جمال عبد الناصر اور عرب فوجی اقتدار کا عروج

منیر اے سعید

0 211

مصر کے صدر محمد مرسی اور اُن کے بعد ان کے صاحبزادے کی اتنے ہی پراسرار انداز میں موت بتاتی ہے کہ اپنا اقتدار بچانے کے لیے عرب دنیا کی فوجی حکومتیں کس حد تک جا سکتی ہیں۔ مرسی نہ صرف ملک کے پہلے سویلین صدر تھے، بلکہ مصر کی پوری تاریخ میں آزادانہ طور پر منتخب ہونے والے ملک کے پہلے رہنما بھی تھے۔

گو کہ 3 جولائی 2013ء کی بغاوت نے اُن کی حکومت کا تختہ الٹ دیا، لیکن اپنی چھ سالہ قید کے دوران مرسی بدستور ملک کے قانونی طور پر منتخب ہونے والے صدر تھے۔ یہ ایک ایسا دعویٰ تھا جو مصر پر قابض فوجی جنتا کے لیے کُھلا چیلنج تھا۔ جون 2019ء میں مرسی کی موت کے ساتھ ساتھ چاہے وقتی طور پر سہی لیکن عبد الفتح سیسی کی فوجی حکومت نے سکون کا سانس ضرور لیا ہوگا۔

2011ء میں شمالی افریقہ میں تونس سے جزیرہ نما عرب میں یمن تک عرب بہار کا آغاز ہوا اور اس کا بنیادی ہدف عرب جمہوریتوں پر قابض فوجی اقتدار تھے۔ حیرت ہے کہ عرب دنیا کی وہ مطلق العنان بادشاہتیں کہ جن کے تختے الٹ کر فوجی اقتدار میں آئے، اب اربوں ڈالرز خرچ کرکے ان فوجی حکومتوں کو گرنے سے بچانے کی کوشش کر رہی ہیں۔

بلاشبہ سیاست میں بھی بے غرض کچھ نہیں ہوتا۔ عرب بادشاہتیں جو خود غیر مستحکم ہیں، عرب علاقوں میں ایک شفاف اور قابلِ احتساب سیاسی عمل کو ابھرتے دیکھنا اُن کے لیے ناقابلِ برداشت ہے کہ یہ فوجی اقتدار کی جگہ لے اور یوں اُن علاقوں کے عوام کو بادشاہتوں کے خلاف کھڑا ہونے کا حوصلہ ملے، جو ناگزیر ہے۔

واحد متبادل؟

فوجی حکومت طویل عرصے تک عرب علاقوں میں نو آبادیاتی دور یا ملوکیت کا واحد متبادل سمجھی جاتی تھیں۔

کرنل جمال عبد الناصر کی جانب سے 1952ء میں پہلے شاہ فاروق کے خلاف اور پھر اپنے ساتھی باغی کرنل محمد نجیب کے خلاف بغاوت سے مصر کا اقتدار سنبھالنے کے بعد فوجی حکومتیں آزاد عرب جمہوریتوں میں ایک عام بات بن گئیں۔

مصر اور بعد میں یمن، لیبیا، سودان، شام اور عراق میں ہونے والی بغاوتوں کو عوامی "انقلابات” کے طور پر مشہور کیا گیا۔ لیکن عوام ان میں شاید ہی نظر آئے۔

یہ مکمل طور پر فوجی معاملہ تھے اور آئندہ دہائیوں میں بھی ایسے ہی رہے۔ حتیٰ کہ ان چند ترقی پسند دانشوروں نے بھی کہ جنہوں نے تبدیلی کی غرض سے ان فوجی بغاوتوں کی حمایت کی تھی، جلد ہی اس سے ہاتھ کھینچ لیا اور ملک کے مستقبل میں کوئی بھی کردار ادا کرنے سے دُور رہے۔ البتہ تب کے فوجی "انقلابات” اور آج کی عرب بہار جیسے بڑے عوامی انقلابات میں کوئی بھی مماثلت تلاش کرنا ناممکن ہے، کہ جن کا آغاز 2011ء میں تونس سے یمن تک فوجی حکومتوں کے خلاف ہوا اور آج بھی جاری و ساری ہے۔

مجھے یاد ہے کہ 1960ء کی دہائی میں عدن، یمن کے اسکول میں دورانِ تعلیم ہماری نوٹس بکس پر ناصر اور اُن کے ساتھی فوجی عبد الحکیم عامر کی تصاویر پہلے صفحے پر ہوتی تھیں جو اپنے فوجی یونیفارم میں با اعتماد اور طاقتور نظر آتے تھے۔

نوعمری سے ہی عرب دنیا میں ہر جگہ ہمیں نہ صرف یہ پٹی پڑھائی جاتی تھی کہ ناصر ایک عرب رہنما ہیں جن سے کوئی غلطی نہیں ہو سکتی، بلکہ یہ بھی کہ فوجی حکومت ہی اقتدار کا واحد طریقہ ہے۔

ہمیں سویلین اقتدار بلکہ آئین کا تصور تک معلوم نہ تھا۔ بڑے ہونے کے بعد میں نے لفظ "آئین” کا مطلب سمجھا لیکن اسکول میں "مدنیت” کی کلاس میں نہیں! جی ہاں، حیران کُن طور پر ہماری مدنیت کی کلاسیں بھی ہوتی تھیں۔

ناصر کا دور

استعمار کے خلاف افریقی-عرب انقلابی تحاریک تیار کرنے میں کامیابی کے باوجود فوجی آمریت کا قیام اور اسے حکومت کرنے کے واحد قانونی طریقے کے طور پر پیش کرنا ناصر کے عہد کے بڑے سانحات میں سے ایک تھا۔

جس کو ہم نے 60 سال تک بھگتا اور اب بھی مشاہدہ کر رہے ہیں وہ ایک سوئے ہوئے آتش فشاں کا پھٹ پڑنا ہے۔ ایک انقلابی رہنما کے طور پر ناصر نے جو کچھ حاصل کیا، قومی رہنما کی حیثیت سے اسے کھو دیا اور تضاد اسی میں پنہاں ہے۔

ایک انقلاب کی قیادت کرنا اور ایک قوم کی رہنمائی کرنے میں فرق ہوتا ہے۔ "انقلاب” کی دہائیوں کے بعد بھی قذافی کا لیبیا اور صدام کا عراق انقلابی کونسل چلاتی تھیں! ناصر کی بغاوت یا "انقلاب” کے 60 سال بعد بھی مصر اپنے تمام گھروں کو بجلی یا صاف پانی فراہم کرنے کے قابل نہیں۔

اور 50 سے زیادہ سالوں سے جو مصر کے لیے حقیقت ہے، وہ یمن کے لیے بھی حقیقت ہے کہ بغاوت (المعروف انقلاب) کے بعد یکے بعد دیگرے دوسری فوجی جنتا اقتدار سنبھالے گی۔ انقلابی خطابت طاقت کے حصول کا ذریعہ اور نااہلی کو چھپانے کا طریقہ بن گئی۔ یوم قوم کی تعمیر ترجیحات میں کہیں پیچھے رہ گئی۔

ادب کی طرح تقاریر میں بھی آج کی فوجی حکومتیں انقلابی تحاریک کی رہنمائی کر رہی ہیں، قوم کی نہیں۔ مفت تعلیم، صحت کی مفت سہولیات اور عوام کو استعماری مظالم سے آزادی دلانے کے قبل از انقلاب کے وعدوں کی جگہ ملک کو "سازشی” طاقتوں سے بچانے کے عہد نے لے لی۔

یمن مین صالح بار بار کہتے تھے کہ فوجی ایک سیفٹی والو ہے۔ عرب میں ہر فوجی حکمران نے یہی دعویٰ کیا ہے۔ درحقیقت قوم کے لیے سیفٹی والووز کا تصور گورننس کے آئینی ادارے ہیں: ایک منتخب صدر، ایک آزاد عدلیہ، قابلِ احتساب مقننہ اور ایک آزاد ذرائع ابلاغ، جو وجود نہیں رکھتا، یوں "انقلاب” جاری و ساری رہتا ہے۔

فوجی حکومت میں ہونے والی بدعنوانی پر سوال نہیں اٹھایا جاتا۔ یمن میں مصر کی طرح فوج کھلے عام اور قانونی طریقے سے، ریاست کے وسائل کا استعمال کرتے ہوئے، نجی شعبے کا براہِ راست مقابلہ کرتے ہوئے، تعمیرات، غذائی صنعت یہاں تک کہ ملبوسات سازی میں بھی کمرشل ادارے چلاتی ہے۔ ان اداروں کا منافع کہاں جاتا ہے، یہ جاننا مشکل نہیں ہے۔ عسکری ساز و سامان کا حصول بھی فوجی رہنماؤں کے لیے دولت حاصل کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔ اس پورے عمل کے سامنے کھڑے ہونے والے یا تو سرے سے موجود ہی نہیں یا یمن کی طرح ان کی تعداد بہت معمولی ہے۔

مجھے یمن کے صدر فیلڈ مارشل علی عبد اللہ صالح کی جانب سے بلائی گئی ایک میٹنگ یاد آ رہی ہے کہ جو امریکی ڈالر کے بڑھتے ہوئے بحران پر بات کرنے کے لیے طلب کی گئی تھی۔ صدر نے کاروباری افراد کے ہمارے چھوٹے سے گروہ پر بحران کو "بڑھانے” اور "مصیبتیں کھڑی کرنے” کا الزام لگایا، میرے ساتھ بیٹھے ایک کاروباری فرد نے کہا "جناب صدر! آپ مصیبتیں پیدا کرنے والوں کو جانتے ہیں۔ وہ اپنا کام کر جاتے ہیں کیونکہ آپ نے انہیں چھوٹ دے رکھی ہے، اگر آپ انہیں روکنا چاہیں تو آپ اس کا اختیار رکھتے ہیں۔” صدر صالح کی گفتگو کچھ دیر تک جاری رہی اور پھر وہ غصے میں باہر نکل گئے۔ ایک شفاف اور آزاد سیاسی عمل نہ ہونے کی وجہ سے ایسی آوازیں کم ہی اٹھتی ہیں اور بدعنوانی بلا روک ٹوک جاری رہتی ہے۔

استعمار مخالف رویہ

ناصر نہ نہ صرف عرب ذہنوں میں استعمار مخالف شعور پیدا کیا بلکہ اس کے برعکس عوام اور فوج کے درمیان عدم اعتماد کی فضا بھی بنائی۔ ہتھیار اٹھائے ہوئے نوجوان کیڈٹس جو پسماندہ ترین علاقوں سے آتے ہیں، نہ صرف ظلم کرنے کے لیے ذریعہ بنائے جاتے ہیں، خود بھی باقی شہریوں کی طرح ظلم کا شکار ہی ہوتے ہیں۔

بدقسمتی سے عرب بہار میں سڑکوں پر اس حقیقت کو دیکھنا مشکل نہیں کہ جہاں نوجوان سپاہی اپنے ہی ہم وطنوں پر مظالم ڈھا رہے ہیں۔ اور تبدیلی کے لیے اٹھنے والے معمولی اقدام کو بھی فوجی اقتدار کی جانب سے شدت کے ساتھ کچلا جاتا ہے، یہ طریقے ماضی کے مظالم کو بھی شرما دیں۔

اب جبکہ عرب دنیا کا پینڈولم گھوم رہا ہے، مستقبل ظاہر کرتا ہے کہ عرب بہار تاریخ کی بدترین بدلے کی آگ کے طور پر واپس آئے گی اور نہ صرف ان فوجی حکومتوں بلکہ ان کے علاقائی سرپرستوں کو بھی راکھ کر دے گی۔ بالآخر جیت عوام کی ہوگی۔

تاریخ بتاتی ہے کہ لیپا پوتی کرکے عوام کو دھوکا دے کر خوش نہیں کیا جا سکتا اور نہ انہیں تشدد کے ذریعے دبایا جا سکتا ہے۔ جو عرب دنیا کے دھماکا خیز حالات کو دیکھ رہے ہیں، خود کو دھوکا دے رہے ہیں اور سمجھ رہے ہیں کہ سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا یا انقلاب مخالف طاقتوں کو سہارا دے رہے ہیں، وہ اپنے خوف اور اندیشوں کی وجہ سے ایسا کر رہے ہیں۔

بھڑکے ہوئے عرب عوام 60 سال کے مظالم کی زنجیریں توڑتے ہوئے نہ صرف فوجی حکومتوں کو احتساب کے کٹہرے میں لائیں گے بلکہ ان کے علاقائی سرپرستوں اور دور پرے بیٹھے حامیوں کو بھی۔

ماضی میں ایسا کبھی نہیں ہوا کہ عرب دنیا نے اپنی سرحدوں کے اندر اور باہر موجود طاقتوں کو موقع دیا ہو کہ وہ آہستہ آہستہ ماضی کے داغ مٹائے اور ایک ابھرتے ہوئے مستقبل کی جانب بڑھے، جو بدعنوان آمریتوں اور ان کے سرپرستوں کے خاتمے کا عہد کرتا ہو۔

تبصرے
Loading...