ان اقدامات کا ذکر کیا جو حالیہ سالوں کے دوران غزہ میں زندگی کی بحالی کے لیے کمیشن نے اٹھائے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ اب تک 37 ملین ڈالر سے زیادہ رقم غزہ میں سکولوں، مساجد اور ہسپتالوں کی تعمیر، انفراسٹرکچر کی بحالی اور صاف پانی کی فراہمی کی مد میں خرچ کی جا چکی ہے۔

المصری کے مطابق کمیشن کے دائرہ کار میں جنگ کے  نتیجے میں معذور اور بے گھر ہونے والے افراد کی بحالی بھی شامل ہے۔

ترکی اور کمیشن کے باہمی تعاون کے حوالے سے بات کرتے ہوئے طاہر المصری نے کہا کہ ترکی 2009 میں کمیشن بننے کے بعد سے مسلسل کمیشن کے ساتھ مل کر غزہ کی بحالی کے عمل میں شریک ہے۔

ترکش کوآپریشن اینڈ کوآرڈینیشن ایجنسی نے 2011 میں فلسطین کا سب سے بڑا اور معیاری تربیتی و تحقیقی ہسپتال بنانے کا منصوبہ شروع کیا تھا

یہ جدید ہسپتال 150 بستر پر مشتمل ہوگا جسے "ترک-فلسطین دوستی ہسپتال” کا نام دیا گیا ہے۔ ضروری  طبی آلات کی فراہمی کے بعد یہ ہسپتال اگلے سال کے دوران کام شروع کر دے گا جس سے غزہ کی پٹی کے 20 لاکھ سے زائد رہائشی مستفید ہو سکیں گے۔ سال 2014 میں فلسطین پر تباہ کن اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی مدد کے جذبے کے تحت ترکش ایجنسی نے اب تک متاثرہ افراد کی جسمانی بحالی کے کئی منصوبے بھی مکمل کیے ہیں۔

ایجنسی نے فلسطین کے ساتھ تعاون کے لیے 2005 میں اپنا خصوصی شعبہ قائم کیا تھا جس کے بعد سے ایجنسی کے تحت غزہ میں 113 پروجیکٹ مکمل ہوچکے ہیں۔

تبصرے
Loading...