ترکی کا اسپرے صرف 1 منٹ میں کرونا وائرس کا خاتمہ کرے

0 315

ترکی کے سائنس دانوں نے ناک میں لگانے والا ایسا اسپرے تیار کیا ہے جو کووِڈ-19 کا سبب بننے والے کرونا وائرس کا صرف 1 منٹ میں خاتمہ کر دیتا ہے۔

یہ کارنامہ ترکی کی بروصہ اولوداغ یونیورسٹی کے ماہرین نے انجام دیا ہے، جن کا تیار کردہ ‘Genoxyn’ نامی محلول مہلک وائرس کا مکمل طور پر خاتمہ کر دیتا ہے۔ یہ اسپرے بنانے والی ٹیم میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر شہیمہ گولسن تیمل، آپریٹر ڈاکٹر احمد امید سبانجی اور ڈاکٹر جنید اوزاقین شامل تھے کہ جن کا تعلق اولوداغ یونیورسٹی کے میڈیکل مائیکروبایولوجی ڈپارٹمنٹ سے ہے۔

تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ ان کا تیار کردہ یہ محلول مختلف جراثیم اور وائرسز سے تحفظ دیتا ہے۔ ڈاکٹر احمد سبانجی نے کہا کہ "وہ اس حوالے سے کرونا وائرس کی وباء شروع ہونے سے پہلے سے تحقیق کر رہے تھے۔ جنید اوزاقین کے ساتھ مل کر ایک جراثیم کش محلول بنایا تھا اور اِس وباء کے آغاز کے بعد ہم نے سوچا کہ ہم کووِڈ-19 کے خلاف بھی کوئی ایسا کوئی سلوشن بنا سکتے ہیں یا نہیں۔ پھر ہم نے ایک نیا منہ اور ناک میں استعمال کرنے والا اسپرے بنایا اور اسے biocompatibility ٹیسٹس کے لیے بھجوایا۔”

انہوں نے مزید کہا کہ "جیسا کہ ہمیں معلوم ہے کہ وائرس منہ اور ناک کے راستے جسم میں داخل ہوتا ہے اور ہماری تحقیق نے پایا کہ یہ محلول منہ اور ناک کے ٹشوز میں موجود وائرسز کا خاتمہ کر دیتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اس کے خلیات میں داخل ہونے سے روکنے اور وائرس کی تعداد کو کم کرنے کی کوشش کامیاب ہوئی۔ یہ محلول ایک اچھا محافظ ثابت ہوگا۔”

ڈاکٹر شہیمہ نے کہا کہ انہوں نے ثابت کیا یہ محلول منٹوں میں وائرس کا خاتمہ کرتا ہے، اور سب سے اہم بات کہ یہ خلیات کی جھلی کو بھی نقصان نہیں پہنچاتا۔ ہم نے یہ تک ظاہر کیا کہ یہ خلیات کی بحالی کے اثرات رکھتا ہے۔ اس لیے اس کا استعمال محفوظ ہے اور یہ انسانی خلیات کو نقصان نہیں پہنچاتا۔

جنید اوزاقین نے کہا کہ "ڈاکٹر امید دو سال پہلے یہ محلول لے کر آئے تھے کہ اس کی جراثیم کش سرگرمیوں کی جانچ کی جائے۔ بین الاقوامی معیارات کے مطابق جانچ میں ہم نے پایا کہ یہ محلول بافتوں کی بحالی اور سوزش سے بچانے کے لیے استعمال ہو سکتا ہے۔ گو کہ اس کے بنیادی اجزاء تو سالہا سال سے علم میں تھے لیکن مسئلہ یہ تھا کہ اُن کے استعمال کے انسانی صحت پر اثرات پڑتے تھے۔ گو کہ یہ اثرات مستقل نہیں تھے لیکن پھر بھی اس کی ساخت تیزی سے خراب ہو رہی تھی۔”

"اس لیے اس پروڈکٹ پر کچھ کام کرنا پڑا جس کے بعد جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے اس کے اثرات مستقل ہو گئے۔ نینو ٹیکنالوجیکل ایپلی کیشنز کے ساتھ اس نے دیرپا اثرات دکھانا شروع کیے۔ اب یہ انسانی صحت کو نقصان پہنچائے بغیر اپنا بھرپور کام کرتی ہے۔”

ڈاکٹر جنید نے کہا کہ اس محلول کو ابتداء میں عام وائرسز کے خلاف ٹیسٹ کیا گیا تھا، لیکن کرونا وائرس کی وباء شروع ہونے پر سب کی توجہ اس جانب مبذول ہو گئی۔ تمام ضروری جانچ کے بعد تین ماہرین نے اس محلول کو جدید کرونا وائرس پر اثرات مرتب کرنے والا حل پایا۔ "ہم نے عملی مظاہرہ کیا کہ یہ جراثیم اور وائرس، خاص طور پر جدید کرونا وائرس کے خلاف مؤثر ہے۔”

تبصرے
Loading...