نگورنو-قاراباخ کا مسئلہ آرمینیا کا قبضہ ختم ہونے سے ہی حل ہو سکتا ہے، صدارتی ترجمان

0 138

صدارتی ترجمان ابراہیم قالن نے روزنامہ ‘صباح’ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ آذربائیجان اور آرمینیا کے مابین کشیدگی کے خاتمے کا صرف ایک ہی حل ہے کہ آرمینیا نگورنو-قاراباخ پر غیر قانونی قبضہ ختم کر دے۔ انہوں نے کہا کہ "ترکی آذربائیجان کے ساتھ رہے گا، سیاسی لحاظ سے بھی اور دیگر میدانوں پر بھی۔ نگورنو-قاراباخ کا مسئلہ اسی صورت میں حل ہو سکتا ہے کہ آرمینیا اپنا ناجائز قبضہ ختم کرے۔ اس کے بغیر جنگ بندی اور مذاکرات محض عارضی حل ہوں گے۔”

"بدقسمتی سے منسک گروپ تقریباً 30 سال گزرنے کے باوجود اس مسئلے کا کوئی حل پیش کرنے میں ناکام رہا ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ یہ ایک اہم مسئلہ ہے۔ آرمینیا کا قبضہ ختم کرنے پر بات کیے بغیر جنگ بندی کا مطلب ہوگا کہ وہ سب دہرایا جائے جو پچھلے 30سالوں سے ہو رہا ہے۔”

فرانس، روس اور امریکا کی سربراہی میں منسک گروپ 1992ء میں آرگنائزیشن فار سکیورٹی اینڈ کوآپریشن اِن یورپ (OSCE) کی جانب سے بنایا گیا تھا تاکہ اس تنازع کا کوئی پرامن حل نکالا جا سکے لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ البتہ1994ء میں جنگ بندی پر رضامندی ہو گئی۔

ترجمان نے ترکی اور آذربائیجان کے درمیان مضبوط تعلقات پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ "ہمارے آذربائیجان کے ساتھ فوجی اور سکیورٹی معاہدے ہیں۔ اس کے علاوہ ہم آذربائیجان کے ساتھ ایک خاص تعلق بھی رکھتے ہیں، اور ‘ایک قوم، دو ریاستیں’ کے اصول پر چلتے ہیں۔ ہم نے آرمینیا کے حملوں کے خلاف واضح مؤقف اپنایا کہ جو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں۔ ہم آج آذربائیجان کے ساتھ ہیں اور آئندہ بھی رہیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ علاقے کے استحکام کے لیے ترکی کا آذربائیجان کے ساتھ کھڑا ہونا ضروری ہے۔ کیونکہ یہ آرمینیا ہے جو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتا ہے اور آذربائیجان کے علاقوں پر حملے کرتا ہے۔”

ابراہیم قالن نے کہا کہ "ایک آزاد ریاست کی حیثیت سے آذربائیجان اپنی مرضی کے مطابق کسی بھی ملک کے ساتھ ایسے معاہدے کر سکتا ہے اور دفاعی ساز و سامان خرید سکتا ہے۔ لیکن ہمارے فوجی تعاون کا معاہدہ بہت پیچیدہ اور گہرا ہے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔”

انہوں نے کہا کہ "منسک گروپ آذربائیجان اور آرمینیا کے معاملے پر غیر جانبدار نہیں ہے۔ دنیا میں آرمینیا کی بیرونِ ملک دو بڑی آبادیاں ہیں، ایک فرانس میں اور دوسری امریکا میں۔ یہ ان ملکوں کی پالیسیوں میں مؤثر لابنگ کرتی ہیں۔ یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ امریکا اور فرانس اپنی ان آبادیوں کے زیر اثر آئے بغیر فیصلے کریں گے۔ ہم فرانس سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ غیر جانبدار اور تعمیری کردار ادا کرے۔ بین الاقوامی برادری کو کو دیکھنا چاہیے کہ آرمینیا کا قبضہ ختم کرنا اور حل ڈھونڈنا کس قدر ضروری ہے۔ خاص طور پر منسک گروپ کو غیر جانبدار انداز میں اس مسئلے کے حل پر کام کرنا چاہیے۔”

ابراہیم قالن نے مزید کہا کہ قبضے کے خاتمے سے آرمینیا کو بھی فائدہ ہوگا۔ "یہ قبضہ کسی بھی لحاظ سے آرمینیا کے لیے فائدہ مند نہیں ہے۔ دنیا کے اس اہم ترین تنازع کے خاتمے سے آرمینیاکی معیشت کو بھی فائدہ ہوگا۔ اور آرمینیا کے لیے معقول ترین بات یہی ہے کہ وہ ترکی اور آذربائیجان کے ساتھ اپنے تعلقات کو معمول پر لائے۔ لیکن فی الحال اس کی سوچ یہ نہیں ہے۔ اگر مجھے سے پوچھیں تو میں یہی کہوں گا کہ اس میں ان کا اپنا نقصان ہے۔ نگورنو-قاراباخ کا قبضہ ختم ہونے کے بعد سب کچھ مذاکرات کے ذریعے طے ہوگا۔”

تبصرے
Loading...