ہندوستان کے مسلمان بابری مسجد فیصلے کو چیلنج کرنے کے لیے تیار

0 113

بھارت کے دو اہم مسلم گروپوں کا کہنا ہے کہ وہ 16 ویں صدی کی بابری مسجد کی تاریخی جگہ ہندوؤں کے حوالے کرنے کے عدالتی فیصلے کے خلاف پٹیشن دائر کروائیں گے۔

بھارت کی سپریم کورٹ نے 9 نومبر کو فیصلہ دیا تھا کہ ایودھیا میں اُس مقام کو ایک ٹرسٹ سنبھالے گا جو ہندو مندر کی تعمیر کی نگرانی کرے گا کہ جہاں 1992ء میں ہندوؤں بلوائیوں نے 460 سال قدیم مسجد کو شہید کر دیا تھا۔

اعلیٰ عدالت نے یہ بھی فیصلہ دیا کہ وفاقی یا صوبائی حکومت کی جانب سے مسجد کی تعمیر کے لیے 5 ایکڑ کی "مناسب جگہ” سُنّی وقف بورڈ کو دی جائے گی۔

لیکن آل اِنڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ (AIMPLB) اور جمعیت علمائے ہند نے کہا ہے کہ وہ اِس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کریں گے

گزشتہ روز ایک ٹوئٹ میں مسلم پرسنل لاء بورڈ نے کہا کہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی واضح خامیوں کی وجہ سے بابری مسجد کیس میں نظرِثانی پٹیشن دائر کرے گا۔ سیکریٹری ظفریاب جیلانی نے بورڈ اجلاس کے بعد کہا کہ "ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ایودھیا تنازع مقدمے میں 9 دسمبر سے نظرِثانی اپیل دائر کریں گے۔” انہوں نے مزید کہا کہ سپریم کورڈ کا فیصلہ "ناقابلِ فہم” ہے اور اس لیے اس پر نظرِ ثانی کی ضرورت ہے۔

مسلم پرسنل لاء بورڈ کا کہنا ہے کہ "ہم نے پوری مسلم برادری کی جانب سے عدالت کی دی گئی زمین قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔”

جمعیت علمائے ہند کے صدر ارشد مدنی نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ مسئلہ انا کا نہیں، بلکہ شریعت کا معاملہ ہے۔ ہم مسجد نہیں دے سکتے، نہ ہی اس کے بدلے کوئی دوسری جگہ لے سکتے ہیں۔”

مسلم پرسنل لاء بورڈ کا اجلاس شمالی بھارت کے شہر لکھنؤ میں ہوا کہ جس میں مختلف مسلم جماعتوں نے شرکت کی اور بابری مسجد مقدمے میں عدالتی فیصلے کے خلاف نظرثانی اپیل دائر کرنے یا نہ کرنے پر بحث کی۔

اِس مقدمے کے مسلم فریقین میں سے ایک اُتر پردیش سُنی مرکزی وقف بورڈ کا کہنا ہے کہ وہ فیصلے کو تسلیم کرتا ہے۔ البتہ اُس نے بابری مسجد کے عوض دی جانے والی جگہ کو قبول کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ ابھی نہیں کیا۔

سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ 2010ء کے اِس فیصلے کے بعد آیا ہے کہ جس میں اِس جگہ کو ہندوؤں اور مسلمانوں میں تقسیم کرنے کا کہا گیا تھا ، جس میں سے دو تہائی ہندوؤں اور باقی مسلمانوں کے لیے ہوتا۔ فریقین نے اِس فیصلے کو قبول نہیں کیا اور یوں قانونی جنگ طویل تر ہو گئی۔

یہ جامع مسجد بھارت کی ریاست اتر پردیش میں 2.77 ایکڑ پر واقع تھی کہ جسے 1528ء میں پہلے مغل بادشاہ ظہیر الدین محمد بابر نے بنایا تھا۔ 1992ء میں انتہا پسند ہندوؤں نے اس تاریخی مسجد کو شہید کر دیا تھا۔ ہندوؤں کا دعویٰ ہے کہ ان کے دیوتاؤں میں سے ایک، رام، اس مقام پر پیدا ہوئے تھے۔

تبصرے
Loading...