ہماری قوم نے ہماری ذمہ داری لگائی ہے کہ ہم ایک عظیم اور مضبوط ترکی قائم کریں، ایردوان

0 245

آق پارٹی ریضے کی صوبائی کانگریس سے خطاب کرتے ہوئے ترک صدر ایردوان نے کہا کہ ترک قوم نے ہماری ذمہ داری لگائی ہے کہ ہم ترکی کو ایک عظیم اور مضبوط ملک بنائیں، انہوں نے کہا: "جیسے ہی ہم اپنے ذمہ داری کو پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں، ہم اندرون و بیرون ملک سے حملوں کی زد میں آتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ حملے ہم پر یا ہماری پارٹی پر نہیں ہوتے بلکہ ہمارے ملک اور ہماری قوم پر ہوتے ہیں”۔

بہت سی غلطیاں ایسی ہوتی ہیں جو بے وقوف نہیں بناتیں بلکہ جو انہیں کرتا ہے اسے قابل حقارت بنا دیتی ہیں

اس حقیقت کو کہ ترکی ایک مضبوط ملک بن چکا ہے کیونکہ جس ملک پر حملوں کی شدت بڑھ جائے اس کی وجہ اس کی ابھرتی ہوئی طاقت ہوتی ہے۔۔ ترک صدر نے ناروے میں ناٹو مشقوں میں ترکی کے خلاف رویے پر بات کرتے ہوئے کہا: "بہت سی غلطیاں ایسی ہوتی ہیں جو بے وقوف نہیں بناتیں بلکہ جو انہیں کرتا ہے اسے قابل حقارت بنا دیتی ہیں۔ یہ بھی ایک ایسا ہی واقعہ ہے۔ میں اس بدتمیزی کو سمجھتا ہوں جس کا ہدف مجھے اور بانی ترکی، مصطفےٰ کمال اتاترک کو بنایا گیا ہے۔ جو کچھ ہم نے ناٹو مشقوں میں دیکھا یہ ایک مسخ شدہ نقطہ نظر کی عکاسی کرتا ہے”۔

صدر ایردوان نے مزید کہا: "ناٹو پر اعتبار تمام ممبران ممالک کی طرف سے ایک سوالیہ نشان بن چکا ہے۔ جب ہمیں شام سے خطرات لاحق تھے تو انہوں نے اچانک سے میزائل ڈیفینس سسٹم ہٹا لیا جس سے یہ تاثر بن گیا کہ اگر ترکی پر شام کی طرف سے کوئی حملہ ہوا تو یہ اتحاد کوئی ردعمل ظاہر نہیں کرے گا۔ اپنے دفاع کے لیے روس سے ایس-400 ائیر ڈیفنس سسٹم کی خریداری پر ناٹو کے بڑے ممالک کا ردعمل نے اس بگاڑ کو واضع کر دیا تھا۔ اس سے قبل یونان، سلوواکیا اور بلغاریہ اس دفاعی سسٹم کے پرانے ورژن خرید چکے ہیں۔ جنہوں نے اس وقت لب نہیں کھولے تھے اب ترکی نے خریدا کو چیخ اٹھے۔نہایت ادب کے ساتھ، جب ترکی اس معاملے میں کوئی قدم اٹھاتا ہے تو دوسروں سے مشورہ نہیں، اپنی قوم کی تائید سے آگے بڑھتا ہے”۔

دفاعی انڈسٹری میں سرمایہ کاری

ناروے میں ناٹو مشقوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ترک صدر ایردوان نے کہا: "ناٹو مشقوں کے دوران ہونے والی غفلت اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے اشتعال انگیزی کی کوششیں ایسے عمل نہیں جو محض معافی مانگنے سے ختم ہو جائیں گے”۔ ہر ہونے والا نیا واقعہ اس بات کی اہمیت بڑھا دیتا ہے کہ ترکی کو اپنا مضبوط دفاعی نظام بنانے کی ضرورت ہے۔

ایردوان نے کہا کہ ایس-400 ڈیفنس سسٹم کی خریداری ہو چکی ہے اور یہ نظام بہت جلد انسٹال کر دیا جائے گا جیسے فنانسنگ کے معاملات طے پا جائیں گے۔ اور ترکی اس جیسے دفاعی نظام بنانے کی بھرپور کوشش بھی جاری رکھے گا۔

انہوں نے بتایا کہ ترکی اپنے اتحادی ممالک سے بغیر پائلٹ سے چلنے والے فضائی طیاروں کی درخؤاست کرتا رہا لیکن اس کی درخواست کو رد کیا جاتا تھا۔ اب ترکی اپنے یو اے ویز بنا چکا ہے، انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ترکی کے اپنے تیار کردہ ہتھیار قطر ترک اڈے پر پہچا دئیے گئے ہیں۔

ترکی اپنا دفاعی نظام قائم کرے گا

ترک صدر ایردوان نے یہ بھی بتایا کہ قبرس امن آپریشن کے دوران بھی ترکی کو ریڈیو کی فراہمی نہ کی گئی جو ان کے اس رویے کی غمازی کرتا ہے۔ اب اللہ کا شکر ہے کہ ترکی اپنے دفاعی ریڈیو تیار کرنے لگا ہے "الحمد للہ، ترکی ایک ایسے مقام پر پہنچ چکا ہے جہاں وہ تمام الیکٹرانک گیڈگٹس کا معاملات حل کر سکتا ہے۔ مستقبل قریب میں ترکی اپنا ہوائی دفاعی نظام قائم کر لے گا اور اسے اپنے دوستوں سے شیئر بھی کرے گا۔ تاحال اضافی بھاری ٹنوں بارے مختلف ورژنوں کا مطالعہ جاری ہے۔ جب وہ مکمل کر لیں گے، یہ سب کے لیے جھٹکا دے گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ کسی کو اجازت نہیں دیں کہ اپنے زیر دست ٹیکنالوجی کی بدولت ترکی کو ڈرائیں۔

انہوں نے یہ بتاتے ہوئے کہ ہماری قوم نے ایک مضبوط اور عظیم ترکی بنانے کی ذمہ داری ہمیں دی ہے، کہا: "جیسے ہی ہم اپنے ذمہ داری کو پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں، ہم اندرون و بیرون ملک سے حملوں کی زد میں آتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ حملے ہم پر یا ہماری پارٹی پر نہیں ہوتے بلکہ ہمارے ملک اور ہماری قوم پر ہوتے ہیں”۔

ہم ہر ہونے والے عمل اور بات سے آگاہی رکھتے ہیں

ایردوان نے مزید کہا: "ابھی حال ہی میں وہ داعش کے خلاف جنگ کے نام پر کرد دہشتگردتنظیموں کو ہتھیار، رقم اور سیاسی تعاون فراہم کرتے رہے ہیں۔ اس وقت جب دونوں کرد دہشتگرد تنظیمیں رقعہ میں باہمی طور پر الجھیں تب فیکٹری مالکان نے کیا کہا، اور جب ان کے دوغلے تعلقات آشکار ہوئے تب کیا ہوا؟ انہوں نے کہا ہم اس کا احترام کرتے ہیں۔ کیا ہم اتحادی نہیں رہے؟ یہ کیسا اتحاد ہے؟

انہوں نے کہا کہ جو دہشتگرد تنظیموں کے ذریعے اپنے مفادات کو آگے بڑھا رہے ہیں، خصوصا داعش اور کرد پی وائی ڈی ایک ہی فیکٹری لائن میں تیار کی گئیں۔ انہیں یہ حق نہیں رہا کہ وہ دہشتگردی کے خلاف ایک لفظ بھی منہ سے نکالیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا دیکھ رہی ہے کہ کون دہشتگردی کے لڑ رہا ہے اور کون دہشتگردی کے ذریعے انتشار پھیلا رہا ہے۔

دہشتگردی کے خلاف جاری آپریشن بارے ایردوان نے کہا کہ فیتو دہشتگرد تنظیم کے کئی ممبران پینسلوانیا کی طرف بھاگے ہیں جہاں ان کا رہنما رہائش پذیر ہے اور کئی یورپی ممالک کی طرف دوڑے ہیں تاکہ ترکی کے خلاف اتحاد قائم کیا جائے اور دوبارہ قومی اداروں کے اندر اپنے اثرات کو موثر بنایا جائے۔

جو دنیا پر اپنا سکہ چلانا چاہتے ہیں، وہ بہت جلد جان جائیں گے کہ وہ غلطی پر ہیں

رجب طیب ایردوان نے کہا: "ہم ایک ایسے ملک پر کیسے اعتماد کر سکتے ہیں؟ جو ان دہشتگرد تنظیموں کو تحفظ دیتا ہے جو ترکی میں متفقہ طور پر دہشتگرد تنظیمیں تسلیم کی جاتی ہیں، جو دنیا پر اپنا سکہ چلانا چاہتے ہیں وہ جلد جان جائیں گے کہ وہ غلطی پر ہیں”-

تبصرے
Loading...