آزادی صرف اسلام کو، نسلی اور فرقہ وارانہ تقسیم کو خطے میں نہیں پنپنے دیں گے، ایردوان

0 197

آق پارٹی کے پارلیمانی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ترک صدر ایردوان نے خبردار کیا کہ وہ طاقتیں جو ترکی اور خطے پر کھیل کھیل رہی ہیں وہ ہمارے خلاف ہر وہ چیز استعمال کریں گے، صدر ایردوان نے کہا: "ہمیں نسلی اور فرقہ وارنہ تقسیم کی سرگرمیوں سے خطے کو محفوظ بنانا ہے، جو اسے پستی کی طرف دھکیل دے گا۔ ورنہ یہ ناگزیر ان ٹیڑھے اقدامات کے نتیجے میں اس منظرنامہ کو بدلا نہ جا سکے جس میں چیخ و پکار تو عربوں، ترکوں، کردوں اور فارسی میں ہوتی ہے اور فتح کی زبان کوئی اور ہوتی ہے”۔

چیئرمین آق پارٹی اور صدر مملکت جمہوریہ ترکی رجب طیب ایردوان نے پارٹی کے پارلیمان گروپ سے خصوصی خطاب کیا۔

مقامی وسائل میں توانائی کو ترجیح دی ہے

پاور پلانٹ کی افتتاحی تقریب بارے پارلیمانی ممبران کو بتاتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ 1538 پاور پلانٹس کے افتتاح ہو چکے ہیں۔ اور مزید 1191 پاور پلانٹس کے اففتاح اس سال کے اختتام تک ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ مقامی وسائل کی ترجیحات میں توانائی کو رکھ رہے ہیں تاکہ توانائی کے شعبے میں بیرونی دنیا پر انحصار کم ہو گا۔

ترکی آج فرانس، جرمنی، بیلجیئم، آسٹریلیا، جنوبی کوریا، بھارت، چین، روس اور جاپان جیسے ممالک سے زیادہ بہتر انداز میں آگے بڑھ رہا ہے- نئی سرمایہ کاری سے بجلی کی پیداوار میں اس کے شئیر 32 فیصد ہو چکے ہیں- صدر ایردوان نے کہا کہ ان کا منصوبہ ہے کہ 10 ہزار میگا واٹ سولر پاور اور 10 ہزار میگا واٹ ونڈ پاور کو اگلی دہائی میں استعمال میں لایا جائے-

صدر ایردوان نے سہہ فریقی سمٹ بارے بریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ شام میں ایک پرامن سیاسی حل کے لیے کوششیں کر رہے ہیں-

ملٹری اسکول ترک عوام کی ملکیت ہیں

انہوں نے جمعرات کے روز ملٹری اکیڈمی میں بغاوت کے بعد ہونے والی پہلی گریجویشن تقریب میں شرکت پر کہا: "ہمارے ملٹری اسکول اپنی بنیادی ذمہ داری کے سوا اب مزید کسی اور معاملے میں نہیں الجھائے جائیں گے- ان کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ ترک افواج کو بھرپور تیار اور با صلاحیت فوجی افسر فراہم کریں- یہ اسکول کسی گروہ، نظریہ یا علامت کے بجائے ترک عوام کی ملکیت ہیں”-

امریکی صدر ٹرمپ سے ہونے والی کال بات چیت پر علمدرآمد دیکھیں گے

گذشتہ دنوں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے آنے والی کال پر بات کرتے ہوئے ترک صدر ایردوان نے کہا: "یہ طویل عرصہ بعد ایسا تبادلہ خیال ہے جس میں ہم ترک امریکی تعلقات میں برابر کی سطح پر پہنچے ہیں”- انہوں نے کہا: "ہمیں امید ہے کہ آنے والے دنوں میں اس فون کال کے مطابق عملدرآمد دیکھیں گے- اس میں ہم نے تفصیل سے پی وائے ڈی اور وائے پی جی، فتح اللہ گولن دہشتگرد تنظیم، ترکی خلاف بنائے جانے والے عدالتی کیسز اور دفاعی انڈسٹری میں تعاون کو موضوع بنایا”-

فیتو، داعش، القاعدہ اور بوکو حرام کو ہمارے عظیم مذہب اسلام کے ساتھ جوڑنا بہت بڑا بہتان ہے

ایسی تنظیمیں جو دنیا میں اسلام مخالف ماحول پیدا کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں اور جو اسلام کا نام استعمال کر کے دھوکہ دیتی ہیں اب یہ مزید فریب نہیں چلنا چاہیے- ترک صدر نے کہا: "فیتو، داعش، القاعدہ اور بوکو حرام کو ہمارے عظیم مذہب اسلام کے ساتھ جوڑنا بہت بڑا بہتان ہے”-

مصر میں ہونے والے المناک حملے کا ذکر کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا: "داعش نے جو انسانی بحران مصر میں پیدا کیا ہے- شام میں جو ملین مسلمان متاثر ہوئے، عراق میں بھی خاصی تعداد میں انسانی جانوں کو نشانہ بنایا گیا- یہ سب ایک ہی فیشن سے ہوا ہے- ہم داعش کے قاتلوں کو خوب جانتے ہیں، جن کا منصوبہ عراق اور شام میں دفن ہو گیا ہے، اب وہ دوسری جگہوں پر اس کو پھیلا رہے ہیں- ان کو ساری دنیا کے تمام خطوں میں پھیلانے کی کوشش کی جا رہی ہے”-

صدر ایردوان نے کہا: "میں یہاں تمام اسلام دنیا کو آواز دیتا ہوں بلکہ ساری دنیا کو- ہمیں ان قاتل گروہوں کے مقابلے میں زیادہ مستعد اور بھرتیلی جنگ لڑیں جس سے داعش کی اعلیٰ قیادت نشانہ بنے، انہیں خون میں نہلا دیں تاکہ باقیوں سے دماغوں سے وہ نکل جائیں”-

وہ طاقتیں جو ترکی اور خطے پر کھیل کھیل رہی ہیں وہ ہمارے خلاف ہر وہ چیز استعمال کریں گے

ترک صدر نے دہشتگردی کے ذرائع اور گھپت کی پہچان کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ اس سے بہتر ہے کہ ہم اس کو پھوڑیں اور اس سے نکلے والے گندے مواد کو پھیلا بیٹھیں- ہم اس پھوڑا کو سرنج کے ذریعے بھر کر خالی کرنا اور پھر اسے صاف کرنا چاہیے-

صدر ایردوان نے کہا: "ہمیں نسلی اور فرقہ وارنہ تقسیم کی سرگرمیوں سے خطے کو محفوظ بنانا ہے، جو اسے پستی کی طرف دھکیل دے گا۔ ورنہ یہ ناگزیر ان ٹیڑھے اقدامات کے نتیجے میں اس منظرنامہ کو بدلا نہ جا سکے جس میں چیخ و پکار تو عربوں، ترکوں، کردوں اور فارسی میں ہوتی ہے اور فتح کی زبان کوئی اور ہوتی ہے”۔

تبصرے
Loading...